Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ کے ترقیاتی منصوبوں پر ’’بریک‘‘

تلنگانہ کے ترقیاتی منصوبوں پر ’’بریک‘‘

معاشی بحران کا اثر ، اضلاع کی تشکیل جدید کا جشن مایوسی میں تبدیل
حیدرآباد۔17نومبر(سیاست نیوز) ریاست تلنگانہ میں اضلاع کی تشکیل جدید کے فیصلہ اور ضلع ہیڈ کورٹر کو ترقی دینے کے منصوبے دھرے کے دھرے رہ گئے۔حکومت تلنگانہ نے ریاست کے تمام ضلع انتظامیہ کو ہدایات جاری کردی ہیں کہ وہ کوئی نئی تعمیرات کیلئے فنڈز کی اجرائی عمل میں نہ لائیں اور نہ ہی نئے اضلاع میں انتظامی امور کیلئے نئی عمارتوں کی تعمیر میں تیزی پیدا کریں بلکہ جو سہولیات فی الحال موجود ہیں ان سے استفادہ کرتے ہوئے کام چلائیں۔ کرنسی نوٹ بند کئے جانے کے فوری بعد پیدا شدہ صورتحال کے متعلق بتایا جاتا ہے کہ حکومت تلنگانہ بھی اس سے بچ نہیں پائی ہے اور ریاست کی آمدنی پر اس کے گہرے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس کے سبب حکومت نے نئے اضلاع کے ہیڈ کوارٹرس کی ترقی کو عارضی طور پر ملتوی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ ہدایات جاری کی ہیں کہ آئندہ احکام تک کوئی ترقیاتی کام شروع نہ کئے جائیں بلکہ ان ترقیاتی کاموں کو بھی روک دیا جائے جو افتتاح کئے جا چکے ہیں لیکن تعمیراتی عمل شروع نہیں ہو پایا ہے۔ حکومت تلنگانہ کا خزانہ خالی ہونے کی کئی اطلاعات کے بعد حکومت نے ماہ ڈسمبر میں نصف تنخواہوں کی اجرائی کا فیصلہ کرتے ہوئے ریاست کے دیوالیہ ہونے کی توثیق کردی تھی اب نئے اضلاع میں ترقیاتی کاموں و تعمیری سرگرمیوں پر روک لگاتے ہوئے یہ ظاہر کردیا ہے کہ ریاست میں حالات انتہائی ابتر ہو چکے ہیں۔ مرکزی حکومت نے 1000اور500نوٹوں کی تنسیخ کے ساتھ ہی جو حالات پیدا کئے ہیں ان حالات میں ریاست کی آمدنی پر جو اثرات ہوئے ہیں ان سے نمٹنا مشکل ترین ہوتا جا رہا ہے۔ ذرائع کے بموجب چیف سیکریٹری مسٹر راجیو شرما نے حالیہ عرصہ میں تشکیل دیئے گئے نئے اضلاع کے ترقیاتی منصوبہ کا جائزہ لینے کے بعد ضلع انتظامیہ کو اس بات کی ہدایت دی کہ وہ جو فنڈز موجود ہیں ان میں ہی کام چلائیں اور کوئی نیا منصوبہ اختیار نہ کریں بلکہ ان رقومات کا ہی محتاط استعمال کریں جو ان کے پاس موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک میں جاری معاشی بحران کی صورتحال کے قابو میں آنے تک نئے تشکیل دیئے گئے اضلاع میں ترقیاتی کام ٹھپ ہو جائیں گے۔ حکومت تلنگانہ نے ریاست میں تشکیل دیئے گئے تمام اضلاع کی ترقی کیلئے ایک کروڑ روپئے منظور کئے تھے اور یہ کہا گیا تھاج کہ ان ایک کروڑ روپئے سے ضلع ہیڈ کوارٹر کی ترقی کو یقینی بنایا جائے لیکن اب تک ان رقومات کی اجرائی کے متعلق کوئی توثیق نہیں ہوئی ہے۔ حکومت کی جانب سے ریاست کے تمام اضلاع کے کلکٹرس و دیگر اعلی عہدیداروں سے خواہش کی جانے لگی ہے کہ وہ ان حالات کو کچھ وقت کیلئے برداشت کریں تاکہ حکومت کو اس صورتحالس ے نکلنے کا موقع میسر آئے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے مرکز کے اقدام پر ناراضگی کا اظہار کیا جانے لگا ہے لیکن اس پر احتجاج کی حکمت عملی سے اجتناب سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ حکومت تلنگانہ مرکز کی امداد کی منتظر ہے اوراس بات کی امید حکومت کو ہے کہ حالات بہتر ہونے پر مرکز کی جانب سے تلنگانہ کو بہتر مرکزی امداد وصول ہوگی۔ حکومت نے نئے اضلاع کی تشکیل کے ذریعہ ریاست کی ترقی اور ضلع ہیڈ کوارٹرس کی اراضیات کی قیمتوں میں اضافہ کا منصوبہ تیار کیا تھا لیکن مرکزی حکومت کی جانب سے 1000اور 500کے کرنسی نوٹ پر امتناع عائد کرنے کے فیصلہ کے فوری بعد ملک بھر میںرئیل اسٹیٹ شعبہ میں آئی گراوٹ سے حکومت کی یہ منصوبہ بندی بھی دہری رہ گئی اور رئیل اسٹیٹ شعبہ میں آئی گراوٹ نے ریاست میں اراضیات کی معاملتوں اور اسٹامپس کی فروخت پر منفی اثرات مرتب کئے ہیں جس کی وجہ سے حالات مزید ابتر ہو چکے ہیں۔ باوثوق ذرائع کے بموجب ریاست تلنگانہ کے حالات انتہائی نا گفتہ بہ ہو چکے ہیں اور ان حالات میں ریاست کی ترقی کا عمل مفلوج ہو چکا ہے اور کوئی محکمہ یہ کہنے کے موقف میں نہیں ہے کہ ریاست کے حالات بہتر ہونے جا رہے ہیں کیونکہ ہر منصوبہ پر کوئی نہ کوئی اقدام کاری ضرب ثابت ہو رہا ہے۔

TOPPOPULARRECENT