Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے قیام کے بعد ٹی جے اے سی کا وجود بے معنی و مضحکہ خیز

تلنگانہ کے قیام کے بعد ٹی جے اے سی کا وجود بے معنی و مضحکہ خیز

چیف منسٹر اور وزراء پر الزامات کیخلاف کودنڈا رام کو سخت انتباہ، نرسمہا ریڈی کا بیان
حیدرآباد 7 جون (سیاست نیوز) وزیرداخلہ مسٹر این نرسمہا ریڈی نے چیف منسٹر کے چندرشیکھر راؤ پر صدرنشین تلنگانہ پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کودنڈا رام کی جانب سے کئے گئے ریمارکس پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور ان ریمارکس کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیا بصورت دیگر کسی بھی حالات کے لئے وہ خود ذمہ دار ہونے کا انتباہ دیا۔ سکریٹریٹ میں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے این نرسمہا ریڈی نے کہاکہ کودنڈا رام ریاست کے عوام کی توہین کرنے جیسی باتیں کررہے ہیں۔ ایسا محسوس ہورہا ہے کہ وہ ذہنی توازن کھوتے ہوئے اس طرح کی باتیں کررہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ من مانی انداز میں کسی ثبوت کے بغیر اس طرح کی گری ہوئی باتیں کرنا مناسب بات نہیں ہے۔ وزیرداخلہ نے یاد دلایا کہ صرف اور صرف حصول علیحدہ ریاست تلنگانہ جدوجہد کے لئے ہی تلنگانہ پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا تھا اور جب علیحدہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل عمل میں آنے کے ساتھ ہی ٹی پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے تمام سیاسی جماعتیں، عوامی تنظیمیں علیحدگی اختیار کرلیں۔ لیکن پروفیسر کودنڈا رام تلنگانہ پولٹیکل جے اے سی کو پکڑ کر لٹکنے کا مضحکہ اُڑایا اور کہاکہ کودنڈا رام کانگریس پارٹی قائدین جو باتیں کررہے ہیں وہی باتیں کررہے ہیں۔ نرسمہا ریڈی نے کودنڈا رام کو اپنی سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے سخت الفاظ کا استعمال کیا اور کہاکہ وہ کسی اور کسی پشت پناہی کے ذریعہ ہی چیف منسٹر کے خلاف بے دھڑک باتیں کررہے ہیں۔ انھوں نے کہاکہ ریاست تلنگانہ کی تشکیل عمل میں آنے کے بعد حکومت کا قیام عمل میں آئے ہوئے دو سال مکمل ہوئے اور ان دو سالوں کے دوران گزشتہ 60 سال کے دوران متحدہ آندھراپردیش حکومت میں جو ناانصافیاں ہوئیں ان کی ممکنہ حد تک یکسوئی کرنے کے اقدامات کئے گئے۔ انھوں نے دریافت کیاکہ آیا ریاستی چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ کی زیرقیادت تلنگانہ حکومت کے روبہ عمل لائے جانے والے فلاح و بہبودی پروگرامس و اسکیمات کودنڈا رام کو دکھائی نہیں دے رہے ہیں؟ وزیر موصوف نے انھیں یاد دلایا کہ تلنگانہ حکومت کے پروگراموں و اسکیمات کو 28 ریاستوں کی جانب سے مثالی قرار دیتے ہوئے ستائش کی جارہی ہے۔ کودنڈا رام کو چاہئے کہ ملک کی دیگر ریاستوں کا دورہ کرکے ان ریاستوں کی کارکردگی کا مشاہدہ کریں۔ وزیرداخلہ نے صدرنشین تلنگانہ پولٹیکل جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے جاننا چاہا کہ آیا ملک کی کسی ریاست میں صرف 38 ہزار کروڑ روپئے فلاح و بہبودی اسکیمات پر خرچ کی جارہی ہیں؟ نرسمہا ریڈی نے واضح طور پر کہاکہ ریاست میں ٹی آر ایس کی زیرقیادت حکومت صرف اور صرف تلنگانہ کو سنہرے تلنگانہ ریاست میں تبدیل کرنے کے لئے ہی تشکیل پائی ہے۔ انھوں نے مزید کہاکہ ٹی آر ایس زیرقیادت تلنگانہ حکومت فوری ختم ہونے والی حکومت نہیں ہے بلکہ یہ تلنگانہ عوام کی حکومت ہے۔ وزیرداخلہ نے مشن بھگیرتا اور مشن کاکتیہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ ان دو اسکیموں کے تعلق سے کودنڈا رام نے کبھی خواب میں نہیں سوچا ہوگا۔ ہر گھر کو پانی کی سربراہی کو یقینی بنانے کے لئے سرعت کے ساتھ اقدامات کئے جارہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT