Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کی آمدنی 150 کروڑ روپئے گھٹ گئی

تلنگانہ کی آمدنی 150 کروڑ روپئے گھٹ گئی

جی ایس ٹی پر عمل آوری کا اثر ، سرکاری حلقوں میں تشویش
حیدرآباد ۔ 14 ۔ ستمبر : ( سیاست نیوز ) : جی ایس ٹی پر عمل آوری سے تلنگانہ کی آمدنی 150 کروڑ روپئے گھٹ گئی ۔ ورکس کنٹراکٹس پر 6 ہزار کروڑ روپئے کا مالی بوجھ عائد ہوگیا ہے ۔ جس سے سرکاری حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ گذشتہ سال اگست میں بطور ٹیکس ریاست تلنگانہ کو جو آمدنی ہوئی جاریہ اگست میں وہ 150.86 کروڑ روپئے گھٹ گئی ہے ۔ ورکس کنٹراکٹس پر 12 فیصد جی ایس ٹی نافذ کردینے سے حکومت پر 6 ہزار کروڑ روپئے کا مالی بوجھ عائد ہوگیا ہے ۔ جی ایس ٹی پر عمل آوری سے آمدنی گھٹنے پر بشمول تلنگانہ ملک کے مختلف ریاستوں میں تشویش کی لہر دیکھی جارہی ہے ۔ ٹیکس کی شکل میں ماہانہ جو آمدنی ہوا کرتی تھی وہ گھٹ جانے سے جو خلاء پیدا ہوا ہے اس کو پر کرنے کے لیے مختلف پہلوؤں پر غور کیا جارہا ہے ۔ ورکس کنٹراکٹس پر شرح ٹیکس گھٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مرکزی حکومت پر دباؤ بنایا جارہا ہے ۔ جاریہ سال اگست میں بطور ٹیکس تلنگانہ کو 2661.28 کروڑ روپئے وصول ہوئے ہیں۔ پٹرول سے 682.69 کروڑ شراب کی فروخت سے 565.60 کروڑ اور دوسروں سے 154.20 کروڑ روپئے ایس جی ایس ٹی کے ذریعہ 840.79 کروڑ آئی جی ایس ٹی کے ذریعہ 418 کروڑ روپئے وصول ہوئے ہیں ۔ گذشتہ سال اگست میں 2822.14 کروڑ روپئے وصول ہوئے تھے ۔ جاریہ سال تلنگانہ کی آمدنی 150.86 کروڑ روپئے گھٹ گئی ہے ۔ ماضی میں ویاٹ سے ہونے والی آمدنی ریاستی خزانے میں جمع ہوا کرتی تھی ۔ جی ایس ٹی پر عمل آوری کے بعد ساری آمدنی مرکزی خزانے میں جمع ہورہی ہے ۔ مرکز کی جانب سے دئیے جانے والے حصہ پر ریاست کو انحصار کرنا پڑرہا ہے ۔ نتیجے میں آمدنی گھٹنے سے ریاست تشویش میں مبتلا ہے ۔ مرکزی حکومت نے جی ایس ٹی پر عمل آوری سے ریاستوں کے آمدنی میں اضافہ ہوجانے کا ملک کے تمام ریاستوں کو بھروسہ دلایا تھا لیکن ماہ اگست کے دوران تلنگانہ کی آمدنی گھٹ گئی ہے اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل کو لے کر حکومت تلنگانہ فکر مند ہے ۔ آمدنی کے گھٹ جانے سے حکومت کے باوقار اسکیمات پر اس کا اثر پڑنے کے امکانات کو ہرگز نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ اس کا اثر مشین بھاگیرتا ، مشین کاکتیہ کے علاوہ آبپاشی پراجکٹس پر بھی پڑ سکتا ہے ۔ ملک بھر میں 24,021 کروڑ روپئے کے آئی جی ایس ٹی ریاستوں میں تقسیم کرنا ہے ۔ جولائی اور اگست کے لیے ریاست کو 600 تا 800 کروڑ روپئے مرکز سے حصہ مل سکتا ہے جو کسی قدر راحت فراہم کرسکتا ہے مگر مستقبل میں آمدنی گھٹنے کو لے کر ریاست تلنگانہ پریشان ضرور ہے ۔۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT