Tuesday , August 22 2017
Home / شہر کی خبریں / تلگو دیشم ۔ بی جے پی اتحاد میں پھوٹ کے امکانات

تلگو دیشم ۔ بی جے پی اتحاد میں پھوٹ کے امکانات

اے پی کو مرکز کی ناکافی مدد پر نالاں چندرا بابو نائیڈ اچانک اقلیتوں ، بالخصوص مسلمانوں کو مائل کرنے کوشاں
حیدرآباد ۔ 4 ۔ اپریل : ( ایجنسیز ) : چیف منسٹر آندھرا پردیش و تلگو دیشم پارٹی سربراہ این چندرا بابو نائیڈو کی جانب سے اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو لبھانے کی اچانک کوششوں سے آنے والے دنوں میں ان کی پارٹی اور بی جے پی میں امکانی پھوٹ پر سیاسی حلقوں میں ایک دلچسپ بحث ہوگئی ہے ۔ نائیڈو کی جانب سے مسلمانوں کو ان کی فلاح و بہبود کے لیے بھر پور مدد کرنے کا وعدہ کرتے ہوئے ان کی حکومت کے لیے ان کی تائید حاصل کرنے کی کاوشوں سے سیاسی تجزیہ کاروں کی جانب سے دو حلیف جماعتوں تلگو دیشم اور بی جے پی کے درمیان اتحاد ٹوٹ جانے کے امکانات کی پیش قیاسی کی جارہی ہے ۔ چیف منسٹر ، جنہوں نے گذشتہ دو سال میں کسی مسلم قائد کو ان کی کابینہ میں شامل کرنے کے بارے میں نہیں سونچا تھا ، اب اچانک یہ اعلان کیا ہے کہ ایک مسلمان قائد کو جلد ہی ریاستی کابینہ میں مقام ملے گا ۔ ہفتہ کی شب وجئے واڑہ میں مسلم قائدین کے ایک اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے چندرا بابو نائیڈو نے کہا کہ ان کی پارٹی نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کے لیے اقدامات کرنے کا تہیہ کیا ہے ۔ ہماری واحد پارٹی ہے جس نے مسلمانوں کی ترقی ان کی فلاح و بہبود کے لیے مختلف اقدامات شروع کئے ہیں ، جلد ہی ایک مسلم قائد کو کابینہ میں شامل کیا جائے گا ۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ قبل ازیں دن میں عارضی دارالحکومت میں ریاستی کابینہ کے ایک اجلاس سے مخاطب کرتے ہوئے مسٹر نائیڈو نے نئی تشکیل دی گئی ریاست آندھرا پردیش کی مالی ضرورتوں پر کوئی توجہ نہ دینے پر مرکز کی بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت پر اپنی ناراضگی کا اظہار کیا جو شدید مالیاتی بحران سے دوچار ہے ۔ ذرائع کے مطابق کابینہ کے اجلاس کے بعد ان کے پارٹی قائدین سے بات چیت کرتے ہوئے چیف منسٹر نے سمجھا جاتا ہے کہ اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مرکزی حکومت ریاست آندھرا پردیش کے مسائل پر مناسب توجہ نہیں دے رہی ہے ۔ انہوں نے کہا جاتا ہے کہ یہ بھی ریمارک کیا کہ بی جے پی مرکزی قیادت آندھرا پردیش میں مالی مشکلات سے دوچار تلگو دیشم حکومت کی مالی مشکلات کو دور کرنے پر توجہ دینے سے زیادہ تلنگانہ میں حکمران ٹی آر ایس کے ساتھ دوستی کرنے میں سنجیدہ ہے ۔ تلگو دیشم پارٹی میں رہنے والوں کے مطابق مسٹر نائیڈو مرکز کی جانب سے ریاست کو اس کے دارالحکومت کی تعمیر پولاوارم آبپاشی پراجکٹ اور بھاری ریونیو خسارہ پر قابو پانے کے لیے خاطر خواہ فنڈس نہ دینے پر ناراض ہیں ۔ اس کے علاوہ تلگو دیشم قائدین میں یہ شبہ بڑھ رہا ہے کہ بی جے پی مرکزی قیادت نے آئندہ عام انتخابات تک وائی ایس جگن موہن ریڈی کی پارٹی وائی ایس آر کانگریس کے ساتھ اتحاد کرنے کے آپشن کو کھلا رکھا ہے ۔ تلگو دیشم کے ایک قائد نے کہا کہ ہمیں اس بات کا شبہ ہے کہ 2019 کے انتخابات تک اگر ہماری پارٹی عوام کے اعتماد کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوجائے تو بی جے پی ۔ وائی ایس آر کانگریس کے ساتھ اتحاد کرے گی ۔ اسی لیے ہمارے پارٹی قائد چندرا بابو نائیڈو آئندہ انتخابات تک وائی ایس آر کانگریس کو توڑنے میں سنجیدہ ہیں اور وہ بار بار ہم سے کہہ رہے ہیں کہ جگن کی پارٹی سے انحراف کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ اسے مزید کمزور کیا جاسکے ۔ اس پس منظر میں مسٹر نائیڈو نے اچانک اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے لیے فلاحی اقدامات کرنے کے اعلانات کرنا شروع کردیا ہے ۔ وائی ایس راج شیکھر ریڈی کے ہر فیصلہ کی مخالفت کرنے کی ان کی عادت کے برعکس چندرا بابو نائیڈو نے مسلمانوں کو چار فیصد تحفظات کیلئے وائی ایس آر کی تجویز کی کھل کر تائید بھی کی ہے ۔ مسلم قائدین نے بتایا کہ مسٹر نائیڈو نے کہا کہ اگر ضروری ہو تو وہ مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار میں چار فیصد تحفظات کی فراہمی کیلئے قانونی راستہ اختیار کرنے کے لیے تیار ہیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT