Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / تمام شعبہ جات کو معیاری برقی سربراہی کی مساعی

تمام شعبہ جات کو معیاری برقی سربراہی کی مساعی

برقی کٹوتی کا سلسلہ بند ، کونسل میں وزیر برقی جگدیش ریڈی کا بیان
حیدرآباد۔16ڈسمبر(سیاست نیوز) ریاست میں برقی پیداوار میں ہونے والے اضافہ کے سبب ریاست کے تمام شعبہ جات کو معیاری برقی کی فراہمی یقینی بنائی جا رہی ہے اور حکومت اعلی معیاری برقی تمام صارفین کو پہنچانے کے عہد کی پابند ہے۔ ریاستی وزیر برقی مسٹر جی جگدیش ریڈی نے آج تلنگانہ قانون ساز کونسل میں مختصر مدتی مباحث کا آغاز کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے معیاری برقی سربراہی کے اقدامات او رپیداوار میں بہتری لانے کیلئے کی جانے والی کاروائیوں کے مثبت نتائج برآمد ہو رہے ہیں اور نومبر 2014سے برقی کٹوتی کا سلسلہ بند کردیا گیا ہے۔ مسٹر جگدیش ریڈی نے ایوان کو اس بات سے واقف کروایا کہ کاکتیہ تھرمل پاؤر پراجکٹ کے ذریعہ 600میگا واٹ‘ سنگارینی کالریز کے برقی پلانٹ کے ذریعہ1200میگا واٹ‘ جرالہ پراجکٹ کے ذریعہ240اور پلی چنتلہ کے ذریعہ 30میگا واٹ برقی پیدا وار یقینی بنائی جا رہی ہے علاوہ ازیں 913میگا واٹ شمسی توانائی اور 99میگا واٹ ونڈ پاؤر کی تیاری عمل میں لائی جا رہی ہے جوکہ ریاست کے جملہ 1کروڑ 31لاکھ 19ہزار 902 برقی صارفین کی طلب کو پورا کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ جملہ صارفین میں 21لاکھ زرعی صارفین ہیں اور انہیں تین مرحلوں میں 9گھنٹے برقی سربراہی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ علاوہ ازیں کسانوں کے 94ہزار735 برقی کنکشن کی درخواستوں کی یکسوئی مئی 2017تک کرلی جائے گی۔ مسٹر جگدیش ریڈی نے بتایا کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں معیاری اور بلا وقفہ برقی سربراہی کو یقینی بنانے کے لئے چیف منسٹر مسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی ہدایت کے مطابق 400کے وی پر مشتمل رنگ سسٹم تیار کیا گیا ہے جس کے ذریعہ جی ایچ ایم سی کے اطراف میں 142سی کے ایم قائم کرتے ہوئے انہیں6سب اسٹیشن جو کہ 220KVکے ہیں ان سے مربوط کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ برقی سربراہی نظام کی نگرانی اور کھپت کی جانچ کیلئے حیدرآباد میں 228کے منجملہ 25 سب اسٹیشن قائم کئے جا چکے ہیں مابقی اندرون 6ماہ قائم کرتے ہوئے ایک دوسرے سے مربوط کر دیئے جائیں گے۔ ریاستی وزیر برقی نے مباحث کے دوران بتایا کہ صارفین کی بہتر خدمات کے لئے ڈسکامس کی جانب سے موبائیل ایپلیکیشن کاآغاز عمل میں لایا گیا ہے جس کے ذریعہ بل کی ادائیگی ‘ شکایت کے اندراج‘ کے علاوہ دیگر سہولتوں سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے 987اسسٹنٹ انجنیئرس کے تقررات سے بھی ایوان کو واقف کروایا اور کہا کہ آؤٹ سورسنگ عملہ کو محکمہ میں جذب کرنے کے عمل کو منظوری دیدی ہے جس سے ملازمین کے مسائل بھی حل ہوجائیں گے۔ زرعی شعبہ کو مفت برقی کیلئے حکومت کی جانب سے دی جانے والی سبسیڈی کا تذکرہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس سبسیڈی کے لئے حکومت 4584کروڑ تک کا تخمینہ لگائے ہوئے ہے۔انہوں نے بتایا کہ ٹی اینڈ ڈی خسارہ میں آئی تخفیف کے متعلق بتایا کہ 16.83فیصد سے 15.98فیصد ہوا ہے۔

TOPPOPULARRECENT