Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے نوجوان فرقہ وارانہ امن و ہم آہنگی کے علمبردار

تلنگانہ کے نوجوان فرقہ وارانہ امن و ہم آہنگی کے علمبردار

عثمانیہ یونیورسٹی کیمپس میں ادارہ سیاست کی دعوت افطار ، اسکالرس اور دانشوروں کا خطاب

حیدرآباد۔21جون(سیاست نیوز) ادارہ ’سیاست‘ اور میناریٹی اسکالرس اور دانشور فورم کے زیر اہتمام احاطہ عثمانیہ یونیورسٹی میں دعوت افطار کا اہتمام کیاگیا جس میں مہمان خصوصی کی حیثیت سے جنا ب ظہیر الدین علی خا ن‘ چیرکوسدھاکر ‘ فیض عام ٹرسٹ کے جناب افتخار حسین ‘ پروفیسر شوکت علی مرزا‘جناب رضوان حسین ‘ ڈاکٹر رضوان موتی والا‘ جناب علی حیدر‘ کانگریس قائد جناب محمد غوث‘ سینئر ایڈوکیٹ ہائی کورٹ جناب عثمان شہید‘ صدر شعبہ اُردو عثمانیہ یونیورسٹی جناب معید جاوید‘ حیدرآبادی فلم’ ایک تھا سردار‘ سے مشہوراداکار محمد توفیق‘ جناب افتخار احمد ایڈوکیٹ‘ حیات حسین حبیب ‘ اسلم عبدالرحمن‘ پروفیسر انور خان‘ ایڈوکیٹ محمد برہان ‘ ڈاکٹر رمنا رائو‘ ڈاکٹر وینگل رائو‘تروپتی ورماکے علاوہ تلنگانہ تحریک کے دیگر سرگرم کارکنان نے شرکت کی ۔ دوہزار کے قریب طلبہ نے اس دعوت افطار میںشرکت کی جن کا تعلق ایس سی ‘ ایس ٹی او ردیگر اقلیتی طبقات سے تھا ۔ مذکورہ طلبہ نے عثمانیہ یونیورسٹی کی قدیم گنگاجمنی تہذیب کے فروغ کا عہد لیتے ہوئے ہندومسلم اتحاد زندہ باد کے نعرے بھی لگائے۔ واضح رہے کہ ادارہ ’سیاست‘ گزشتہ کئی برسوں سے عثمانیہ یونیورسٹی میںدعوت کا افطار کا اہتمام کرتے ہوئے ریاست کے نوجوانوں میں اسلام کے متعلق پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں کو دور کرنے کاکام کرتا رہاہے ۔ عثمانیہ یونیورسٹی کے ایس سی ‘ ایس ٹی ‘ بی سی او ردیگر اقلیتی طبقات سے تعلق رکھنے والے طلبہ نے ادارے سیاست اور میناریٹی اسکالرس اور دانشور فورم کی اس کوشش کو قابلِ ستائش قراردیا۔ ہزاروں کی تعداد میںطلبہ کی موجودگی خود اس بات کاثبوت ہے کہ تلنگانہ کا نوجوان فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کا علمبردار ہے۔افطار سے قبل عثمانیہ یونیورسٹی طلبہ کی کثیرتعداد سے خطاب کرتے ہوئے پروفیسر انور خان نے روزہ کی اہمیت اور اس کی افادیت سے متعلق تلگوزبان میںخطاب کیا۔ انہوں نے روزہ ‘ افطار اور سحری کے طریقہ کار بھی واضح کرتے ہوئے نوجوانوں کو بتایا کہ روزہ کے ذریعہ کس طرح اپنے اندر کے غرور کو ختم کیاجاسکتا ہے۔ مسٹر چیرکو سدھاکر نے طلبہ سے خطاب کرتے ہوئے ادارہ ’سیاست‘ کی ستائش کی اور کہاکہ وہ گزشتہ دو سال سے اس افطار پارٹی میںشریک ہورہے ہیں اور انہیں یہ دیکھ کر کافی مسرت ہورہی ہے کہ یہاں پر مدعو طلبہ میں اکثریت غیر مسلم طلبہ کی ہے باوجود اسکے منتظمین جس طرح روزہ داروں کے لئے افطار کا اہتمام کرتے ہیں اسی طرح ان طلبہ کے لئے بھی انتظام کیاجار ہا ہے ۔ جناب عثمان شہید نے کہاکہ افطار کے وقت دعائیں قبول ہوتی ہیں اور ہمیں آنے والی نسلوں میںفرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لئے دعائیںکرنے کی ضرورت ہے۔جناب محمد غوث اپنے خطاب میں منتظمین اور یونیورسٹی طلبہ کو مبارکباد پیش کی جن کی وجہہ سے عثمانیہ یونیورسٹی کے احاطے میںاتنے بڑے پیمانے پردعوت افطار کا ہرسال اہتمام کیاجاتا ہے۔میناریٹی اسکالرس اور دانشوار فورم کی جانب جناب ظہیر الدین علی خان اور جناب افتخار حسین کے علاوہ عثمان شہید‘ ایڈوکیٹ برہان‘ ڈاکٹر معید جاوید‘پروفیسر انور خان ‘ ڈاکٹر رمنا راؤ‘جناب محمد غوث‘حیدرآبادی اداکار محمد توفیق‘ اور صدر فورم شیخ محمد فہیم کو تہنیت بھی پیش کی گئی۔یونیورسٹی طلبہ محمد اصغر‘ محمد سردار‘ محمد ایوب‘ ایم اے صمد‘ محمد بلال‘ رحیم شریف‘ ٹی ویلاداری‘ محمد عثمان‘ جانی اور دیگر نے انتظامات میںحصہ لیا۔

TOPPOPULARRECENT