Wednesday , August 23 2017
Home / اداریہ / تلنگانہ ۔ مہاراشٹرا معاہدہ

تلنگانہ ۔ مہاراشٹرا معاہدہ

پختہ ہوتی ہے اگر مصلحت اندیش ہو عقل
عشق ہو مصلحت اندیش تو ہے خام ابھی
تلنگانہ ۔ مہاراشٹرا معاہدہ
حکومت تلنگانہ اور مہاراشٹرا کے درمیان دریائے گوداوری پر پانچ بیاریجس کی تعمیر کا معاہدہ تاریخی اہمیت کا حامل ہے۔ اس معاہدہ کے تحت دونوں ریاستوں میں آبی تقسیم اور پراجیکٹس کی تکمیل میں تعاون عمل تیز ہوگا۔ دریائے گوداوری پر تعمیر کئے جانے والے پانچ بیاریجس میں سے تین کی تعمیر تلنگانہ حکومت کرے گی جبکہ دو بیاریجس کی تعمیر حکومت مہاراشٹرا کی جانب سے مکمل کیا جائے گا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ریاستوں کی حکومتوں کے درمیان دو مختلف فریقین کی جانب سے مذاکرات کے ذریعہ بین ریاستی آبی تنازعہ کو حل کرلیا گیا ہے۔ اس یادداشت مفاہمت سے تلنگانہ اور مہاراشٹرا حکومتوں کے لئے آبپاشی پراجیکٹس کی راہ ہموار ہوگی۔ معاوضہ کے معاہدوں میں دریائے گوداوری پر تعمیر کئے جانے والے تمام زیرالتواء پراجیکٹس کے لئے بھی جامع معاہدات ہوئے ہیں۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے پڑوسی ریاستوں سے خوشگوار تعلقات کو فروغ دینے میں قابل ستائش پہل کی ہے۔ چیف منسٹر مہاراشٹرا دیویندر فرنویس سے ملاقات کے دوران تلنگانہ کابینہ کی 14 رکنی ٹیم بھی چیف منسٹر کے سی آر کے ہمراہ تھی۔ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر نے اپنی کابینہ کو اعتماد میں لے کر ہی پڑوسی ریاستوں سے یادداشت مفاہمت پر دستخط کئے ہیں۔ اکثر یہ شکایت ہوتی رہی ہے کہ چیف منسٹر نے کابینہ کو بتائے بغیر فیصلے کرلئے ہیں۔ یہاں چیف منسٹر نے اپنی کابینہ کو بھروسہ میں لیا ہے، اس لئے ان کے تمام افراد اور رفقاء وفاداری کا بہترین مظاہرہ کرتے آرہے ہیں۔ مہاراشٹرا کے ساتھ اس معاہدہ سے مثبت نتائج کی اُمید کی جاسکتی ہے۔ ریاست کی ترقی کے لئے چیف منسٹر کی کوششیں مستحسن اقدام ہے، مگر ان کے حامیوں نے ان کے لئے مہاراشٹرا سے واپسی کے بعد جشن اور استقبال کا جو ماحول پیدا کیا ہے، وہ غیرضروری اور فضول خرچی کی تعریف میں آتا ہے۔ ایک نوخیز ریاست ’’تلنگانہ‘‘ کے چیف منسٹر کو ہر کام کے بعد اچھی مسرت محسوس ہوتی ہوگی  ، اور اس مسرت کا اظہار کرنا بھی فطری امر ہے لیکن کے سی آر نے اپنے حامیوں کو اتنی کھلی چھوٹ دی ہے کہ انہوں نے کے سی آر پر ہونے والی فضول خرچیوں کی تنقیدوں کا خیال نہیں کیا۔ بلاشبہ دریائے گوداوری پر پانچ بیاریجس کی تعمیر ایک اچھی کوشش ہے۔ اس سے شمالی تلنگانہ سرسبز و شاداب ہوجانے کی توقع ہے۔ حکومت تلنگانہ نے آبپاشی کے لئے ہر سال بجٹ میں 25 ہزار کروڑ روپئے مختص کرنے کا عہد کیا ہے۔ حکومت تلنگانہ ایک طرف نئے پروجیکٹس کیلئے معاہدوں کو جوش و خروش سے قطعیت دے رہی ہے تو دوسری طرف اس کے شروع کردہ پروجیکٹس یا سابق حکومتوں کے چھوڑے گئے ادھورے پروجیکٹس کی تکمیل پر دھیان نہیں دے رہی ہے۔ شہر حیدرآباد میں بھی کئی ایسے پروجیکٹس ہیں جو برسوں سے تعطل کا شکار ہیں، چارمینار پیدل راہرو پروجیکٹس ہو یا موسیٰ ندی کی صفائی کا پروجیکٹ یہ تمام کام صرف وقتی دکھائی دیتے ہیں۔ کچھ دیر کام کیا اور پھر آرام کرنے کی عادت نے حکومتوں کو اپنے کام ادھورے چھوڑ دینے کی لعنت لگ گئی ہے۔ اس سے عوام کا پیسہ پانی میں چلا جارہا ہے جن پروجیکٹس کو وقت پر شروع کرکے اسے وقت پر ختم کردیا جاتا ہے، اس پر زائد مصارف عائد نہیں ہوئے لیکن جو پروجیکٹس کے اعلان ہوئے اور تخمینی لاگت کے تعین کے برسوں بعد شروع کرنے کا فیصلہ کیا جاتا ہے تو اس کی تخمینی لاگت اور اصل تعمیری لاگت میں فرق پیدا ہوجاتا ہے۔ تلنگانہ میں زرعی شعبہ کو درپیش مسائل ناقابل حل بنائے جاتے رہے ہیں۔ سابق حکومتوں نے تلنگانہ علاقہ کو آبپاشی کے معاملے میں بری طرح نظرانداز کردیا تھا۔ اس لئے یہاں کی زرعی پیداوار کی صلاحیتیں پڑوس سے کم تر تھیں۔ اب حکومت تلنگانہ اسے نئی ریاست کی باگ ڈور سنبھالی ہے تو ہونا تو چاہئے کہ ہر پروجیکٹ پر گہری اور دلچسپی کے ساتھ کام کیا جائے۔ تاریخی طور پر تلنگانہ میں زرعی شعبے میں غالب رجحان یہ تھا کہ عام طور پر کاشت کار ایک فصل اپنی ضرورت کے لئے اگاتے تھے جبکہ دوسری فصل نقدی کے لئے لیکن اب دھان کی فصل یا دیگر فصلوں کو اُگانے کا انحصار آبپاشی پروجیکٹس پر ہی رہا ہے تو اس کے لئے حکومتوں کی کوششوں کو دیانت داری سے کامیاب بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت مہاراشٹرا کے ساتھ حکومت تلنگانہ کے معاہدہ سے آبی تقسیم کے مسئلہ پر دونوں ریاستوں کے اعتراضات کا مسئلہ ختم ہوجائے گا۔ اس سے مہاراشٹرا اور تلنگانہ کے سب سے زیادہ پسماندہ علاقوں کو فائدہ ہوگا۔ دونوں ریاستوں کے چیف منسٹروں کو اس معاہدہ کو احترام کرتے ہوئے پروجیکٹس کی تکمیل کیلئے نیک نیتی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT