Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کی تاریخ پر کتابیں نئی نسل کیلئے کارآمد ثابت

تلنگانہ کی تاریخ پر کتابیں نئی نسل کیلئے کارآمد ثابت

ایس اے رؤف و ایس کے صمد کی کتاب تلنگانہ چریترا کا رسم اجراء ، کودنڈا رام کا خطاب
حیدرآباد۔8فبروری(سیاست نیوز) علیحدہ ریاست تلنگانہ تحریک کی طویل جدوجہد اب تک تاریخی اورا ق میںمقام حاصل کرنے سے قاصر رہی ۔ غیرعلاقائی مورخین کی عصبیت کا شکار تلنگانہ تحریک کو ہمیشہ نظر انداز کیا جاتا رہا یہاں تک کہ تلنگانہ تحریک کے دوران تلنگانہ سے تعلق رکھنے والے ریاست کے پہلے چیف منسٹر کا نام تلاش کرنے پر بھی دستیاب نہیںتھا مگر اب وقت بدل چکا ہے حالات پچھلے بیس سالوں کی تلنگانہ تحریک نے علاقہ تلنگانہ کے دانشوروں میںایک نیا انقلاب برپا کیا ہے اور تلنگانہ تحریک کے متعلق ہر نشیب وفراز پر تفصیلی کتابیں آج دستیاب ہیں جو آنے والی نسلوں میںانقلابی کیفیت پیدا کرنے کافی بھی ہیں۔ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی چیرمن پروفیسرکودنڈارام قدیم پریس کلب بشیر باغ میںجناب ایس اے رئوف اور ایس کے صمد کی لکھی کتاب ’’تلنگانہ چریترا تحریک سے تشکیل تک ‘‘کی رسم اجرائی تقریب سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کے دوران ان خیالات کا اظہار کررہے تھے۔انہوں نے کہاکہ ماضی کے مورخین بالخصوص غیرعلاقائی تاریخ دانوں نے تلنگانہ کی تاریخ کو اکثر نظر انداز کیاہے جس کے نتیجے میںتلنگانہ ساہتیہ پوراٹا ‘ تلنگانہ مصلح جدوجہد‘ 1959مومنٹ کے علاوہ 1961کی تلنگانہ تحریک تاریخ کے اوراق میں کہیںگم ہوکر رہ گئی اور اس کے بدلے میںاپنی ضروریات کی تکمیل کے مطابق واقعات کو من گھڑت انداز میںپیش کرتے ہوئے غیرعلاقائی مورخین نے تلنگانہ کی حقیقی تاریخ سے کھلواڑ کا کام کیا ہے ۔پروفیسر کودنڈارام نے کہاکہ شریفانہ معاہدے کے حقائق سے بھی تلنگانہ کی عوام کو غیرعلاقائی حکمرانوں نے گمراہ رکھنے کاکام کیا ہے جبکہ1961کی تلنگانہ تحریک کے دوران بیجا پولیس کی گولیوں کا نشانہ بنائے گئے تلنگانہ حامیو ںکی تفصیلات بھی تاریخ کے اوراق سے گم کرنے میںغیرعلاقائی مورخین نے اہم رول ادا کیا ہے ۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ تحریک شدت اختیار کرنا اور تحریک میں دانشوروں کامتحرک ہونا تلنگانہ کی قدیم تاریخ کا سدباب ثابت ہوا ہے۔۔پروفیسر کودنڈارام نے کہاکہ انڈین یونین میںانضمام سے قبل ریاست حیدرآباد ایک خود مختار ریاست تھی اور جبکہ انڈین یونین میںانضمام کے تین سالوں تک بھی علاقے تلنگانہ کا شمار خود مختار ریاستوں میںہی تھا اس دوران پیش آئے واقعات کے حقائق کی پردہ پوشی کرتے ہوئے اس وقت کے غیرعلاقائی مورخین نے تلنگانہ کی حقیقی تاریخ کے ساتھ ناانصافی کی ہے۔ پروفیسر کودنڈارام نے تلنگانہ چریترا تحریک سے تشکیل تک جیسی کتابوں کوتلنگانہ اور یہا ںکی عوام کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو عوام کے سامنے لانے کا ایک بہتر ین ذریعہ قراردیا اور کہاکہ تلگوکے ساتھ انگریزی زبان میںبھی ایسی کتابوں کی اشاعت تلنگانہ کے ساتھ ہونے والے استحصال کو قومی سطح تک لے جانے میںمعاون ثابت ہوگی۔پروفیسر کودنڈارام نے مصنف ایس اے رئوف کودل کی گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتے ہوئے مستقبل قریب میںمذکورہ کتاب کے انگریزی ایڈیشن شائع کرنے کی توقعات بھی ظاہر کی ۔سابق رکن اسمبلی ومشی کرشنا‘جو پلی راجندرا ‘ ایس اے اظہر‘ کیسرا یم پی پی سجاتا کے علاوہ پدما وتی نے بھی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مذکورہ کتاب کی ستائش کی اور کتاب کو وقت کی اہم ضرورت بھی قراردیا۔

TOPPOPULARRECENT