Sunday , August 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تلگودیشم پارٹی روایات پر برقرار: ریونت ریڈی

تلگودیشم پارٹی روایات پر برقرار: ریونت ریڈی

کے ٹی راما راؤ کو روایت سمجھنے کا مشورہ، تلنگانہ تلگودیشم کے کارگذار صدر کا ردعمل
حیدرآباد 8 مئی (سیاست نیوز) تلنگانہ تلگودیشم پارٹی کارگذار صدر مسٹر اے ریونت ریڈی نے کہاکہ تلگودیشم پارٹی نے کبھی بھی روایات سے انحراف نہیں کیا لہذا وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ کو روایات کے تعلق سے سمجھنے کی ضرورت ہے۔ انھوں نے اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے یاد دلایا کہ سابق میں تلگودیشم پارٹی نے مسٹر پی وی نرسمہا راؤ جو وزیراعظم تھے اور انھوں نے انتخاب میں حصہ لیا تھا، تب ریاست آندھراپردیش میں تلگودیشم برسر اقتدار تھی اور ایک تلگو قائد رہنے کی وجہ سے تلگودیشم پارٹی نے مسٹر پی وی نرسمہا راؤ کے خلاف امیدوار کو انتخابی میدان میں نہیں اُتارا بلکہ نرسمہا راؤ کی مکمل تائید کی تھی۔ علاوہ ازیں انھوں نے یہ بھی کہاکہ ڈاکٹر وائی ایس راج شیکھر ریڈی کی پالیسیوں سے تلگودیشم پارٹی کو سخت اختلاف ضرور تھا لیکن جب ان کی حادثاتی طور پر موت واقع ہوئی تب ان کے حلقہ اسمبلی کے لئے منعقدہ ضمنی انتخاب کے موقع پر بھی تلگودیشم پارٹی نے اپنے امیدوار کو نہ ٹھہراتے ہوئے ڈاکٹر راج شیکھر ریڈی کی اہلیہ شریمتی وجئے اماں کے بلا مقابلہ انتخاب کے لئے راہ ہموار کی تھی۔

انھوں نے مزید یاد دلایا کہ آج بھی وائی ایس جگن موہن ریڈی سے تلگودیشم پارٹی کو سخت اختلاف رہنے کے باوجود وائی ایس آر کانگریس پارٹی کی جانب سے الا گڈہ حلقہ اسمبلی کے ضمنی انتخاب میں بھی تلگودیشم پارٹی انتخابی مقابلہ سے گریز کرتے ہوئے اکھیلا پریہ امیدوار وائی ایس آر کانگریس پارٹی کے بلا مقابلہ انتخاب کو تلگودیشم پارٹی نے ہی یقینی بنایا تھا۔ اس طرح تلگودیشم پارٹی سیاسی لحاظ سے نقصان کو برداشت کرتے ہوئے بھی اخلاقی اقدار پر کاربند رہتے ہوئے ہر ضمنی انتخاب میں مقابلہ نہ کرکے روایت کو برقرار رکھنا تلگودیشم پارٹی کی اولین ترجیح رہی ہے۔ مسٹر ریونت ریڈی نے کہاکہ تلگودیشم پارٹی کے خلاف ضمنی انتخاب میں کانگریس پارٹی کی جانب سے مقابلہ کرنے کے کئی واقعات ہیں لیکن تلگودیشم پارٹی نے کبھی بھی اپنی روایت کو برقرار رکھنے کو ہی ترجیح دی ہے۔ انھوں نے مسٹر کے ٹی راما راؤ کی جانب سے تلگودیشم پر کی  جانے والی تنقیدوں پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا اور انھیں مشورہ دیا کہ سال 2009 ء میں ٹی آر ایس نے تلگودیشم پارٹی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کرکے اور سال 2004 ء میں کانگریس پارٹی کے ساتھ انتخابی مفاہمت کرکے مقابلہ کیا تھا لہذا اس دور کو بھی کے ٹی آر یاد کرلینے کی ضرورت ہے۔

TOPPOPULARRECENT