Sunday , May 28 2017
Home / شہر کی خبریں / تلنگانہ ۔ مسلم آبادی والے حلقوں پر بی جے پی کی نظر!

تلنگانہ ۔ مسلم آبادی والے حلقوں پر بی جے پی کی نظر!

یو پی کا تجربہ دہرانے کا منصوبہ ، فرقہ وارانہ اساس پر ووٹ کی تقسیم سے ٹی آر ایس الجھن میں
حیدرآباد۔14 اپریل (سیاست نیوز) تلنگانہ میں 2019ء کے اسمبلی انتخابات کے لیے بی جے پی اور حکومت کی حلیف مقامی سیاسی جماعت کے زائد نشستوں پر مقابلے کی تیاریوں سے اندیشہ ہے کہ اترپردیش کی طرح مذہبی اساس پر ووٹ تقسیم ہوجائیں۔ ان حالات میں فائدہ بی جے پی کا ہوگا۔ بی جے پی نے اترپردیش کے نتائج کے بعد تلنگانہ پر اپنی توجہ مرکوز کردی ہے اور وہ مسلم قابل لحاظ آبادی والے علاقوں کی نشاندہی کررہی ہے تاکہ وہاں اپنی طاقت جھونک دے۔ بی جے پی ان حلقوں میں مسلمانوں کی تائید حاصل کرنا نہیں چاہتی بلکہ وہ ہندو ووٹ متحد کرتے ہوئے اپنے امیدواروں کو کامیاب بنانے کا منصوبہ رکھتی ہے کیوںکہ اترپردیش میں یہ تجربہ کامیاب ثابت ہوا تھا۔ دیوبند کی مسلم اکثریت نشست پر بی جے پی کے غیر مسلم امیدوار کی کامیابی نے تلنگانہ میں اس طرح کی حکمت عملی تیار کرنے کے لیے بی جے پی قیادت کے حوصلوں کو بلند کردیا ہے۔ تلنگانہ میں مذہبی اساس پر ووٹ تقسیم کرنے کے لیے بی جے پی کے پاس اہم مسئلہ مسلم تحفظات کا رہے گا اور پارٹی نے اپنے حالیہ تین روزہ ٹریننگ پروگرام میں قائدین اور کیڈر کو ہدایت دی ہے کہ وہ ریاست گیر سطح پر مسلم تحفظات کے خلاف ایجیٹیشن کے لیے تیار ہو جائیں۔ بتایا جاتا ہے کہ مسلم قابل لحاظ آبادی والے علاقوں میں بی جے پی مسلم تحفظات کے خلاف شدت کے ساتھ مہم چلاتے ہوئے اکثریتی فرقہ کے ووٹ اپنے حق میں متحد کرنے کی کوشش کرے گی۔ ایک طرف بی جے پی کی حکمت عملی اور دوسری طرف مقامی سیاسی جماعت کی جانب سے زائد نشستوں پر نظر رکھے جانے سے برسر اقتدار ٹی آر ایس میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ ٹی آر ایس قائدین کا ماننا ہے کہ اگر مقامی جماعت مجلس زائد نشستوں پر مقابلہ کرتے ہوئے مسلم ووٹ متحد کرنے کی کوشش کرے گی تو اس کا راست طور پر فائدہ بی جے پی کو ہوگا۔ قائدین کا احساس ہے کہ جس طرح اترپردیش، مہاراشٹرا اور دیگر علاقوں میں مجلس کے انتخابات میں حصہ لینے سے بی جے پی کو فائدہ حاصل ہوا، ٹھیک اسی طرح تلنگانہ میں بھی اس تجربہ کو دہرایا جاسکتا ہے۔ یہاں دونوں پارٹیاں مذہبی بنیاد پر ووٹ متحد کرتے ہوئے ایک دوسرے کو فائدہ پہنچانے کی کوشش کرسکتی ہیں۔ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ 2019ء کے عام انتخابات میں تلنگانہ کی زائد نشستوں پر انتخابی مہم فرقہ وارانہ رنگ اختیار کرسکتی ہے۔ ایک طرف بی جے پی تو دوسری طرف مجلس اس سیاست کے اہم کردار ہوسکتے ہیں۔ ٹی آر ایس کو اس صورتحال سے نقصان کا بھی اندیشہ ہے کیوں کہ مسلم تحفظات کی فراہمی کی صورت میں اگر اقلیتی رائے دہندے ٹی آر ایس کی کھل کر تائید کریں تو اس کا منفی اثر اکثریتی طبقے پر پڑسکتا ہے اور وہ بی جے پی کی طرف منتقل ہوسکتے ہیں۔ بی جے پی مسلم تحفظات کے مسئلہ کو اپنے لیے ایک نعمت غیر مترقبہ تصور کررہی ہے کیوں کہ یہی ایک ایسا مسئلہ جس کی بنیاد پر ہندو رائے دہندوں کو متحد کیا جاسکتا ہے۔ اسی دوران بی جے پی کے ذرائع نے بتایا کہ پارٹی کی قومی قیادت نے تلنگانہ میں 8 تا 10 لوک سبھا اور 60 تا 65 اسمبلی نشستوں کا نشانہ مقرر کیا ہے۔ ان حلقوں میں اقلیتی رائے دہندوں کی قابل لحاظ آبادی ہے اور بی جے پی چاہتی ہے کہ ان حلقوں میں تحفظات کے خلاف مہم شدت کے ساتھ چلائی جائے۔ پارٹی کے ایک قائد نے بتایا کہ ریاستی لیڈرشپ نے مجوزہ انتخابات کے لیے امیدواروں کی نشاندہی کا عمل شروع کردیا ہے ان میں ایسے افراد کو ترجیح دی جائے گی جو کٹر ہندووادی نظریات کے سبب عوام میں جانے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ ٹی آر ایس اور دیگر جماعتوں کے بعض اہم قائدین سے بھی بات چیت کی جارہی ہے تاکہ انتخابات سے عین قبل انہیں بی جے پی میں شامل کیا جاسکے۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ تین برسوں میں کسی بھی سرکاری عہدے سے محروم ٹی آر ایس کے کئی قائدین فی الوقت بی جے پی سے ربط میں ہیں۔ ان میں بعض ارکان اسمبلی بھی شامل ہیں۔ اسی دوران بی جے پی کے ریاستی صدر ڈاکٹر لکشمن نے اعلان کیا کہ اسمبلی میں مسلم تحفظات بل کی منظوری کے بعد ریاست کے ہر گوشے میں ایجیٹیشن کا آغاز کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ سابق میں عدالت نے مذہبی بنیادوں پر تحفظات کی فراہمی کی مخالفت کرتے ہوئے اسے کالعدم کردیا تھا۔ لکشمن کا کہنا ہے کہ مسلمانوں کے موجودہ تحفظات پر سپریم کورٹ میں مقدمہ زیر دوراں ہے ایسے میں تحفظات کے فیصد میں اضافہ سے یہ معاملہ مزید الجھ سکتا ہے۔ انہوں نے واضح کردیا کہ بی جے پی اور مرکزی حکومت مذہبی بنیادوں پر تحفظات کی ہرگز تائید نہیں کرسکتی۔ بل کی منظوری کے بعد اگر مرکز کو روانہ کیا جائے تو صدارتی منظوری کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ تلنگانہ میں بی جے پی اور مقامی سیاسی جماعت نے فرقہ وارانہ اساس پر ووٹ حاصل کرنے کا جو منصوبہ تیار کیا ہے، اس سے تلنگانہ کی روایتی گنگا جمنی تہذیب کا ماحول ہی متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT