Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے ہر اسمبلی حلقہ میں دس اقامتی اسکولس کے قیام کا منصوبہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم پر جائزہ اجلاس ، ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کا خطاب

تلنگانہ کے ہر اسمبلی حلقہ میں دس اقامتی اسکولس کے قیام کا منصوبہ کے جی تا پی جی مفت تعلیم پر جائزہ اجلاس ، ڈپٹی چیف منسٹر کڈیم سری ہری کا خطاب

حیدرآباد۔/7اگسٹ، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے کہا کہ تلنگانہ میں ہر اسمبلی کے تحت 10اقامتی اسکولس کے قیام کا منصوبہ ہے اور حکومت اس سلسلہ میں جلد اقدامات کرے گی۔ کڈیم سری ہری نے حکومت کی تعلیمی پالیسی اور کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی اسکیم پر اعلیٰ سطحی جائزہ اجلاس منعقد کیا۔ بعد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سری ہری نے کہا کہ آئندہ دو برسوں میں 1190 اقامتی مدارس تعمیر کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ان مدارس کے ذریعہ 7لاکھ 50ہزار بچوںکو معیاری تعلیم فراہم کرنے کا منصوبہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی کی اسکیم پر عمل آوری میں سنجیدہ ہے۔ حکومت چاہتی ہے کہ غریب خاندانوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کو مفت معیاری تعلیم کا انتظام کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کو ملک کی دیگر ریاستوں کے مقابلہ یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس نے تعلیم سے متعلق کئی منفرد اسکیمات کا آغاز کیا۔ تلنگانہ ملک کی پہلی ریاست ہے جس نے ویلفیر ہاسٹلس میں معیاری چاول کی سربراہی کی اسکیم کا آغاز کیا۔ انہوں نے کہا کہ درج فہرست اقوام و قبائیل سے تعلق رکھنے والے طلباء کیلئے حکومت نے قرض کے حصول پر سبسیڈی کی فراہمی کا فیصلہ کیا ہے۔ ایک لاکھ روپئے تک کے قرض پر 80فیصد اور 2لاکھ روپئے کے قرض پر حکومت 60فیصد سبسیڈی فراہم کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تمام غریب طلباء کو مفت تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنائے گی۔ کے جی تا پی جی مفت تعلیم پر عمل آوری کیلئے ماہرین سے مشاورت کے ذریعہ حکمت عملی تیار کی جارہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلی تا چوتھی جماعت کو پہلے حصہ میں رکھا گیا جبکہ پانچویں تا بارہویں جماعت کو دوسرے گروپ میں رکھا جائے گا۔ بارہویں سے پی جی تک کیلئے علحدہ سیگمنٹ رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ تعلیمی سال سے انگلش میڈیم اقامتی اسکولس کے قیام کے اقدامات کئے جائیں گے۔ ہر اسمبلی حلقہ میں 10اقامتی اسکولس کے قیام میں چیف منسٹر سنجیدہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ آندھرا پردیش میں حکومتوں نے تعلیمی شعبہ کو نظر انداز کردیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ مدارس میں اساتذہ کے تقررات اور بنیادی سہولتو ں کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ مخلوعہ جائیدادوں پر عنقریب تقررات کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ کنٹراکٹ ملازمین کو باقاعدہ بناتے ہوئے معیاری تعلیم کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ محکمہ تعلیم میں بدعنوانیوں اور بے قاعدگیوں کے خاتمہ کیلئے آن لائن خدمات کا آغاز کیا گیا ہے۔ انٹر میڈیٹ بورڈ کی خدمات کو آن لائن کردیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اساتذہ کے تبادلوں میں مبینہ بے قاعدگیوں کے الزامات کی جانچ کی جائے گی اور خاطیوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے اپوزیشن جماعتوں کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ حکومت کی فلاحی اسکیمات کی تائید کے بجائے اپوزیشن جماعتیں بے بنیاد الزامات عائد کررہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو چاہیئے کہ وہ اسکیمات پر موثر عمل آوری کیلئے حکومت سے تعاون کریں۔

TOPPOPULARRECENT