Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کی یونیورسٹیز کے لیے وائس چانسلرس کے تقررات پر غور

تلنگانہ کی یونیورسٹیز کے لیے وائس چانسلرس کے تقررات پر غور

تجربہ کی حد میں تخفیف ، 9 یونیورسٹیز کے لیے اہل اساتذہ سے درخواستوں کی طلبی
حیدرآباد ۔ 21 ۔ ڈسمبر (سیاست  نیوز) حکومت نے تلنگانہ کی یونیورسٹیز کیلئے وائس چانسلرس کے تقرر کا عمل تیز کردیا ہے ۔ وائس چانسلر کے عہدہ کیلئے درکار اہلیت میں ترمیم کرتے ہوئے پروفیسر کی حیثیت سے 10 سالہ تجربہ کی شرط کو گھٹاکر 5 سال کردیا گیا ہے ۔ اس فیصلہ سے وائس چانسلر کے عہدہ کے خواہشمندوں کی تعداد میں اضافہ ہوجائے گا۔ حکومت نے شرائط میں ترمیم کرتے ہوئے باقاعدہ احکامات جاری کئے ہیں۔ میونسپل سکریٹری اعلیٰ تعلیم رنجیو آر اچاریہ کے مطابق وائس چانسلر کے عہدہ کے امیدوار کو چاہئے کہ وہ کسی یونیورسٹی میں پروفیسر کے عہدہ پر 5 سال کے تجربہ کے حامل ہوں یا پھر اسی معیاری ریسرچ آرگنائزیشن میں مساوی عہدہ پر 5 سال کا تجربہ رکھتے ہوں ۔ اس ترمیم سے قبل وائس چانسلر کے عہدہ کیلئے پروفیسر کی حیثیت سے 10 سالہ تجربہ ضروری تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت نے تلنگانہ میں زائد یونیورسٹیز اور 10 سالہ تجربہ کے حامل پروفیسرس کی کمی کو دیکھتے ہوئے یہ ترمیم کی ہے۔ اس کے علاوہ حکومت سے قربت رکھنے والے کئی پروفیسرس جو کم تجربہ کے حامل ہیں، انہوں نے بھی وائس چانسلر کے عہدہ کی دوڑ میں شامل ہونے کیلئے شرط میں ترمیم کی خواہش کی تھی ۔ اس طرح تقریباً ایک سال کے عرصہ کے بعد تلنگانہ کی 9 یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کا تقرر جلد عمل میں آئے گا۔ عثمانیہ یونیورسٹی ، کاکتیہ یونیورسٹی ، پالمور یونیورسٹی محبوب نگر ، تلگو یونیورسٹی ، ڈاکٹر بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی ، جواہر لال نہرو ٹکنالوجیکل یونیورسٹی حیدرآباد، ستاواہنا یونیورسٹی ، مہاتما گاندھی یونیورسٹی اور تلنگانہ یونیورسٹی میں وائس چانسلر کے عہدہ مخلوعہ ہیں اور انچارج وائس چانسلر کی حیثیت سے سرکاری عہدیدار فرائض انجام دے رہے ہیں۔ وائس چانسلر کے عہدہ کیلئے اہل امیدوار 8 جنوری تک پرنسپل سکریٹری اعلیٰ تعلیم کے پاس درخواستیں روانہ کرسکتے ہیں۔ انہیں اپنے بائیو ڈاٹا کے علاوہ تمام ضروری اسنادات پیش کرنے ہوں گے۔ توقع ہے کہ حکومت کی جانب سے قائم کردہ سرچ کمیٹی جنوری کے اختتام تک تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کے ناموں کو قطعیت دیدے گی۔ توقع ہے کہ 9 یونیورسٹیز میں تمام طبقات کو نمائندگی حاصل ہوگی۔ اقلیتی طبقہ کے ایک پروفیسر کو وائس چانسلر کے عہدہ پر مقرر کیا جاسکتا ہے ۔ تلنگانہ میں اقلیتی طبقہ سے تعلق رکھنے والے ایسے پروفیسرس کافی کم ہیں جنہیں اس عہدہ پر 10 سالہ تجربہ حاصل ہے۔

TOPPOPULARRECENT