Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / تلگو دیشم پارٹی کا ٹی آر ایس میں انضمام صرف ہوائی قلعہ

تلگو دیشم پارٹی کا ٹی آر ایس میں انضمام صرف ہوائی قلعہ

اسپیکر کو نہیں سنٹرل الیکشن کمیشن کو اختیار ، ریونت ریڈی کا قائد مقننہ جائزہ کے بعد خطاب
حیدرآباد ۔ 12 ۔ فروری : ( سیاست نیوز) : ریونت ریڈی نے تلنگانہ تلگو دیشم قائد مقننہ کی حیثیت سے آج اپنی ذمہ داری کا جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ تلگو دیشم پارٹی کا ٹی آر ایس میں انضمام صرف ہوائی قلعہ ہے ۔ اسپیکر اسمبلی کو نہیں سنٹرل الیکشن کمیشن کو ہی اس کا اختیار ہے ۔ سربراہ تلگو دیشم پارٹی چندرا بابو نائیڈو نے ای دیاکر راؤ کی جانب سے تلگو دیشم کو استعفیٰ دینے اور ٹی آر ایس میں شمولیت کے بعد ڈپٹی فلور لیڈر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے والے مسٹر ریونت ریڈی کو تلگو دیشم پارٹی کے فلور لیڈر کی حیثیت سے نامزد کیا ۔ آج ریونت ریڈی نے تلنگانہ تلگو دیشم کے ارکان اسمبلی مسٹر ایم گوپی ناتھ ، مسٹر ایس وینکٹ وریا اور مسٹر اے گاندھی کی موجودگی میں اپنے نئے عہدہ کا جائزہ لینے کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پارٹی وفاداریاں تبدیل کرنے والے تلگو دیشم ارکان اسمبلی کی رکنیت منسوخ کرنے کی اسپیکر اسمبلی سے ماضی میں نمائندگی کی گئی ہے ۔ باوجود اس کے اسپیکر اسمبلی مسٹر مدھو سدن چاری ٹال مٹول کی پالیسی اپنا رہے ہیں ۔ تلگو دیشم پارٹی عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹانے کے لیے ماہرین قانون و دستور سے مشاورت کررہی ہے اور بہت جلد ہائی کورٹ سے تلگو دیشم پارٹی رجوع ہوگی ۔ دیاکر راؤ کی جانب سے تلگو دیشم کو ٹی آر ایس میں ضم کرنے کے اسپیکر اسمبلی کو پیش کردہ مکتوب کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر ریونت ریڈی نے مکتوب اور مطالبہ کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک جماعت کو دوسری جماعت میں ضم کرنے کا اختیار اسپیکر اسمبلی کو نہیں ہے ۔ انہوں نے فلم اسٹار سے سیاستداں بن جانے والے چرنجیوی کی سیاسی جماعت پرجا راجیم کے کانگریس میں انضمام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نیشنل الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد ہی انضمام کی کارروائی مکمل ہوئی ہے ۔ تلگو دیشم کے 10 ارکان اسمبلی جو ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں وہ صرف تلگو دیشم پارٹی کا ایک حصہ ہیں ۔ مقننہ پارٹی الگ ہے ۔ تلگو دیشم پارٹی الگ ہے ۔ اگر انضمام کرنا ہے تو تلگو دیشم کے اجلاس میں ایک قرار داد منظور کرنا لازمی ہے ۔ تلنگانہ قانون ساز کونسل میں صدر نشین کی جانب سے تلگو دیشم کو ٹی آر ایس میں ضم کرنے کے فیصلے پر پوچھے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلہ بھی غلط تھا اس فیصلے کو بھی تلگو دیشم ہائی کورٹ میں چیلنج کرے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT