Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / تلگو دیشم کے ارکان اسمبلی کا ٹی آر ایس میں انضمام ، کانگریس کا مسئلہ جوں کا توں

تلگو دیشم کے ارکان اسمبلی کا ٹی آر ایس میں انضمام ، کانگریس کا مسئلہ جوں کا توں

اسپیکر تلنگانہ اسمبلی کے فیصلہ پر اعتراض ، قائد اپوزیشن کے جانا ریڈی کا ردعمل
حیدرآباد ۔ 11 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : قائد اپوزیشن مسٹر کے جانا ریڈی نے کانگریس سے انحراف کرنے والے ارکان اسمبلی کے فیصلے کو اسپیکر اسمبلی کی جانب سے زیر التواء رکھتے ہوئے تلگو دیشم کے 12 ارکان اسمبلی کو حکمران ٹی آر ایس میں ضم کرنے کے فیصلے پر سخت اعتراض کرتے ہوئے اس کو دستور ، قانون اور اخلاق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اسمبلی میں موضوع بحث بنانے کا اعلان کیا ۔ آج سی ایل پی آفس اسمبلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جانا ریڈی نے حکومت سے سافٹ کارنر سے پیش آنے کے سوال پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی کارنر ہے نہ سافٹ ہے ۔ کانگریس پارٹی عوامی مسائل کو حکومت تک پہونچانے کے معاملے میں اپوزیشن کا تعمیری رول ادا کرے گی ۔ مگر حکومت عددی طاقت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے من مانی کررہی ہے ۔ تلنگانہ کے عوام نے ٹی آر ایس کو حکومت چلانے کے لیے مکمل اکثریت فراہم کی ہے ۔ باوجود اس کے حکمران ٹی آر ایس دوسری جماعتوں سے کامیاب ہونے والے ارکان اسمبلی کو اپنی جماعت میں شامل ہونے کی ترغیب دیتے ہوئے غیر جمہوری غیر قانونی اقدامات کررہی ہے ۔ جس کی کانگریس پارٹی سخت مذمت کرتی ہے ۔ حکومت کی جانب سے تلنگانہ میں بڑے پیمانے پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کو ترغیب دی جارہی ہے ۔ کانگریس کے بھی چند ارکان اسمبلی ٹی آر ایس میں شامل ہوئے ہیں ۔ کانگریس نے ان کے خلاف انحراف قانون کے تحت کارروائی کرنے کی اسپیکر اسمبلی سے نمائندگی کی ہے ۔ اس پر غور کرنے یا تلگو دیشم کے 12 ارکان اسمبلی کو تلگو دیشم میں ضم کرنے سے قبل کانگریس کے زیر التواء پٹیشن پر کسی قسم کا ردعمل ظاہر کریں ۔ بغیر عجلت میں تلگو دیشم ارکان کے بارے میں فیصلہ کیا گیا ہے ۔ جو غیر دستوری ہے ۔ اس پر ایوان اسمبلی کے ساتھ ساتھ تلنگانہ کے مختلف پلیٹ فارمس پر اس مسئلہ پر مباحث ہونی چاہئے ۔ کانگریس پارٹی اس مسئلہ پر ماہرین قانون و دستور سے مشاورت کرتے ہوئے انصاف کے لیے عدالت سے رجوع ہوگی ۔ حکمرانوں کی ذمہ داری ہے ۔ وہ قوانین ، قواعد ، دستور اور اخلاق کا احترام کرتے ہوئے ایسے فیصلے صادر کریں جس سے ایوانوں اور قانون پر عوام کا بھروسہ قائم کریں اور مثال بنیں تاہم سیاسی مفادات کی خاطر قانون اور دستور کی خلاف ورزی کرتے ہوئے قانون اور دستور کو اپنی مرضی کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ جس کے خلاف کانگریس پارٹی اپنی جدوجہد کو جاری رکھے گی ۔۔

TOPPOPULARRECENT