Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز اقلیتوں کے تربیتی مراکز میں تبدیل

تلنگانہ کے اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز اقلیتوں کے تربیتی مراکز میں تبدیل

غیر اطمینان بخش کارکردگی پر حکومت کا اقدام ، اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کو ذمہ داری
حیدرآباد ۔ 16 ۔ ڈسمبر (سیاست  نیوز) تلنگانہ حکومت نے شہر اور اضلاع میں موجود اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کو اقلیتوں کی ٹریننگ مراکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے لئے کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کی نگرانی کی ذمہ داری تلنگانہ اقلیتی فینانس کارپوریشن کو دی گئی ہے۔ فی الوقت یہ دونوں ادارے ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے تحت تھے لیکن ان کی عدم کارکردگی کے باعث حکومت نے انہیں اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے اس سلسلہ میں احکامات جاری کئے اور مینجنگ ڈائرکٹر  اقلیتی فینانس کارپوریشن کو ہدایت دی کہ وہ 43 کمپیوٹر ٹریننگ سنٹرس کے انتظامات اپنی نگرانی میں حاصل کرلیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود اردو لائبریریز کی منتقلی کیلئے علحدہ احکامات جاری کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ تلنگانہ میں جملہ 43 کمپیوٹر سنٹرس اور 30 لائبریریز کام کر رہی ہیں جن کے تحت موجود ملازمین کی تعداد 178 ہے۔ انہوں نے بتایا کہ وہ موجودہ لائبریریز اور کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بنانے کا منصوبہ رکھتے ہیں کیونکہ موجودہ تمام سنٹرس برائے نام کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سابق میں اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز اردو اکیڈیمی کے تحت تھیں لیکن 2013 ء میں انہیں ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے تحت کردیا گیا ۔ اس سلسلہ میں طئے کئے گئے معاہدہ کے تحت ان سنٹرس کی کارکردگی کی نگرانی ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کی ذمہ داری ہے جبکہ ڈسٹرکٹ میناریٹیز ویلفیر آفیسرس کی رپورٹ کی بنیاد پر تنخواہوں کی اجرائی کا کام اردو اکیڈیمی کے ذمہ کیا گیا تھا ۔ انہوں نے بتایا کہ ان اداروں کی کارکردگی کے بارے میں مایوس کن رپورٹ موصول ہوئی جس کے بعد انہوں نے اقلیتی فینانس کارپوریشن کے تحت منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ  کمپیوٹرس سنٹرس میں موجود کمپیوٹرس یا تو ناکارہ ہوچکے ہیں یا پھر انتہائی پرانے ہیں جس کے باعث سنٹرس کا وجود بے معنی ہوچکا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ نئے کمپیوٹرس فراہم کرتے ہوئے اقلیتی طلبہ کیلئے ٹریننگ کا آغاز کیا جائے ۔ اسی طرح موجودہ لائبریریز صرف اخبار بینی تک محدود ہوچکے ہیں۔ وہ ان لائبریریز میں اردو کی عصری کتابیں فراہم کرنے کا منصوبہ رکھتے ہیں ۔

اس طرح  کمپیوٹرس سنٹرس اور لائبریریز کو عصری تقاضوں کے مطابق ترقی دی جائے گی ۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ تقریباً 13 سال قبل کمپیوٹر سنٹرس کا آغاز کیا گیا تھا لیکن آج تک وہاں کمپیوٹرس تبدیل نہیں کئے گئے ۔ انہوں نے بتایا کہ وہ لائبریریز اور کمپیوٹرس سنٹرس کی عمارتوں کو اقلیتی طلبہ کے ٹریننگ پروگراموں کیلئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اقلیتی فینانس کارپوریشن میں ٹریننگ ایمپلائمنٹ کے تحت بجٹ موجود ہے جس سے استفادہ کرتے ہوئے ریاست کے تمام کمپیوٹرس سنٹرس اور لائبریریز کو عصری  بنایا جاسکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ فوری طور پر ان مراکز میں اقلیتی طلبہ کو ایس ایس سی امتحان کی  کوچنگ کا آغاز کیا جائے گا ۔ خاص طور پر ایسے طلبہ جو ایس ایس سی میں ناکام ہوچکے ہیں ، انہیں میاتھس ، تلگو اور انگلش جیسے مضامین کی کوچنگ دی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ پرانے شہر سے تعلق رکھنے والے اقلیتی طلبہ زیادہ تر ایس ایس سی امتحان میں ناکامی کے بعد تعلیم ترک کردیتے ہیں۔ انہیں تعلیم جاری رکھنے کا حوصلہ پیدا کرنے اور بہتر مستقبل کی مساعی کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود نے ایس ایس سی کوچنگ کے اہتمام کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ پرانے شہر کے طلبہ زیادہ سے زیادہ تعلیم سے وابستہ ہوجائیں اور تعلیم ترک کرتے ہوئے دیگر سرگرمیوں میں مبتلا نہ ہوں ۔ سید عمر جلیل نے کہا کہ حکومت اقلیتوں کی تعلیمی ترقی پر خصوصی توجہ مرکوز کر رہی ہے اور تعلیمی ترقی کے ذریعہ  انہیں مختلف شعبوں میں روزگار کے مواقع فراہم کئے جائیں گے ۔ انہوں نے بتایا کہ  اقلیتی فینانس کارپوریشن نے کئی نامور اداروں میں اقلیتی طلبہ کیلئے کوچنگ کا آغاز کیا ہے ۔ ان میں سے کئی اداروں میں کوچنگ کی تکمیل کے بعد امیدواروں کو ر وزگار فراہم کرنے کا تیقن دیا۔ سید عمر جلیل کے مطابق اقلیتی بہبود پرانے شہر کے نوجوانوں میں تعلیم کے ساتھ ساتھ ملازمت کی فراہمی کے اقدامات کرے گا۔ واضح رہے کہ حیدرآباد میں 12 اردو کمپیوٹر سنٹرس اور 9 لائبریریز ہیں۔ حال ہی میں محکمہ اقلیتی بہبود نے ان اداروں کی کارکردگی کے بارے میں ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر سے رپورٹ طلب کی ہے۔

TOPPOPULARRECENT