Friday , June 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے تمام اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ

تلنگانہ کے تمام اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے کا مطالبہ

چیف منسٹر کے سی آر کو قائد اپوزیشن قانون ساز کونسل محمد علی شبیر کا مکتوب
حیدرآباد۔26 مئی (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز کونسل محمد علی شبیر نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر رائو کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے تمام اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دینے اور اس پر عمل آوری کا مطالبہ کیا۔ محمد علی شبیر نے کہا کہ تلنگانہ میں اردو زبان کی ترقی و ترویج کو نظرانداز کردیا گیا ہے اور اردو ذریعہ تعلیم کے سرکاری اسکولوں کی تعداد گھٹ چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ 10 اضلاع پر محیط تلنگانہ ریاست میں صرف 9 اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیا گیا تھا اور ضلع کھمم میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل نہیں ہے۔ اب جبکہ ریاست میں اضلاع کی تعداد 10 سے بڑھ کر 31 ہوچکی ہے، ریاستی حکومت کو تمام اضلاع میں اردو کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ دیتے ہوئے احکامات جاری کرنے ہوں گے۔ محمد علی شبیر نے اردو زبان کی ترقی و ترویج کو نظرانداز کئے جانے کی شکایت کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ ریاست اردو ذریعہ تعلیم کے موثر انتظامات میں پیچھے رہ گئی ہے۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد سے کوئی ٹھوس قدم نہیں اٹھائے گئے۔ چیف منسٹر پیشی میں اردو جاننے والے افراد کے تقرر کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ ڈی پی آر او دفاتر میں اردو داں عملہ ہونا چاہئے۔ اردو اکیڈیمی صرف شاعری کے پروگرام منعقد کرنے کے حد تک محدود ہوچکی ہے اور اس کی جانب سے فروغ اردو کے کام انجام نہیں دیئے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ فروغ اردو کے سلسلہ میں اردو اکیڈیمی کی خدمات حاصل کریں اور 43 کمپیوٹر سنٹرس اور 23 اردو لائبریریز جو اکیڈیمی کے تحت تھے ان کی سرگرمیاں گزشتہ دو سال سے مفلوج ہوچکی ہیں۔ کمپیوٹر سنٹرس میں ازکار رفتہ کمپیوٹر ہیں جبکہ عصری کمپیوٹرس کی ضرورت ہے۔ ملازمین کو تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں اور نہ ہی باقاعدگی کے ساتھ سنٹرس کا کرایہ جاری کیا جارہا ہے۔ جبکہ پڑوسی ریاست آندھراپردیش نے کمپیوٹر سنٹرس کو عصری بنانے کا کام مکمل کرلیا۔ آندھراپردیش حکومت نے اسٹاف کی سیلری میں اضافہ کیا اور 2 جون سے نئے بیچس کا آغاز ہورہا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT