Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے ساتھ مرکز کی بی جے پی حکومت کا غیر منصفانہ رویہ

تلنگانہ کے ساتھ مرکز کی بی جے پی حکومت کا غیر منصفانہ رویہ

ریاست کے بحران کی مرکزی حکومت ذمہ دار ، تلنگانہ ایڈوکیٹ جے اے سی کا ردعمل
حیدرآباد۔ 25۔ مئی  ( سیاست نیوز) تلنگانہ ایڈوکیٹ جے اے سی نے الزام عائد کیا کہ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی حکومت تلنگانہ کے ساتھ ناانصافی کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہیں۔ تلنگانہ کو جائز حقوق اور فنڈس کی اجرائی میں مرکز کے رویہ پر جے اے سی نے سخت احتجاج کیا۔ ایڈوکیٹ جے اے سی نے الزام عائد کیا کہ تلنگانہ کو موجودہ درپیش مسائل اور بحران کیلئے مرکزی حکومت ذمہ دار ہے ۔ تلنگانہ ریاست کے قیام کے بعد آندھراپردیش حکومت نے کئی سازشوں کا آغاز کیا اور بی جے پی اس کی تائید کر رہی ہے ۔ آبپاشی پراجکٹ کی تکمیل میں رکاوٹ پیدا کرنے کیلئے مرکز سے شکایت کی گئی اور مرکزی حکومت کو تلنگانہ میں آبپاشی پراجکٹ کی تکمیل سے کوئی دلچسپی نہیں۔ جے اے سی نے ہائیکورٹ کی تقسیم میں تاخیر اور کھمم ضلع کے 9 منڈلوں کو آندھراپردیش میں  ضم کئے جانے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مرکز کا رویہ ہر معاملہ میں تلنگانہ کے ساتھ معاندانہ ہے۔ جے اے سی کی جانب سے آج ایک ریالی منظم کی گئی جس میں وکلاء کی کثیر تعداد نے حصہ لیا اور مرکزی حکومت کے رویہ کے خلاف نعرے لگائے گئے ۔ وکلاء پلے کارڈس تھامے ہوئے تھے جس پر تلنگانہ سے انصاف  کے نعرے درج تھے۔ جے اے سی نے الزام عائد کیا کہ ہائی کورٹ کی تقسیم کے معاملہ میں مرکزی حکومت کی سست رفتار کارروائی افسوسناک ہے ۔ ریاست کے قیام کے دو سال مکمل ہوگئے لیکن ہائیکورٹ کو ابھی تک تقسیم نہیں کیا گیا جس کے باعث مقدمات کی یکسوئی میں تلنگانہ عوام کو مشکلات کا سامنا ہے۔ جے اے سی کے مطابق ہائیکورٹ کی تقسیم کیلئے وزیراعظم اور وزیر داخلہ سے بارہا نمائندگی کی جاچکی ہے لیکن آندھراپردیش کی سازش کے نتیجہ میں مرکزی حکومت کسی بھی کارروائی سے گریز کر رہی ہے۔ قانون ساز کونسل کے انتخابات کے موقع پر مرکزی وزیر قانون سدانند گوڑا نے ہائیکورٹ کی تقسیم کا تیقن دیا تھا ۔ بی جے پی کے امیدوار رام چندر راؤ کی کامیابی کو یقینی بنانے کیلئے یہ وعدہ کیا گیا لیکن امیدوار کی کامیابی کے ساتھ ہی وعدہ کو فراموش کردیا گیا ۔ جے اے سی قائدین نے کہا کہ متحدہ ہائیکورٹ میں آندھراپردیش سے تعلق رکھنے والے ججس کی تعداد 18 ہے جبکہ تلنگانہ کے ججس کی تعداد صرف 3 ہے۔ اس طرح ہائیکورٹ کے ججس کے انتخاب میں بھی تلنگانہ سے ناانصافی کی گئی۔ جے اے سی کا الزام ہے کہ آندھرا سے تعلق رکھنے والے ججس اور وکلاء مستقل قیام کے لئے تلنگانہ سے اپنا تعلق ظاہر کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو اور وینکیا نائیڈو کے اشارہ پر مرکزی حکومت کام کر رہی ہے اور تلنگانہ سے ناانصافیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ کے ساتھ جاری ناانصافیوں کے ساتھ ریاستی بی جے پی قائدین کی خاموشی معنی خیز ہے۔ جے اے سی نے اعلان کیا کہ ہائیکورٹ کی تقسیم کیلئے مرکز پر دباؤ بنانے ریاست کو آنے والے مرکزی وزراء کا گھیراؤ کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ریاستی بی جے پی قائدین ناانصافیوں پر خاموشی اختیار کریں گے تو انہیں عوامی برہمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جے اے سی نے خصوصی آرڈیننس کے ذریعہ ہائیکورٹ کی تقسیم کا مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT