Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / تمام مذاہب کی کتب میں نبی کریمؐ کی بعثت و عظمت کا تذکرہ

تمام مذاہب کی کتب میں نبی کریمؐ کی بعثت و عظمت کا تذکرہ

دیگر مذاہب کے ماننے والوں میں اسلامی تعلیمات کی دعوت اُمت کی ذمہ داری‘ سیرت النبیؐ کانفرنس سے علماء کا خطاب

حیدرآباد۔ 22 فروری (سیاست نیوز) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت اور آمد کے متعلق تقریباً تمام مذاہب کی مذہبی کتابوں میں تذکرہ موجود ہے۔ عیسائیت، ہندومت، بدھ مت، جین مت، سکھ مت بھی نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق پیشن گوئیوں اور بشارتوں کو نقل کرچکے ہیں، لیکن اُمت مُسلمہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ دیگر مذہبی کتب میں موجود دین اسلام کے تذکرہ اور آقائے دوجہاں کی عظمت کو اُن مذہب کے ماننے والوں کے سامنے پیش کرتے ہوئے دعوت و اشاعت دین حق کا کام انجام دیں۔ المعہدالعالی الاسلامی کے زیراہتمام جاری سہ روزہ بین الاقوامی ’’سیرت النبیؐ‘‘ سیمینار کے دوسرے دن آج ملک بھر سے تشریف لانے والے علمائے کرام نے اپنے مقالوں کے ذریعہ اُمت مُسلمہ کو صحیح فکر و جہت عطا کی۔ مولانا عبداللہ کاپودروی مہتمم فلاح دارین نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ نئی نسل کے علماء اور نوجوان مطالعہ پر توجہ مرکوز کریں۔ انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ہمارے نوجوان علماء تقابلی مطالعہ کیلئے دیگر مذاہب کی کتب سے استفادہ کے اہل نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اگر مسلم نوجوان بالخصوص علماء سنسکرت، تورات اور انجیل کی زبانیں ہم سیکھتے ہیں اور ان مقدس کتابوں میں موجود محسن انسانیتؐ سے متعلق موجود بشارتوں اور پیشن گوئیوں کو نقل کرتے ہوئے دعوت دین کا کام کرتے ہیں تو یقیناً ہمیں بڑی کامیابی مل سکتی ہے۔ مولانا عبداللہ نے بتایا کہ بدھ مت کے ماننے والوں نے مسلمانوں پر جو مظالم ڈھائے ہیں، وہ انتہائی کربناک ہیں لیکن اگر گوتم بدھ کی تعلیمات کی روشنی میں ہی انہیں یہ باور کروایا جائے کہ تم خود اپنے مذہب کا گلہ گھوٹ رہے ہو تو شاید انہیں احساس ہوگا۔ انہوں نے برما (رنگون) ، سری لنکا اور دیگر ممالک میں جس طرح بدھ مت کے ماننے والوں نے مسلمانوں پر ظلم و ستم ڈھائے ہیں، اس کے خاتمہ کیلئے یہ ضروری ہے کہ مسلم علماء تقابلی مطالعہ کے ذریعہ بدھ مت کے پیشواؤں سے گفت و شنید کا آغاز کرتے ہوئے انہیں اس بات کا احساس دلائیں کہ جو مذہب کیڑے مارنے کی بھی اجازت نہیں دیتا، اس کے ماننے والے کیسے قتل عام کرسکتے ہیں؟ ڈاکٹر مولانا علیم اشرف جائسی نے اس موقع پر اپنا مقالہ پیش کرتے ہوئے ہندوستانی غیرمسلموں کے تالیفات میں حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے تذکرہ سے متعلق تفصیلات پیش کیں۔ مولانا نثار الحصیری القاسمی نے ابتدائی خطاب کے دوران بتایا کہ دُنیا میں پھیل رہی بے راہ روی اور نامساعد حالات سے نجات کا واحد راستہ سیرت النبیؐ سے وابستہ اختیار کرتے ہوئے اس پر سختی سے کاربند ہونا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فکر و نظر کو وسعت دینے کیلئے یہ ضروری ہے کہ ہم سیرت محمدیؐ پر گامزن رہتے ہوئے دیگر ابنائے وطن کو دین متین کا پیام پہونچائیں۔ مولانا عبداللہ طارق نے اپنے مقالہ میں ہندوازم کی چار ویدوں اور ان میں لکھی عبارتوں و اَشلوک پیش کرتے ہوئے سناتن دھرم میں محسن انسانیتؐ کی تعلیمات کا حوالہ دیا۔        ( سلسلہ صفحہ 8پر )

TOPPOPULARRECENT