Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے ائمہ و موذنین کو اعزازیہ کی پیشکشی ، رقم میں اضافہ کا تیقن

تلنگانہ کے ائمہ و موذنین کو اعزازیہ کی پیشکشی ، رقم میں اضافہ کا تیقن

ادخال درخواستوں کا سلسلہ برقرار رہے گا ، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 25 ۔ اپریل (سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے حکومت کی جانب سے 551 ائمہ اور مؤذنین کیلئے ماہانہ اعزازیہ کی رقم جاری کی۔ وقف بورڈ کی جانب سے آج حج ہاؤز میں تقریب منعقد ہوئی اور اسکیم کا باقاعدہ آغاز ہوا۔ پہلے مرحلہ میں حیدرآباد کے 551 ائمہ اور مؤذنین کو گزشتہ 9 ماہ کے بقایہ جات کے لحاظ سے فی کس 9000 روپئے کا چیک جاری کیا گیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے ہاتھوں بعض ائمہ اور مؤذنین کو چیک حوالے کئے گئے ۔ تقریب میں ارکان قانون ساز کونسل محمد فاروق حسین ، محمد سلیم اور ایم ایس پربھاکر کے علاوہ ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین ، اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور اور دوسروں نے شرکت کی۔ ماہانہ اعزازیہ کی اسکیم کے تحت 5000 ائمہ اور 5000 مؤذنین کو ماہانہ 1000 روپئے راست طور پر بینک اکاؤنٹ میں جمع کئے جائیں گے۔ اسکیم کیلئے 8934 درخواستیں داخل کی گئی ہیں۔ گزشتہ سال جولائی میں اسکیم کا اعلان کیا گیا تھا اور اس اعتبار سے بقایہ جات کے ساتھ رقم جاری کی گئی۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے ماہانہ اعزازیہ کی رقم کے ناکافی ہونے کا اعتراف کیا ہے اور تیقن دیا کہ حکومت جلد ہی اعزازیہ کی رقم میں اضافہ کرے گی ۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مہنگائی کے اعتبار سے ماہانہ ایک ہزار روپئے کی رقم میں اضافہ کیا جائے گا۔انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ ائمہ اور مؤذنین کو بطور تحفہ ماہانہ اعزازیہ ادا کرنا چاہتے تھے کیونکہ ائمہ اور مؤذنین کی دعاؤں سے تلنگانہ حاصل ہوا ہے۔ انہوں نے ائمہ اور مؤذنین سے اپیل کی کہ تلنگانہ کی ترقی اور گنگا جمنی تہذیب کی برقراری کیلئے دعا کریں۔ انہوں نے اقلیتوں کی تعلیمی ترقی اور اقامتی مدارس اسکیم کی کامیابی کیلئے دعا کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان میں اقلیتیں دلت سے زیادہ پسماندہ ہیں اور ان کی ترقی کیلئے تعلیمی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے۔ ٹی آر ایس حکومت نے جاریہ تعلیمی سال 71 اقامتی اسکولس کے آغاز کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جامعہ نظامیہ میں آڈیٹوریم کی تعمیر کیلئے 9.7 کروڑ روپئے منظور کئے گئے تھے۔ تاہم بعد میں اسے 14 کروڑ کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر شعبہ میں اقلیتوں کی ترقی ضروری ہے اور دنیاوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم پر بھی توجہ دی جانی چاہئے ۔ اقلیتوں کے اقامتی اسکولس میں اخلاقیات اور دینی تعلیم کا انتظام رہے گا۔ رکن قانون ساز کونسل فاروق حسین نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ حقیقی معنوں میں مسلمانوں کے ہمدرد ہیں اور انہوں نے اقلیتوں کی ترقی کیلئے کئی اقدامات کئے۔ انہوں نے 1986 ء کا ایک واقعہ بیان کیا جس میں سدی پیٹ میں مسجد کی تعمیر کی رکاوٹ پر رکن اسمبلی کی حیثیت سے کے سی آر نے نہ صرف مداخلت کی بلکہ اپنی نگرانی میں مسجد کا چھت ڈلوایا۔ کے سی آر نہ صرف زبان بلکہ دل سے بھی سیکولر ہیں۔ انہوں نے ائمہ سے اپیل کی کہ وہ چیف منسٹر کی صحت اور بارش کیلئے دعاء کریں۔ فاروق حسین نے ائمہ کے اعزازیہ میں اضافہ کی اپیل کی ۔ رکن قانون ساز کونسل محمد سلیم نے کہا کہ ہندوستان کے کسی چیف منسٹر نے ائمہ اور مؤذنین کیلئے اس طرح کی منفرد اسکیم شروع نہیں کی اور یہ صرف کے سی آر کا کارنامہ ہے۔ انہوں نے کہاکہ چیف منسٹر حقیقی معنوں میں سیکولر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ انہوں نے تلگو دیشم کو خیرباد کہتے ہوئے ٹی آر ایس میں شمولیت اختیار کرلی۔ محمد  سلیم نے کہا کہ ائمہ اور مؤذنین کو کوئی بھی امداد فراہم کرنے کا دعویٰ نہیں کرسکتا کیونکہ ان کا مقام و مرتبہ کافی بلند ہے۔ انہوں نے کہا کہ ائمہ اور مؤذنین کے آگے ہر بڑی شخصیت کا درجہ کم ہے کیونکہ یہ لوگ قوم کی امامت کرتے ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے کہا کہ بعض دشواریوں کے سبب اسکیم پر عمل آوری میں تاخیر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اعزازیہ کی رقم راست طور پر بینک اکاؤنٹ میں جمع کردی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ جن ائمہ اور مؤذنین نے ابھی تک درخواست داخل نہیں کی ہے، وہ اسکیم سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ اضلاع میں درخواستوںکے ادخال میں دشواری کی صورت میں عہدیداروں سے شکایت کرنے کا مشورہ دیا۔ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ محمد اسد اللہ نے خیرمقدم کیا اور اسکیم کی تفصیلات بیان کیں۔ انہوں نے بتایا کہ جن افراد کو چیک جاری نہیں کئے گئے ، ان کی درخواستوں کی جانچ جیسے جیسے مکمل ہوگی، اعزازیہ کی رقم جاری کردی جائے گی۔ قاضی فاروق عارفی نے کارروائی چلائی جبکہ حافظ صابر پاشاہ کی قراء ت سے کارروائی کا آغاز ہوا۔

TOPPOPULARRECENT