Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کیساتھ این ڈی اے حکومت کا غیر معاون رویہ

تلنگانہ کیساتھ این ڈی اے حکومت کا غیر معاون رویہ

وزیراعظم کی جانب سے نئی ریاست کا دورہ نہ کرنے پر عوام کے جذبات مجروح : کویتا
ورنگل 9 فروری (پی ٹی آئی) تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی دختر اور حلقہ نظام آباد کی ٹی آ ایس رکن لوک سبھا کلوا کنٹلہ کویتا نے کہا ہے کہ این ڈی اے حکومت ، تلنگانہ کے تئیں معاون و مددگار نہیں ہے اور نئی ریاست اپنے حقوق کے لئے جدوجہد پر مجبور ہوگئی ہے۔ کویتا نے اس بات پر بھی افسوس کا اظہار کیاکہ وزیراعظم نریندر مودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک مرتبہ بھی تلنگانہ کا دورہ نہیں کیا۔ کویتا نے کہاکہ ’’یہ حقیقت ہے کہ ’’مودی جی نے ایک مرتبہ بھی تلنگانہ کا دورہ نہیں کیا۔ ممکن ہے کہ اس سے ان (وزیراعظم) کی سمجھ بوجھ کا اظہار ہوتا ہے یا پھر کچھ اور … میں نہیں جانتی کہ آیا یہ نئی ریاست کی ترقی کے ارادہ کا فقدان ہے‘‘۔ وزیراعظم کے متعدد بیرونی دوروں کا تذکرہ کرتے ہوئے کویتا نے کہاکہ ’’جی ہاں دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا ضروری ہوتا ہے لیکن ہماری اپنی ریاستیں بھی مساویانہ طور پر اہم ہوتی ہیں۔ بالخصوص آندھراپردیش اور تلنگانہ جیسی نئی ریاستیں زیادہ اہم ہیں۔ یہ دونوں ریاستیں مرکز کی خصوصی توجہ کی مستحق ہیں۔ اس سوال پر کہ آیا 3 جون 2014 ء کو وجود میں آنے والی ملک کی 29 ویں ریاست کا نریندر مودی کے وزارت عظمیٰ پر فاطز ہونے کے بعد تاحال کوئی دورہ نہ کئے جانے پر تلنگانہ کے عوام کے جذبات مجروح ہوئے ہیں۔ کویتا نے جواب دیا کہ ’’ایسا ہوا ہے‘‘۔ کویتا نے مزید کہاکہ تلنگانہ اب معمولی مسائل پر بھی اپنے حقوق کے لئے لڑنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ ’’یہ اچھا محسوس نہیں ہوتا کیوں کہ ریاست ایک دستوری ادارہ کی حیثیت سے ایک قسم کے احترام کی مستحق ہے۔ میں نہیں سمجھتی حتیٰ کہ آندھراپردیش کو بھی کسی قسم کا کوئی احترام حاصل ہورہا ہے‘‘۔

TOPPOPULARRECENT