Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے ہر گاوں اور ہر شہر میں 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے جدوجہد

تلنگانہ کے ہر گاوں اور ہر شہر میں 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے جدوجہد

حیدرآباد 19 ستمبر ( سیاست نیوز ) مسلمانان تلنگانہ اپنی حالت میں سدھار اور ترقی کیلئے تحفظات کو ضروری تصور کرتے ہیں اور تحفظات کے دستور حق کو حاصل کرنے سیاست کی تحریک سے جڑ رہے ہیں۔ تلنگانہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے جاری سیاست کی تحریک پر مسلمانوں کے زبردست ردعمل پر ضلع میدک کے ایک عالم دین کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کیلئے تحفظات ان کا حق ہے اور یہ مانگنے سے نہیں بلکہ جدوجہد سے حاصل ہوں گے ۔ مسلم تحفظات کیلئے سیاست کی تحریک اور جدوجہد سے تمام مسلمانوں کو جڑکر اسے مضبوط کرنا چاہئے ۔  انہوں نے قرآن مجید کی اس آیت کا حوالہ دیا جس میں اللہ پاک فرماتا ہے اللہ اس قوم کی حالت اس وقت تک نہیں بدلتا جب تک خود اپنی حالت بدلنے کا اس کو شعور نہ ہو اور وہ کوشش نہ کرے ۔ تاہم تحفظات کیلئے جاری جدوجہد کے ذریعہ مسلمان خود اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں ۔ یقینی ہے کہ اللہ پاک انہیں کامیابی دے گا اور حالات بدل جائیں گے ۔ روزنامہ سیاست کی تحفظات کیلئے تحریک تلنگانہ کے ہر گاؤں ہر شہر تک پہونچ گئی ہے اور دن بہ دن یہ تحریک شدت اختیار کرتی جارہی ہے اب مسلمانوں کا با اثر طبقہ علما برادری بھی اس تحریک سے جڑ گئی ہے اور حکومت سے وعدہ نبھانے اور تحفظات فراہم کرنے کا مطالبہ کر رہی ہے ۔ مسلمان عدالتی کشمکش سے پاک تحفظات کیلئے بی سی کمیشن کی سفارش پر زور دے رہے ہیں ۔ تحریک میں شامل مسلمانوں کو تلنگانہ کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کے وعدہ پر بھروسہ ہے چونکہ تلنگانہ حاصل کرنے کا جو انہوں نے چیالنج کیا تھا ‘ اس کو پورا کر دکھایا ۔ اور اب جبکہ خود انہوں نے تلنگانہ کے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کا وعدہ کیا تو وہ خود ہی وعدہ کو نبھائیں گے ۔ تاہم ساتھ ہی مسلمانوں میں یہ خوف بھی ہے کہ تحفظات میں تاخیر مقصد کو فوت نہ کردے ۔ چونکہ تلنگانہ حکومت نے ایک لاکھ 7 ہزار ملازمتوں پر تقررات کا ارادہ کیا ہے اور تقریبا 20 ہزار تقررات کیلئے اعلامیہ جاری کردیا گیا ۔ کہیں تقررات کے مکمل نشانہ کے بعد تحفظات دئیے گئے تو اس کا کوئی مقصد نہیں ہوگا ۔ ہر تعلیمی سال 212 میڈیکل 91 ڈینٹل نشستوں کے علاوہ پروفیشنل کالجس کی بے شمار نشستوں پر مسلمانوں کو نقصان ہورہا ہے ۔ ان حالات کے پیش نظر مسلمان تلنگانہ نے چیف منسٹر پر اعتماد کو ظاہر کرکے تحفظات میں تاخیر نہ کرنے کا مطالبہ کیا اور تحفظات سے قبل تقررات کو عمل نہ لاکر مسلمانوں سے ہمدردی کا ثبوت دینے کی خواہش کی ۔ جیسا کہ رمضان المبارک کے مہینے میں آئمہ اور موذنین کو اعزازیہ جاری کرکے انہوں نے اقدام کیا ۔ روزنامہ سیاست کی تحریک 12 فیصد تحفظات کے تحت شہر حیدرآباد میں آر ڈی او حیدرآباد محترمہ نکیتا کدومولہ کو یادداشت پیش کی گئی ۔ تلنگانہ اردو فورم اور مظہر ایجوکیشنل سوسائٹی کی جانب سے آر ڈی او حیدرآباد کو یادداشت پیش کی ۔ محمد اسمعیل الرب انصاری المعروف اردو انصاری کی قیادت میں وفد نے یادداشت پیش کی اور تحفظات کو بی سی کمیشن کی سفارش سے جاری کرنے کا مطالبہ کیا ۔ اردو انصاری نے تحفظات کے لیے سیاست کی تحریک کی ستائش کی اور اضلاع میں خصوصی مہم چلانے کا ارادہ کیا ۔ اس موقع پر وفد میں خواتین و طالبات کی کثیر تعداد موجود تھی ۔ تلنگانہ ویلفیر کونسل کی جانب سے بہادر پورہ تحصیلدار کو ایک یادداشت پیش کی گئی ۔ تلنگانہ ویلفیر کونسل کے صدر نصیر سلطان کی قیادت میں ایک وفد نے تحصیلدار بہادر پورہ محترمہ حسینہ بیگم کو یادداشت پیش کی ۔ اور 12 فیصد تحفظات کو یقینی بنانے فوری بی سی کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ۔ وفد میں مختار بیگ، عدنان شریف ، کاظم حسین ، امجد و دیگر شامل تھے ۔ شمس آباد علاقہ میں ٹی آر ایس اقلیتی سیل جنرل سکریٹری ایس ایم اسلم قادری کی قیادت میں ایک وفد نے صدر منڈل چکا ایلیا سے ملاقات کرتے ہوئے 12 فیصد مسلم تحفظات کو فراہم کرنے یادداشت پیش کی ۔ ایس ایم احسن قادری ، سید جعفر علی ، شیخ خلیل ، محمد مختار اور یس قادری ، ایم اے رفیق و دیگر موجود تھے ۔ کوکٹ پلی میں صدر انتظامی کمیٹی شیخ عبدالعزیز نے مسجد محمدیہ میں 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے مسلمانوں میں شعور بیدار کیا اور سیاست کے جاری کردہ پروفارما حاصل کرکے اس کو یادداشت کی شکل میں متعلقہ تحصیلدار آر ڈی او ، کلکٹر ، ریاستی وزراء اور عوامی منتخبہ نمائندوں کو پیش کرنے کی اپیل کی ۔ اضلاع میں آج 12 فیصد مسلم تحفظات کیلئے نمائندگیوں کا زبردست اثر دیکھا گیا ۔ جوگی پیٹ ضلع میدک میں قبرستان کمیٹی کی جانب سے  ۔          ( باقی سلسلہ صفحہ 16 پر )

TOPPOPULARRECENT