Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے اقلیتی طلبہ سیول سرویسیس امتحانات کی کوچنگ سے محروم

تلنگانہ کے اقلیتی طلبہ سیول سرویسیس امتحانات کی کوچنگ سے محروم

کوچنگ سنٹرس کا تاحال عدم انتخاب، سہ رکنی کمیٹی مقررہ وقت میں رپورٹ پیش کرنے سے قاصر
حیدرآباد۔/4جون، ( سیاست نیوز) اقلیتی طلبہ جاریہ سال سیول سرویسیس امتحانات کی کوچنگ سے محروم ہوچکے ہیں کیونکہ حکومت کی جانب سے قائم کردہ سہ رکنی عہدیداروں کی کمیٹی نے ابھی تک معیاری کوچنگ سنٹرس کا انتخاب نہیں کیا ہے۔اب جبکہ سیول سرویسس امتحانات کیلئے بمشکل 2 ماہ باقی رہ گئے ہیں کوچنگ سنٹرس کے عدم انتخاب سے اقلیتی طلبہ میں مایوسی پائی جاتی ہے۔ حکومت کے میناریٹی اسٹڈی سرکل کے ذریعہ اقلیتی طلبہ کو معیاری اداروں میں کوچنگ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا جس کے تحت سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز کے ذریعہ انٹرنس ٹسٹ منعقد کیا گیا تھا جس میں 288 طلبہ کو اہل قرار دیا گیا۔ حکومت نے سیول سرویسیس کی کوچنگ کیلئے بہتر رینک والے 62 طلبہ کا انتخاب کرتے ہوئے انہیں اُن کی پسند کے معیاری کوچنگ سنٹرس میں داخلہ دلانے کا فیصلہ کیا۔ 13اپریل 2016 کو حکومت نے جی او ایم ایس 12 کے ذریعہ کلکٹر حیدرآباد راہول بوجا اور آئی پی ایس عہدیدار اکن سبھروال اور تفسیر اقبال پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی اور انہیں دو ہفتوں میں معیاری اداروں کی نشاندہی کرتے ہوئے رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی لیکن آج تک اس کمیٹی نے اپنی رپورٹ پیش نہیں کی جس کے نتیجہ میں منتخب طلبہ میں بے چینی اور مایوسی پائی جارہی ہے۔ میناریٹی اسٹڈی سرکل کے عہدیدار اس صورتحال میں طلبہ کو  تشفی بخش جواب دینے کے موقف میں نہیں ہیں۔ معیاری سیول سرویسس کوچنگ سنٹرس میں 4 ماہ قبل ہی کوچنگ کا آغاز ہوگیا اور سیول سرویسس کے امتحانات اگسٹ کے تیسرے ہفتہ میں منعقد ہوتے ہیں۔ یہ کوچنگ 6 ماہ پر مشتمل ہوتی ہے لیکن اقلیتی طلبہ کیلئے کوچنگ سنٹرس کا انتخاب نہ ہونے کے سبب امتحان کو بمشکل دو ماہ باقی رہ گئے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اگر کمیٹی کوچنگ سنٹرس کا انتخاب کرلے تب بھی یہ بات یقینی نہیں کہ کوچنگ سنٹرس اقلیتی طلبہ کیلئے علحدہ بیاچ شروع کریں۔ جاریہ بیاچ میں شمولیت کی صورت میں اقلیتی طلبہ گذشتہ 4 ماہ کی کوچنگ کا احاطہ نہیں کرسکتے۔ ایسی صورتحال میں جاریہ سال اقلیتی طلبہ کیلئے سیول سرویسیس کی کوچنگ عملاً مشکل دکھائی دے رہی ہے اور عہدیداروں کی عدم دلچسپی کے نتیجہ میں اقلیتی طلبہ کا ایک سال ضائع ہوسکتا ہے۔ اقلیتوں کو یہ شکایت ہے کہ سیول سرویسیس میں اقلیتی طلبہ بہتر رینک حاصل کرتے ہوئے منتخب نہیں ہوپاتے اس کے لئے طلبہ نہیں بلکہ عہدیدار ذمہ دار ہیں جو اداروں کے انتخاب میں دو ہفتوں کے بجائے دو مہینے گذرنے کے باوجود کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں۔ جن 62 طلبہ کو کوچنگ کیلئے منتخب کیا گیا انہیں آئندہ سال دوبارہ نئے طریقہ سے کوچنگ حاصل کرنی پڑ سکتی ہے۔ اس اسکیم کے تحت حکومت نے 12کروڑ روپئے مختص کئے ہیں اور یہ پہلا موقع ہے جب حکومت نے طلبہ کی پسند کے معیاری اداروں میں داخلہ کی اجازت دی ہے اور اس کے تمام اخراجات حکومت برداشت کرے گی۔

TOPPOPULARRECENT