Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلگودیشم کا ٹی آر ایس میں انضمام: ای دیاکر راؤ

تلگودیشم کا ٹی آر ایس میں انضمام: ای دیاکر راؤ

حیدرآباد ۔ 12 مارچ (سیاست نیوز) ٹی آر ایس کے معاون رکن مسٹر ای دیاکر راؤ نے کہا کہ این ٹی آر سے چندرا بابو نائیڈو کی بغاوت درست ہوسکتی ہے تو ان کی جانب سے تلگودیشم مقننہ کو ٹی آر ایس میں ضم کرنے کا فیصلہ غلط کیسے ہوسکتا ہے۔ اسمبلی لابی میں میڈیا سے غیر رسمی بات چیت کرتے ہوئے دیاکر راؤ نے کہا کہ تلنگانہ میں تلگودیشم پارٹی عوامی اعتماد سے محروم ہوچکی ہے۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندرشیکھر راؤ کی کارکردگی سے ریاست کے عوام مطمئن ہیں۔ انتخابات میں ٹی آر ایس کا تنہا مقابلہ اور کامیابی اس کا ثبوت ہے۔ تلنگانہ کو گولڈن ریاست میں تبدیل کرنے کیلئے انہوں نے بحیثیت قائد مقننہ تلگودیشم پارٹی کو ٹی آر ایس میں ضم کرچکے ہیں۔ اسپیکر اسمبلی مدھوسدن چاری نے قانونی دستوری نفاذ کا جائزہ لینے کے بعد ہی تلگودیشم مقننہ پارٹی کو ٹی آر ایس میں ضم کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور ٹی آر ایس میں ضم ہونے والے تلگودیشم کے 12 ارکان اسمبلی کو ٹی آر ایس کے معاون ارکان کا درجہ دیتے ہوئے اسمبلی میں ان کے لئے ٹی آر ایس ارکان کے ساتھ نشستیں الاٹ کردی گئی ہیں۔ انہوں نے میڈیا کی خبروں پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم ٹی آر ایس میں شامل نہیں ہوئے بلکہ ٹی ڈی پی کو ٹی آر ایس میں ضم کردیئے ہیں۔ چندرا بابو نائیڈو نے جب بانی تلگودیشم پارٹی این ٹی آر سے بغاوت کی تو ہم سب نے ان کا مکمل تعاون کیا۔ جب چندرا بابو نائیڈو کا فیصلہ درست ہوسکتا ہے تو ہمارا تلگودیشم مقننہ پارٹی کو ٹی آر ایس میں ضم کرنے کا فیصلہ غلط کیسے ہوسکتا ہے۔ وزارت میں شمولیت سے متعلق سوال کا جواب دیتے ہوئے دیاکرراؤ نے کہاکہ وہ وزارت یا کسی عہدے کے لالچ میں ٹی آر ایس میں ضم نہیں ہوئے بلکہ تلنگانہ کی ترقی اور عوام کی فلاح و بہبود کے معاملے میں دن رات کام کرنے والے چیف منسٹر کے سی آر سے تعاون کرنے اور سنہرے تلنگانہ کا حصہ بننے کیلئے ٹی آر ایس سے وابستہ ہوئے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT