Saturday , May 27 2017
Home / مضامین / تمہیں اہل سیاست نے کہیں کا بھی نہیں رکھا

تمہیں اہل سیاست نے کہیں کا بھی نہیں رکھا

جمیعۃ علماء … مودی کے دربار میں
طلاق ثلاثہ پر سماعت… خطرہ کی گھنٹی

رشیدالدین
سپریم کورٹ نے طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج جیسے خالص شرعی مسائل پر گرما کی تعطیلات کے باوجود سماعت کا آغاز کیا ہے۔ پانچ رکنی بنچ ہفتہ اور اتوار کی تعطیلات میں بھی سماعت کرسکتا ہے تاکہ شرعی قوانین کی دستور میں دیئے گئے بنیادی حقوق کی روشنی میں توضیح کی جاسکے۔ پانچ مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے ججس کے ذریعہ یہ تاثر دینے کی کوشش کی جارہی ہے کہ سماعت غیر جانبدارانہ اور فیصلہ ہمہ مذہبی دیا جائے گا۔ تین طلاق کی شرعی حیثیت کو چیلنج کرتے ہوئے بعض آزاد خیال خواتین کو میدان میں اتارا گیا ہے  اور ان کی آڑ میں شریعت میں مداخلت کی سازش ہے۔ ملک کی مختلف ہائیکورٹس کی جانب سے مخالف شریعت فیصلے اور پھر تعطیلات کے باوجود سپریم کورٹ کا کام کرنا یہ تمام محض معمول کی کارروائی نہیں بلکہ اس کے پس پردہ کچھ نہ کچھ سازش ضرور ہے۔ مسلم خواتین سے مرکزی حکومت اور سپریم کورٹ کو اچانک دلچسپی اور ہمدردی بغیر کسی مطلب اور مقصد کے نہیں ہوسکتی۔ طلاق کا مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے لیکن مرکز میں نریندر مودی کے برسر اقتدار آنے کے بعد ہی اسے ہوا دی گئی۔ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس میں لاکھوں مقدمات زیر التواء ہیں۔ مقدمات کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ انصاف ملنے تک درخواست گزار دنیا سے گزر جاتا ہے۔ ’’انصاف میں تاخیر ، انصاف سے محرومی‘‘ کا فارمولہ صرف مسلم خواتین پر کیوں لاگو کیا جارہا ہے۔ اگر انصاف رسانی میں ججس کو دلچسپی ہو تو ملک کی تمام عدالتیں تعطیلات میں بھی کام کریں۔ تمام درخواست گزار عدلیہ کی نظر میں برابری کا درجہ رکھتے ہیں، چاہے مقدمہ چھوٹا ہو یا بڑا ، سلوک تو تمام کے ساتھ یکساں ہونا چاہئے ۔ کئی سنگین مقدمات سپریم کورٹ میں برسوں سے زیر دوران ہیں۔ بابری مسجد شہادت ، مسجد کی شہادت میں ملوث افراد کے خلاف سی بی آئی کیس ، گجرات فسادات اور احسان جعفری کی بیوہ ذکیہ جعفری کو انصاف فراہم کرنے کا معاملہ بھی برسوں سے زیر التواء ہے لیکن حکومت اور عدالت نے ان مقدمات کی اسی طرح روزانہ اور تعطیلات میں سماعت کا فیصلہ نہیں کیا۔ ماہرین قانون کا مانناہے کہ اگر عدالتیں ایک سال کیلئے تعطیلات کی قربانی دیں تو زیر التواء مقدمات سارے ختم ہوجائیں گے۔ دراصل برسر اقتدار بی جے پی زیر قیادت این ڈی اے حکومت نے اسلام کو بدنام کرنے کیلئے طلاق ثلاثہ اور کثرت ازدواج کو منصوبہ بند طریقہ سے سیاسی منصوبہ بنادیا ہے اور عدلیہ کے ذریعہ مداخلت کی راہ ہموار کی جاسکتی ہے۔ پانچ رکنی بنچ میں تمام بڑے مذاہب سے تعلق رکھنے والے ججس کی موجودگی سے مقدمہ کی سماعت اور عدلیہ کے نقطہ نظر پر کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔ جہاں تک شریعت کا معاملہ ہے ، اگر پانچ ججس بھی مسلمان ہوں اور فیصلہ شریعت کے خلاف دیں تب بھی یہ فیصلہ مسلمانوں کیلئے قابل قبول نہیں ہوگا۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ’’ لا تبدیل لکلمات اللہ‘‘ ۔کیا شریعت اب ججس کی رائے، نریندر مودی کی پسند اور یوگی ادتیہ ناتھ کی مرضی کے مطابق چلے گی؟دوسری طرف اس نازک موڑ پر ملت کی رہنمائی کے منصب پر فائز افراد اقتدار کی چوکھٹ پر سجدہ تعظیمی ادا کرتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ جمیعۃ علماء ہند محمود مدنی گروپ نے نریندر مودی سے دو گھنٹے تک ملاقات کی اور طلاق ثلاثہ سمیت دہشت گردی اور سب کا ساتھ سب کا وکاس جیسے امور پر وزیراعظم کے موقف کی تائید کی ۔ وزیراعظم کے دفتر سے جاری کردہ بیان اس وفد کا اصلی چہرہ پیش کر رہا تھا لیکن تنظیم نے اس بیان کی تردید تک نہیں کی۔ ظاہر ہے کہ جو کچھ ہوا وہی پرائم منسٹر آفس نے میڈیا کو ریلیز کیا۔ ویسے بھی اقتدار کی راہداریوں میں داخلے کے موقع کون گنوانا چاہے گا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ وزیراعظم ملاقات کیلئے علماء کو مدعو کرتے لیکن یہاں تو ملاقات کیلئے دوڑ لگی ہوئی ہے۔ جمیعۃ علماء کے دوسرے گروپ کی درخواست بھی پرائم منسٹر آفس میں پہلے ہی سے موجود بتائی جاتی ہے لیکن محمود مدنی پر نریندر مودی کچھ زیادہ ہی مہربان دکھائی دیئے اور ایک ہی ہفتہ میں ملاقات کا وقت مقرر کردیا ۔ ظاہر ہے کہ کچھ نہ کچھ مخفی خدمات ضرور ہوںگی اور حال ہی میں اترپردیش کے چناؤ کے بارے میں تو مختلف اطلاعات عوام اور خواص میں زیر گشت ہیں۔ عوام شاید وہ بھولے نہیں جب چیف منسٹر گجرات کی حیثیت سے نریندر مودی نے محمود مدنی کو مکمل سیکوریٹی کے ساتھ پروٹوکول فراہم کیا تھا جس کی تصاویر اخبارات میں شائع ہوئی تھیں۔ وزیراعظم کو پیش کردہ دو صفحات پر مشتمل یادداشت میں مودی اور حکومت کی تعریف زیادہ اور مسلمانوں کے مسائل کا تذکرہ کم ہے ۔ ملک کے انتہائی حساس مسئلہ طلاق ثلاثہ پر جمیعۃ نے یادداشت میں ایک لفظ بھی شامل نہیں کیا۔

برخلاف اس کے طلاق ثلاثہ جیسے مسائل پر اصلاحات کی مودی کی تجویز کا خیرمقدم کیا گیا۔ وفد میں جید علماء بھی شریک تھے لیکن ایسا محسوس ہورہا تھا جیسے مفتی اور عالم یہ نہیں بلکہ مودی ہیں اور تمام ان کے درس کی سماعت کر رہے ہیں۔ مرکز نے جب سپریم کورٹ میں طلاق ثلاثہ کے خلاف حلف نامہ داخل کردیا ہے تو پھر اصلاحات کا مطلب کیا ہے۔ اگر عدالت طلاق ثلاثہ کو غیر دستوری اور غیر قانونی قرار دیتی ہے تو کیا جمیعۃ علماء اسے قبول کرلے گی ؟ وفد نے گجرات کے متاثرین ، گائے کے نام پر اخلاق سے لیکر پہلو خاں کے قتل ناحق پر احتجاج درج نہیں کرایا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ علماء مودی کی ضیافت کا بائیکاٹ کرتے لیکن وفد کے ارکان کی پلیٹ میں جب مودی نے اپنے ہاتھ سے کھانے کی اشیاء رکھیں تو وہ اخلاق سے متاثر ہوکر واہ واہی کرنے لگے۔ وفد کے ارکان کو مودی کے کردار میں اسلام دکھائی دینے لگا لیکن افسوس کہ وہ اپنی اسلامی غیرت اور حمیت کو بھول گئے۔ آخر وہ کن اکابرین کے وارث ہیں اور آج اسلاف کی روایات سے انحراف کر رہے ہیں۔ محمود مدنی نے وزیراعظم سے ایک رابطہ کار کے تقرر کی خواہش کی۔ اگرچہ اس کا مقصد مسلم مسائل پر نمائندگی بتایا گیا لیکن حقیقی مقصد تو مودی سے قربت ہے۔ کیا مسلمانوں نے اپنے مسائل پر حکومت سے بات چیت کیلئے آپ کو  نمائندہ مقرر کیا ہے ؟ کیا آئندہ مودی کے مشورہ سے شریعت کے فیصلے نافذ ہوں گے ؟ یوں بھی محمود مدنی کی سیاسی وابستگی اکثر تبدیل ہوتی رہی ہے۔
جمیعۃ علماء ہند کی تاریخ ہمیشہ کانگریس سے وابستہ رہی ہے ۔ ’’جمیعۃ علماء ۔کانگریس کا ضمیمہ‘‘ یہ جملہ کافی مشہور بھی ہوا۔ مولانا اسد مدنی ہمیشہ کانگریس کے ساتھ رہے لیکن اب مولانا حسین احمد مدنی کے نام لیوا دو حصوں میں بٹ چکے ہیں اور ملک میں یکساں سیول کوڈ اور ہندو راشٹر کے قیام کا خواب دیکھنے والوں کی تعریفیں کر رہے ہیں ۔ وزیراعظم سے باریابی اور مودی کا دیدار ہوتے ہی چہروں پر خوشی اور بشاشت چھاگئی ۔ ہر دور میں دسترخوان اقتدار کی پھینکی ہوئی ہڈیاں ملت مظلوم کو خواب غفلت کا شکار کرنے کی ذمہ دار رہی ہیں۔ مرکز نے یکساں سیول کوڈ کے مسئلہ پر لا کمیشن سے رائے طلب کی ہے اور لا کمیشن کی رائے شاید سپریم کورٹ کے طلاق ثلاثہ کے بارے میں فیصلہ کے بعد آئے گی ۔

