Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کو ’ سنہری ریاست ‘ بنانے چیف منسٹر کے سی آر کا عہد

تلنگانہ کو ’ سنہری ریاست ‘ بنانے چیف منسٹر کے سی آر کا عہد

سابق حکومتوں پر غریبوں کو بنجر اراضیات کی فراہمی کا الزام ، گجویل میں گراماجیوتی پروگرام ، عوام سے تعاون کی خواہش

سنگاریڈی /21 اگست ( پی ٹی آئی ) تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے کہا ہے کہ آندھراپردیش کی گذشتہ سال تقسیم سے قبل کئی سابق حکومتوں نے درجہ فہرست طبقات و قبائل کے افراد کو ایسی بنجر اراضیات کی پیشکش کی تھی جو ناقابل زراعت تھیں ۔ چندر شیکھر راؤ نے کہا کہ ’’ ماضی کی حکومتوں نے درجہ فہرست طبقات و قبائل سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایسی پتھریلی اور بنجر زمینات دی تھی جو زراعت کیلئے استعمال نہیں کی جاسکتی تھیں ۔ چنانچہ موجودہ حکومت ان تمام اراضیات کے موقف ، مقام اور زراعت کیلئے اس کے استعمال کے بارے میں تفصیلی سروے کرائے گی اور ان اراضیات کو قابل کاشت اور فائدہ مند بنانے کیلئے ممکنہ مدد کی جائے گی ‘‘ ۔ چیف منسٹر یہاں اپنے اسمبلی حلقہ گجوال کے تحت موضع اراولی میں ’ گراما جیوتی ‘ پروگرام کے دوران صفائی مہم میں حصہ لے رہے تھے ۔ گراما جیوتی پروگرام کا مقصد دیہاتوں کی جامع ترقی پر مبنی ہے ۔ کے سی آر نے کہا کہ ’’ خدا ، ہر اچھے کام کی مدد کرے گا اور حکومت تلنگانہ کی منفرد فلاحی و ترقیاتی سرگرمیوں میں خدا کی مدد شامل رہے گی ‘‘ ۔ این ایس ایس کے مطابق کے سی آر نے جگدیوپور منڈل کے تحت دوردراز کے ایک غیر معروف گاؤں یراویلی کی سڑکوں پر جھاڑو کی اور کچرا اُٹھاکر قریب ہی موجود ٹریکٹر میں ڈال دیا ۔ چیف منسٹر نے دیہاتوں کے ساتھ دوپہر کا کھانا بھی کھایا ۔ انہوں نے اس گاؤں کے گلی کوچوں کا پیدل دورہ کیا اور یراویلی کو ’ سنہرا گاؤں ‘ بنانے کا عہد کیا اور عوام پر زور دیا کہ وہ بھی ان کاموں میں سرگرم حصہ لیں ۔ انہوں نے دیہاتیوں پر زور دیا کہ وہ غفلت و لاپرواہی سے گریز کریں اور کچرا سڑکوں پر پھینکنے کے بجائے کوڑے دان میں ڈالیں کیونکہ کچرے کے سبب وبائے پھوٹ پڑتی ہیں تاہم ماحول کی صفائی کا شعور بیدار کرتے ہوئے ان وباؤں کو پھوٹ پڑنے سے روکا جاسکتا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT