Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی مساعی

تلنگانہ کے کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کی مساعی

کابینی اجلاس میں آج مختلف امور پر فیصلے متوقع ، 50 ہزار افراد کو فائدہ ممکن
حیدرآباد ۔ یکم جنوری (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے تمام کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس فیصلہ کا تقریباً 50 ہزار کنٹراکٹ ملازمین کو فائدہ ہوگا جن کی خدمات سرکاری طور پر باقاعدہ بنائے جانے کے بعد وہ بھی دیگر سرکاری ملازمین کی طرح مراعات حاصل کرسکیں گے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی جانب سے عہدیداروں کو دی گئی ہدایت کے فوری بعد تمام محکمہ جات سے تعلق رکھنے والے عہدیدار، کنٹراکٹ ملازمین کی فہرست تیار کرنے میں مصروف ہوچکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے جلد از جلد  کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بنانے کے لئے تفصیلات طلب کی ہیں اور کہا ہے کہ مستقبل میں ریاست تلنگانہ میں کوئی ملازم کنٹراکٹ پر نہیں ہوگا بلکہ جتنے بھی کنٹراکٹ ملازمین ہیں اُن تمام کی خدمات کو باقاعدہ بنایا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ چیف منسٹر نے ڈی ایس سی اعلامیہ کی اجرائی کے سلسلہ میں بھی ہدایات جاری کردی ہیں اور کابینہ کے اجلاس میں اِن فیصلوں کو قطعیت دی جائے گی۔ حکومت کی جانب سے ڈی ایس سی اعلامیہ کی اجرائی سے 20 ہزار اساتذہ کے تقررات کی راہ ہموار ہوگی۔ حکومت کی جانب سے محکمہ پولیس میں 9 ہزار کانسٹبلس کی بھرتی کو منظوری دیئے جانے کے بعد گزشتہ یوم اس سلسلہ میں باضابطہ اعلامیہ کی اجرائی عمل میں لائی جاچکی ہے۔ چیف منسٹر مسٹر کے چندرشیکھر راؤ نے عہدیداروں کو دی گئی اِن ہدایات پر کابینہ کے اجلاس سے قبل قطعی رپورٹ پیش کرنے کا پابند بنایا ہے۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب 2 جنوری کو منعقد ہونے والے کابینی اجلاس میں اِن تمام اُمور کے متعلق فیصلے کئے جانے کا امکان ہے۔ مجوزہ بلدی انتخابات سے قبل حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اِن اہم فیصلوں کے عوام پر مثبت اثرات مرتب ہونے کی توقع ہے۔ حکومت کی جانب سے ڈی ایس سی کے انعقاد کا فائدہ گزشتہ کئی برسوں سے اساتذہ کی جائیدادوں پر بھرتی کے منتظر امیدواروں کو ہوگا۔ بتایا جاتا ہے کہ ڈی ایس سی اعلامیہ کی اجرائی کی صورت میں 15 تا 20 ہزار اساتذہ کی بھرتی یقینی ہوگی۔ اسی طرح کنٹراکٹ ملازمین کی موجودہ تعداد کا اندازہ لگاتے ہوئے یہ کہا جارہا ہے کہ حکومت اگر تمام کنٹراکٹ ملازمین کی خدمات کو باقاعدہ بناتی ہے تو یہ تعداد 50 ہزار سے تجاوز کرجائے گی۔

TOPPOPULARRECENT