Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / تمام غیر قانونی تعمیرات کو باقاعدہ بنانے حکومت کا فیصلہ

تمام غیر قانونی تعمیرات کو باقاعدہ بنانے حکومت کا فیصلہ

ٹی آر ایس حکومت اقلیتوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدہ پر قائم : چیف منسٹر چندرشیکھر راؤ
حیدرآباد 25 اگسٹ (این ایس ایس) تلنگانہ کے چیف منسٹر کالوا کنٹلہ چندرشیکھر راؤ نے آج اعلان کیاکہ اُن کی حکومت ریاست بھر کی تمام بلدیات میں غیر قانونی عمارتوں اور دیگر ڈھانچوں کو باقاعدہ بنائے گی۔ چیف منسٹر نے یہاں اخباری نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ اُن کی حکومت نے غیر قانونی طور پر تعمیر کردہ عمارتوں کو باقاعدہ بنانے اور زیرتصفیہ تمام مقدموں کی یکسوئی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِس ضمن میں بعض کئی مسائل ہیں جو ماضی کی حکومتوں سے ورثے میں ملے ہیں۔ اُنھوں نے انکشاف کیاکہ سوچھ تلنگانہ مہم کے دوران 200 کروڑ روپئے کے کاموں کو منظوری دی گئی۔ اِن پروگراموں میں خود وہ اور گورنر ای ایس ایل نرسمہن بھی حصہ لے چکے ہیں۔ چیف منسٹر نے اعادہ کیاکہ تلنگانہ میں نامزد عہدوں پر بہت جلد تقررات کئے جائیں گے بالخصوص مارکٹ کمیٹیوں، مندروں اور دیگر اداروں کے صدورنشین کے تقررات کسی تاخیر کے بغیر عمل میں لائے جائیں گے۔ اُنھوں نے کہاکہ مسلمانوں کو اِن کے وعدے کے مطابق 12 فیصد تحفظات فراہم کئے جائیں گے۔ کے سی آر نے الزام عائد کیاکہ ماضی کی حکومتوں نے اقلیتوں کی فلاح و بہبود کو نظرانداز کیا ہے اور اُنھیں (اقلیتوں کیلئے) دست تعاون دراز کرنے کی ضرورت ہے۔ آر ٹی سی کی ناگفتہ بہ صورتحال کو کے سی آر نے ماضی کی حکومتوں کی لاپرواہی کا نتیجہ قرار دیا اور کہاکہ اِس ادارہ کی متواتر ترقی کے لئے کوشش جاری ہے۔ آئندہ تعلیمی سال سے کے جی تا پی جی مفت تعلیم کی فراہمی پر عمل آوری کی جائے گی۔ مستقبل کی ضروریات کو ملحوظ رکھتے ہوئے انگریزی کے فروغ کے لئے دانشوروں اور پروفیسروں سے مشاورت کی جائے گی۔ کے سی آر نے کہاکہ اُن کی حکومت  مفت تعلیم کی فراہمی کے عہد کی پابند ہے اور اُنھوں نے اِس عہد کا اظہار کیاکہ اپوزیشن کی تنقیدوں کے باوجود غیر قانونی طور پر کشیدہ شراب کے بجائے سستی شراب کی حوصلہ افزائی کے ذریعہ دیہی عوام کے جانوں کی حفاظت کی جائے گی۔ کے سی آر نے کہاکہ ’’تلنگانہ کو اُس کا واجبی حصہ دلانے کے لئے ہم مرکز سے درخواست کرتے ہیں کہ تلنگانہ کو ٹیکس سے راحت دی جائے اور آندھراپردیش تنظیم جدید قانون پر عمل آوری کی جائے۔ ٹی آر ایس حکومت اِس ریاست میں برقی، آبپاشی پراجکٹس اور دیگر کئی مسائل پر وزیراعظم نریندر مودی کے نام تاحال 50 سے زائد مکتوب روانہ کرچکی ہے‘‘۔ اُنھوں نے کہاکہ جی ایچ ایم سی حدود میں کچرے کی نکاسی کے لئے 25000 آٹو رکشاؤں کی خریدی کے احکام جاری کئے گئے۔

TOPPOPULARRECENT