Wednesday , October 18 2017
Home / سیاسیات / تمام کسانوں کا قرض معاف کردینے اپوزیشن کامطالبہ

تمام کسانوں کا قرض معاف کردینے اپوزیشن کامطالبہ

لوک سبھا میں ضمنی مطالبات زر پر مباحث، کسانوں کی حالت زار اور جگہ جگہ خودکشی کا تذکرہ

نئی دہلی20مارچ (سیاست ڈاٹ کام) اپوزیشن نے خشک سالی اور دیگر وجوہات سے پریشان کسانوں کی بدحالی پر لوک سبھا میں آج گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سے ان کے قرض معاف کرنے کا مطالبہ کیا۔کانگریس کے کے سی وینو گوپال نے 2016-17 کے ضمنی مطالبات زر پر ایوان میں بحث کا آغاز کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کے اترپردیش اسمبلی انتخابات کے دوران وہاں کے کسانوں کا قرض معاف کرنے کے وعدے کا ذکر کیا اور کہا کہ مہاراشٹر اور اڈیشہ سمیت کئی ریاستیں مسلسل تین برسوں سے خشک سالی سے متاثر ہیں۔ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے دیگر ریاستوں میں بھی ان کی پیداوار پر اثر پڑا ہے ۔ پورے ملک میں کسانوں کی حالت خراب ہے جس سے وہ جگہ جگہ خود کشی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کسانوں کی بدحالی دور کرنے کے لئے پورے ملک کے کسانوں کا قرض معاف کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر وینو گوپال نے کہا کہ منریگا کے تحت 17000 کروڑ روپے مرکز پر بقایا ہے جو تشویش کا موضوع ہے ۔ انہوں نے حکومت سے جاننا چاہا کہ مطالبات زر میں وہ منریگا کے لئے کتنا پیسہ دے رہی ہے ۔ نوٹوں کی منسوخی کے بعد جی ڈی پی کی ترقی کی شرح قریب سات فیصد رہنے کی حکومت کی رپورٹ پر سوال اٹھاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نوٹوں کی منسوخی کے بعد اقتصادی ماہرین مسلسل یہ کہہ رہے تھے کہ جی ڈی پی پر اس کا برا اثر پڑے گا۔ مسٹر وینو گوپال نے حکومت سے جی ڈی پی کے اعداد و شمار پر وضاحت کا مطالبہ کیا۔ مسٹر وینوگوپال نے کہا کہ وہ جاننا چاہتے ہیں کہ حکومت غیر فعال اثاثہ (این پی اے ) کے بارے میں کیا قدم اٹھا رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے خط افلاس سے نیچے زندگی بسر کرنے والے لوگوں کو مکان کے لئے قرض دیے جانے کا بندوبست کیا تھا لیکن سرکاری بینک اس بارے میں لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے قرض دینے سے گریزا ں ہیں۔ اسی طرح سے جوٹ صنعت کے ایک بھی کارکن کو ابھی تک قرض نہیں ملا ہے ۔انہوں نے کہا کہ حکومت غریبوں کی فلاح و بہبود کے لئے مختلف منصوبے بنانے کی بات کہتی ہے لیکن انہیں جب فائدہ دینے کا وقت آتا ہے تو اس بنیاد پر ان کو وہ فائدہ نہیں دیا جاتا کہ وہ کچھ شرائط کو پورا نہیں کر رہے ہیں۔مسٹر وینو گوپال نے حکومت کی اسکیموں میں خامیوں کا ذکر کرنے کے دوران درمیان میں گوا میں بی جے پی حکومت کا معاملہ اٹھا دیا، جس پر پارلیمانی امور کے وزیر اننت کمار نے مداخلت کرتے ہوئے کہا کہ یہ الگ موضوع ہے ۔ اگر انہیں اس پر بحث کرانی ہے تو وہ الگ سے نوٹس دیں، حکومت اس پر بحث کے لئے تیار ہے ۔

TOPPOPULARRECENT