Saturday , October 21 2017
Home / دنیا / تمام تر توجہ ملازمتوں، ہیلتھ کیئر، سرحدی سیکوریٹی اور امیگریشن پر مرکوز رکھوںگا : ٹرمپ

تمام تر توجہ ملازمتوں، ہیلتھ کیئر، سرحدی سیکوریٹی اور امیگریشن پر مرکوز رکھوںگا : ٹرمپ

ہلاری کے خلاف کوئی کارروائی نہ کرنے کا اشارہ، اوباما مزاح کی حس رکھنے والی شخصیت
واشنگٹن ۔ 14 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) امریکہ کے نومنتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنے عہدہ کا جائزہ حاصل کرنے سے قبل چند اہم اقدامات کئے ہیں جن کے مطابق انہوں نے ریپبلکن کے اعلیٰ سطحی  قائد رینس پرائبس کو اپنے چیف آف اسٹاف اور اپنے کیمپین سی ای او اسٹیفین بیانن کو حکمت عملی کا سربراہ نامزد کیا ہے۔ ان دو عہدوں کو اہم ترین عہدوں سے تعبیر کیا جارہا ہے جو انتہائی صلاحیت کے حامل شخصیتوں کے حوالے کیا گیا ہے جنہوں نے ٹرمپ کی تاریخی فتح میں اہم رول ادا کیا۔ یاد رہیکہ ڈونالڈ ٹرمپ 20 جنوری 2017ء کو امریکہ کے 45 ویں صدر کی حیثیت سے حلف لیں گے۔ انہوں نے مندرجہ بالا عہدوں کا کل اعلان کیا تھا جس کے بعد اب وائیٹ ہاؤس کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔ اس موقع پر ٹرمپ نے اپنے  خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہیں اس بات کی بے انتہاء خوشی ہیکہ ان کی کامیاب ٹیم اب ملک کا نظام چلانے میں بھی ان کے ساتھ ہوگی۔ مذکورہ بالا دونوں قائدین نومنتخبہ نائب صدر مائیک پنس کے ساتھ بھی کام کریں گے تاکہ اناگوریشن ڈے سے قبل ا قتدار کی منتقلی میں بھی اہم رول ادا کرسکیں۔ اس موقع پر دونوں رینس پرائبس اور اسٹیفین بیانن نے منتخبہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے اظہارتشکر کیا اور کہا کہ یہ ہمارے لئے اعزاز ہیکہ ہم وائیٹ ہاؤس میں امریکہ کے نئے صدر کے ساتھ کام کریں گے۔ دوسری طرف ڈونالڈ ٹرمپ نے سی بی اسی کے ’’60 منٹ‘‘ نامی پروگرام میں حصہ لیتے ہوئے سبکدوش ہونے والے امریکی صدر بارک اوباما کو ایک بہترین اور مزاح کی حس رکھنے والی شخصیت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ اوباما کے ساتھ ہوئی حالیہ ملاقات میں دونوں نے صدارتی انتخابات کے دوران چلائی جارہی مہمات کی تلخیوں کے بارے میں کوئی تبادلہ خیال نہیں کیا کیونکہ اب یہ ایک فراموش کردہ باب ہے۔ اوباما کے ساتھ میں نے چند ’’پیچیدہ موضوعات‘‘ پر بات کی جن میں کچھ ایسی باتیں بھی شامل تھیں جنہیں اوباما اپنی دانست میں اچھی تصور کرتے ہیں۔ یاد رہیکہ 70 سالہ ٹرمپ نے جمعرات کو وائیٹ ہاؤس کے اوول آفس میں اوباما سے ملاقات کی تھی۔ ملاقات کا وقت صرف 15 منٹ طئے کیا گیا تھا۔ تاہم دونوں قائدین بات چیت میں کچھ اس قدر محو ہوئے کہ دیڑھ گھنٹہ گذر گیا۔ ٹرمپ نے کہاکہ موضوعات اتنے زیادہ اور اتنے دلچسپ تھے کہ ملاقات کا سلسلہ چار گھنٹے بھی جاری رہ سکتا تھا۔ البتہ جس موضوع پر بات چیت مزیدار نہیں رہی وہ مشرق وسطیٰ کی صورتحال کا موضوع تھا۔ اوباما نے البتہ ٹرمپ سے خود ان کے (اوباما) شروع کردہ ہیلتھ کیئر پروگرام کو کالعدم نہ کرنے کے بارے میںکچھ نہیں کہا۔ ٹرمپ نے اس بات کا اعتراف بھی کیا کہ اوباما سے ملاقات کے دوران کوئی بھی ایسا لمحہ نہیں آیا جسے ہم غیرموزوں یا نامناسب قرار دے سکیں۔ ٹرمپ نے البتہ ڈیموکریٹک ہلاری کلنٹن کے خلاف کسی خصوصی پراسیکیوٹر کی تقرری کے بارے میں بھی کچھ نہیں کہا اور یہ اشارہ دیا کہ وہ فی الحال اپنی تمام تر توجہ ملازمتوں، صحت، امیگریشن اور سرحدی سیکوریٹی پر مرکوز رکھیں گے۔ ’’60 منٹ‘‘ پروگرام میں ٹرمپ نے ایک اور اچھی بات کہی کہ انہیں اب ایسا محسوس ہورہا ہیکہ وہ اپنی تمام تر توجہ ملازمتوں کی جانب مرکوز رکھیں۔ ہیلتھ کیئر کی جانب مرکوز رکھیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ ہلاری کے خلاف کسی بھی پراسیکیوٹر کو مقرر کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔ میں انہیں (ہلاری) تکلیف دینا نہیں چاہتا۔ وہ ایک اچھی شخصیت ہیں۔ یاد رہیکہ انتخابی ریالیوں کے بعد ٹرمپ اور ہلاری کے درمیان آمنے سامنے تین مباحثے بھی ہوئے تھے۔ ٹرمپ نے کہا کہ میں آج وعدہ کرتا ہوں ’’60 منٹ‘‘ کے آئندہ پروگرام میں وہ اور ہلاری ایک ساتھ شرکت کریں گے۔

TOPPOPULARRECENT