Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے انجینئرنگ کالجس میں تقریباً 9 ہزار نشستیں مخلوعہ

تلنگانہ کے انجینئرنگ کالجس میں تقریباً 9 ہزار نشستیں مخلوعہ

طلبہ کی انجینئرنگ شعبہ سے عدم دلچسپی، دو کالجس میں صفر داخلے، بیرون ریاست طلبہ کو راغب کرنے کی کوشش

حیدرآباد 17 جولائی (سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں موجود انجینئرنگ کالجس میں تاحال 9 ہزار کے قریب نشستیں مخلوعہ ہیں۔ ریاست میں موجود جملہ نشستوں میں داخلہ حاصل کرنے والوں کی تعداد میں ہونے والی گراوٹ کو دیکھتے ہوئے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ ریاست کے نوجوانوں میں شعبہ انجینئرنگ سے دلچسپی میں کمی ہوتی جارہی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست کے تمام کالجس میں جملہ 69,123 نشستیں موجود ہیں جن میں انجینئرنگ، بی فارمیسی اور فارما ڈی کی نشستیں شامل ہیں لیکن پہلے مرحلہ کی کونسلنگ 198 انجینئرنگ کالجس میں جہاں 66,695 نشستوں کے لئے کونسلنگ کی گئی تھی اُن میں صرف 57,789 نشستیں الاٹ کی گئی ہیں اور طلبہ کو مشورہ دیا گیا ہے کہ 22 جولائی سے قبل الاٹ کردہ نشست کے متعلق کالج کو رجوع کرتے ہوئے تصدیق کروالے۔ محکمہ تعلیم و تلنگانہ کونسل برائے اعلیٰ تعلیمات کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے بموجب ریاست میں 8,906 انجینئرنگ کی نشستیں مخلوعہ ہیں جن میں 3,040 نشستیں حکومت کی جانب سے چلائے جانے والے سرکاری کالجس میں مخلوعہ ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاست کے تقریباً 100 کالجس میں داخلے 100 فیصد ہوئے ہیں جبکہ مابقی کالجس میں داخلوں کے فیصد کا جائزہ لیا جانا باقی ہے۔ اسی طرح دو ایسے کالجس ہیں جہاں داخلے صفر ہیں اور 3 کالجس ایسے ہیں جہاں 10 سے کم طلبہ نے داخلے حاصل کئے ہیں۔ جاریہ سال ایمسیٹ میں اہلیتی امتحان کامیاب کرنے والے طلبہ کی تعداد 1,11,461 رہی لیکن داخلوں کے حصول میں عدم دلچسپی سے ایسا محسوس ہورہا ہے کہ طلبہ میں انجینئرنگ کے رجحان میں کمی واقع ہوتی جارہی ہے۔ اس صورتحال میں کالجس بالخصوص انجینئرنگ کالج انتظامیہ جوکہ داخلے حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں، وہ مستقبل میں کالج چلانے کے موقف میں بھی نہیں رہیں گے۔ اس صورتحال کو دیکھتے ہوئے مختلف کالج انتظامیہ کی جانب سے بیرون ریاست سے تعلق رکھنے والے طلبہ کو داخلے فراہم کرنے کے لئے پیشکش کرتے دیکھا جارہا ہے۔ ذرائع کے بموجب حکومت کی جانب سے فیس کی باز ادائیگی اسکیم میں بھی تاخیر کے سبب نوجوانوں میں داخلے حاصل کرنے کے رجحان میں کمی آرہی ہے کیوں کہ گزشتہ چند برسوں سے سرکاری طور پر فیس کی باز ادائیگی کے سبب بیشتر کالجس میں طلبہ کی تعداد میں اضافہ دیکھا جارہا تھا۔ گزشتہ تین برسوں کے دوران فیس باز ادائیگی اسکیم میں کی جانے والی تاخیر اور کالج انتظامیہ کے لئے حکومت کی جانب سے پیدا کئے جانے والے مسائل کے سبب طلبہ کو منفی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

TOPPOPULARRECENT