Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ کے 15 یونیورسٹیز کے لیے مشترکہ قانون سازی کی تجویز

تلنگانہ کے 15 یونیورسٹیز کے لیے مشترکہ قانون سازی کی تجویز

وائس چانسلرس کا اجلاس ، چیرمین ہائیر ایجوکیشن کونسل پاپی ریڈی کا خطاب
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز) : حکومت تلنگانہ کے 15 یونیورسٹیز کے لیے ایک ہی مشترکہ قانون بنانے کی تیاری کررہی ہے ۔ صدر نشین اعلیٰ تعلیم کونسل پاپی ریڈی نے وائس چانسلرس کا اجلاس طلب کرتے ہوئے اس کا جائزہ لیا ہے ۔ مستقبل میں مزید اجلاس طلب کرنے سے بھی اتفاق کیا گیا ہے ۔ ریاست میں جملہ 15 یونیورسٹیز ہیں ۔ جن میں 6 یونیورسٹیز ، 8 خصوصی یونیورسٹیز اور ایک اوپن یونیورسٹی موجود ہے ۔ جن کے علحدہ علحدہ قاعدے قانون ہیں انہیں ایک ہی قانون کے تحت لانے کی تیاری کی جارہی ہے تاکہ یونیورسٹیز کی ترقی ، نظم و نسق پر سختی سے عمل آوری اور مختلف نوعیت کے فیصلے کرنے میں آسانی ہوسکے ۔ نئی قانون سازی کے لیے صدر نشین پاپی ریڈی نے 10 یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس کا اجلاس طلب کرتے ہوئے ریاستی حکومت کی تجویز سے انہیں واقف کرایا اور تمام یونیورسٹیز کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لانے سے ہونے والے فائدہ پر روشنی ڈالتے ہوئے ان سے تجاویز طلب کی ۔ اس اجلاس میں ایک ہی قانون کے مسئلہ پر تائید اور مخالفت میں رائے سامنے آئی ۔ تمام یونیورسٹیز کے وائس چانسلرس سے مزید تین یا چار اجلاس منعقد کرنے سے بھی اتفاق کیا گیا ہے ۔ ابھی تک ریاست میں تین اقسام کی یونیورسٹیز خدمات انجام دے رہی ہیں اور جن کے علحدہ علحدہ قوانین ہیں ۔ عثمانیہ ، کاکتیہ ، مہاتما گاندھی ، شاتاواہنا ، تلنگانہ ، پالمور یونیورسٹیز کیلئے ایک قانون ہے ۔ بی آر امبیڈکر اوپن یونیورسٹی ، جے این ٹی یو ایچ ، تلگو یونیورسٹی ، کالوجی نارائن راؤ ہیلت یونیورسٹی ، پروفیسر جئے شنکر زرعی یونیورسٹی ، راجیو گاندھی یونیورسٹی آف نالج ٹکنالوجیز ، جے این یو ایف آئی ، کنڈہ لکشمن باپوجی ہارٹیکلچر یونیورسٹی ، پی وی نرسمہا راؤ وئیٹری یونیورسٹی کیلئے علحدہ علحدہ قانون ہے ۔ یونیورسٹیز کے علحدہ علحدہ قوانین کی وجہ سے حکومت کو فیصلے کرنے میں دشواریاں پیش آرہی ہیں جس پر نظر ثانی کرنیکا حکومت نے فیصلہ کیا ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT