Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / تلنگانہ کے حجاج کرام کی آمد کا آغاز ، شمس آباد ایرپورٹ پر جذباتی مناظر

تلنگانہ کے حجاج کرام کی آمد کا آغاز ، شمس آباد ایرپورٹ پر جذباتی مناظر

حاجیوں کو زم زم کی پیشکشی ، انتظامات پر اظہار اطمینان ، محمد محمود علی ، بابا فصیح الدین نے پر جوش استقبال کیا
حیدرآباد ۔ 5۔اکتوبر (سیاست نیوز) فریضہ حج کی ادائیگی اور مدینہ منورہ میں روضہ نبویؐ پر حاضری کی سعادت کے بعد تلنگانہ کے حجاج کرام کی وطن واپسی کا آج صبح آغاز ہوا۔ 335 حجاج کرام پر مشتمل پہلا قافلہ صبح کی اولین ساعتوں 2.50 بجے شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ پہنچا۔ جیسے ہی ایر انڈیا کا خصوصی طیارہ شمس آباد انٹرنیشنل ایرپورٹ پر لینڈ کیا، حج ٹرمنل کے باہر موجود سینکڑوں رشتہ داروں کی آنکھیں فرط مسرت سے نم ہوگئیں اور وہ اپنے حاجیوں سے ملاقات کیلئے بے چین ہوگئے۔ ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے طیارہ کے پاس پہنچ کر حجاج کرام کا استقبال کیا اور انہیں فریضہ حج کی ادائیگی پر مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے حجاج کرام سے دعائیں حاصل کی اور مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں انتظامات کے بارے میں استفسار کیا۔ ڈپٹی چیف منسٹر کے ہمراہ ڈپٹی میئر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن بابا فصیح الدین ، سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور اسپیشل آفیسر تلنگانہ حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور اور دوسرے موجود تھے۔ ایر انڈیا کی خصوصی پرواز جو 3.35 بجے لینڈ کرنے والی تھی ، وہ مقررہ وقت سے تقریباً 45  منٹ قبل حیدرآباد پہنچی۔

پہلے قافلہ میں حیدرآباد اور اضلاع سے تعلق رکھنے والے حجاج کرام موجود ہیں۔ فریضہ حج کی ادائیگی کی مسرت اور اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے ملے جلے جذبات کے ساتھ حجاج کرام طیارہ سے باہر آئے اور استقبال کرنے والے قائدین اور عہدیداروں سے انتظامات کے سلسلہ میں اظہار تشکر کیا۔ حجاج کرام نے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں انتظامات کی ستائش کی اور حج ٹرمنل میں فراہم کی گئی سہولتوں کو سراہا۔ حج ٹرمنل میں حجاج کرام کے لگیج کلیئرنس میں عہدیداروں اور والینٹرس نے مدد کی ۔ اس موقع پر ڈپٹی چیف منسٹر کے ہاتھوں ہر حاجی کو پانچ لیٹر زم زم کا کیان حوالے کیا گیا ۔ امیگریشن اور کسٹمس کے مراحل سے گزر کر جیسے ہی حجاج کرام ٹرمنل کے باہر پہنچے رشتہ داروں نے جذباتی انداز میں استقبال کیا ۔ رشتہ داروں اور حاجیوں کی ملاقات کے موقع پر انتہائی جذباتی مناظر دیکھے گئے ۔ حج ٹرمنل میں حجاج کرام نے نماز فجر ادا کی۔ اضلاع کے حجاج کرام کیلئے حج کمیٹی نے قیام کا انتظام کیا گیا جو شام میں اپنی منزل کو روانہ ہوگئے۔ میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈپٹی چیف منسٹر نے کہا کہ تلنگانہ ، آندھراپردیش اور کرناٹک کے 4900 حجاج کرام حیدرآباد سے روانہ ہوئے اور تمام نے پرسکون انداز میں فریضہ حج اور روضہ نبویؐ پر حاضری کی سعادت حاصل کی۔ انہوں نے کہا کہ جاریہ سال سعودی حکومت اور حج کمیٹی کی جانب سے موثر انتظامات کئے گئے تھے جس کے باعث مکہ مکرمہ میں کوئی معمولی حادثہ پیش نہیں آیا ۔ حجاج کرام کی صحت و سلامتی کیلئے معقول انتظامات کئے گئے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ حجاج کرام کی خدمت کو اپنے لئے سعادت سمجھتے ہیں اور انہوں نے کہا تھا کہ حجاج کی خدمت دراصل حج کے ثواب کے برابر ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے تلنگانہ حج کمیٹی اور محکمہ اقلیتی بہبود کی خدمات کی ستائش کی ۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے حجاج کرام کی خیریت سے واپسی پر اطمینان کا اظہار کیا ۔ ڈپٹی میئر بابا فصیح الدین نے حجاج کرام کو مبارکباد پیش کی۔ اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور تمام حجاج کرام کی ٹرمنل سے روانگی تک وہاں موجود رہے اور تمام سرکاری مراحل کی جلد تکمیل میں اہم رول ادا کیا۔ حجاج کرام کا دوسرا قافلہ جمعرات کی اولین ساعتوں 3.25 بجے حیدرآباد پہنچے گا جبکہ جمعہ کو دو قافلے وطن واپس ہوں گے۔ پروفیسر ایس اے شکور کے مطابق مدینہ منورہ میں موجود تمام حجاج کرام خیریت سے ہیں۔

ایر انڈیا کے حکام میں تال میل کا فقدان ، لگیج کلیرنس میں مشکلات
حجاج کرام کو تکلیف کا سامنا ، اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کی مدد ، حج ٹرمنل میں تاخیر
حیدرآباد ۔ 5۔ اکتوبر (سیاست نیوز) حجاج کرام کی واپسی کے موقع پر ایر انڈیا کے حکام میں تال میل کی کمی کے باعث لگیج کے کلیئرنس میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ بتایا جاتا ہے کہ پہلی فلائیٹ کی آمد کے موقع پر ایر انڈیا کے اسٹیشن مینجر اور مینجر موجود تھے اور ڈپٹی چیف منسٹر کی واپسی کے بعد وہ مین ٹرمنل روانہ ہوگئے ۔ ان کی واپسی کے بعد ایر انڈیا کے ملازمین میں کوئی تال میل نہیں دیکھا گیا اور حجاج کرام کے لگیج کے کلیئرنس اور منتقلی میں تعاون کیلئے کوئی موجود نہیں تھا جس کے باعث لگیج کے پاس حجاج کرام کا ہجوم جمع ہوگیا۔ یہ صورتحال دیکھ کر سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل اور اسپیشل آفیسر حج کمیٹی پروفیسر ایس اے شکور اپنے عملہ کے ساتھ متحرک ہوگئے اور لگیج کی منتقلی اور ٹرالی پر رکھنے میں مدد کی۔ ایر انڈیا کے اس رویہ سے حجاج کرام میں ناراضگی دیکھی گئی اور انہیں اپنا لگیج نکالنے میں کافی وقت لگ گیا۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ ایر انڈیا کا اسٹاف لگیج کلیئرنس کے پاس موجود رہ کر اس مرحلہ کی جلد تکمیل کو یقینی بنائے۔ عہدیداروں نے کسٹمس اور امیگریشن کے مراحل کے موقع پر بھی حجاج کرام کی رہنمائی کی۔ لگیج کی شناخت اور منتقلی میں تاخیر کے سبب فلائیٹ جلد آنے کے باوجود حجاج کرام کو ٹرمنل سے نکلنے میں دیری ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT