Thursday , August 17 2017
Home / دنیا / تمام ممالک تبدیلی ماحولیات معاہدہ پیرس پر عمل کے پابند

تمام ممالک تبدیلی ماحولیات معاہدہ پیرس پر عمل کے پابند

صدر امریکہ بارک اوباما کا بیان ‘ پریس کانفرنس میں حکومت ہند کیلئے رعایتوں پر سوال کا جواب
واشنگٹن۔24جنوری( سیاست ڈاٹ کام ) پیرس معاہدہ برائے تبدیلی ماحولیات کے ہر اعتبار سے مکمل نہ ہونے اور قانونی اعتبار سے اس پر دستخط کرنے والوں کو پابند کرنے والا نہ ہونے کااعتراف کرتے ہوئے صدر امریکہ بارک اوباما نے آج کہا کہ اس معاہدہ کے تحت جن باتوں سے ہر ملک نے اتفاق کیا ہے اس پر تیقنات پر عمل آوری کی پابندی عائد ہوتی ہے ۔  انہوں نے تبدیلی ماحولیات سے درپیش چیالنجس کے بارے میں جذباتی ہونے کا تذکرہ کرتے ہوئے اوباما نے کہا کہ جن ممالک کو ہماری کوششوں کی سب سے زیادہ ضرورت ہے وہ ہندوستان ہے ۔ جس کے ہمالیائی برفانی دریا برسات کے موسم میں ناقابل قیاس حد تک پگھل چکے ہیں  اور ان کے نتیجہ میں سیلاب آگیا تھا ۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان بشمول اس کے وزیراعظم نریندر مودی نے پیرس کے طاقتور عالمی معاہدہ کیلئے گذشتہ ماہ سخت جدوجہد کی جس کی وجہ سے دنیا آئندہ کاربن کے کم اخراج کے راستہ پر چل پڑے گی لیکن اس سے دنیا کی ترقی ‘ فروغ اور غربت میں کمی کی کوششوں میں کوئی کمی واقع نہیں ہوگی ۔ وہ پی ٹی آئی کو ایک انٹرویو دے رہے تھے ۔ اس سوال پر کہ حکومت ہند کو پیرس کانفرنس میں رعایتیں حاصل کرنے کی بناء پر تنقید کا سامنا ہے کیونکہ وہ ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہیں لیکن اُس نے اخراج اور فینانس میں کمی کی کسی بھی قانونی پابندی کو تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے ۔ صدر اوباما نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی معاہدہ بشمول پیرس معاہدہ مکمل نہیں کہا جاسکتا لیکن ہمیں ایسے معاہدہ کی تیاری شروع کرنی چاہیئے جس پر انتہائی پُرجوش ردعمل حاصل ہو اور امکانی حد تک سب سے زیادہ تعداد میں ممالک اس معاہدہ پر دستخط کریں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ایک خاکہ تیار کیا ہے جس کے تحت دنیا کو ماحولیات کے بحران کا حل تلاش کرنے کی ضرورت ہے ۔ تقریباً 200ممالک اپنے مخصوص اہداف تک نہیں پہنچ سکیں گے حالانکہ ہم نے مختلف ممالک کو اعتماد میں لیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے بطور مثال ہندوستان کو اعتماد میںلیا ہے جو قابل تجدید توانائی کے اہداف کے حصول کے سلسلہ میں انتہائی پُرجوش ہے ۔ یہ درست ہے کہ ہندوستان نے ایک طاقتور شفافیت کا نظام موجود ہے لیکن وقفہ وقفہ سے اس کا جائزہ لینے اور آزادانہ تجزیہ کی ضرورت ہے تاکہ ہر ملک کو اپنے تیقنات پر عمل آوری کرنے کا پابند بنایا جاسکے ۔
وزیراعظم مودی اور بارک اوباما ہر ملک کی جانب سے عاجلانہ کارروائی پر باہم متفق ہوچکے ہیں ۔

TOPPOPULARRECENT