اس طرح یہ دونوں معاملات مسلمانوں کیلئے خطرہ کی گھنٹی ہےz۔ جمیعۃ کے ایک گروپ کا یہ حال ہے تو دوسرے گروپ نے گائے کو قومی جانور قرار دینے کی تجویز مرکز کو پیش کی ہے تاکہ اسلام میں حلال کردہ جانور کے ذبیحہ پر روک لگائی جاسکے۔ مولانا ارشد مدنی نے شاید یہ تجویز اس لئے پیش کی تاکہ انہیں وزیراعظم سے ملاقات کا وقت فوری مل جائے ۔ اللہ اور اس کے رسول نے جس چیز کو حلال قرار دیا ہے ، اس کے ذبیحہ کو روکنے کیلئے تجاویز پیش کرنا کہاں تک درست ہے؟ مسلم جماعتوں اور تنظیموں کی اس صورتحال کیلئے عام مسلمانوں کی بے حسی ذمہ دار ہے۔ کسی بھی مسئلہ پر مسلمانوں نے اپنا احتجاج درج نہیں کرایا ۔ یہی وجہ ہے کہ درپردہ حکومت کے ایجنٹس اپنے مفادات کی تکمیل کر رہے ہیں۔ مسلمان اپنے ذاتی مسائل میں فوری بھڑک جاتے ہیں اور معاملہ قتل و غارت گیری تک پہنچ رہا ہے لیکن افسوس کہ اسلام اور شریعت کے معاملہ میں بے حسی ہے۔ حرارت ایمانی سرد پڑچکی ہے کیونکہ قوم تعیشات میں مبتلا ہے اور قرآن و حدیث سے دوری اختیار کرچکی ہے ۔ مسلم پرسنل لا کے بارے میں بیداری مہم سے زیادہ مسلمانوں میں اس بات کا شعور بیدار کیا جائے کہ رہنماؤں کے بھیس میں رہزن کون ہیں؟ شریعت اسلامی کے  خلاف جاری اس مہم کا مقابلہ کرنے کیلئے شاہ بانو کیس کی طرح مسلمانوں میں بیداری کی ضرورت ہے ۔ جس طرح مسلمانوں نے حکومت کو شاہ بانو مقدمہ میں سپریم کورٹ کے فیصلہ کے خلاف قانون سازی پر مجبور کردیا تھا ، اسی طرح آج بھی اتحاد کی ضرورت ہے لیکن افسوس کہ آج اس دور کی قیادت چاہے وہ مذہبی ہو یا سیاسی مسلمانوں کو میسر نہیں۔ ملک کے وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور اترپردیش کے چیف منسٹر یوگی ادتیہ ناتھ نے تاریخ کو مسخ کرنے کی نئی مہم چھیڑدی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مغل شہنشاہ اکبر اعظم کے بجائے مہارانا پرتاپ کو اعظم کے لقب سے پکارا جائے ۔ یوگی نے تو بابر اور اکبر اور اورنگ زیب کو حملہ آور قرار دے دیا اور نوجوانوں سے اپیل کی کہ مہارانا پرتاپ اور شیواجی کو اپنے لئے نمونہ بنائے۔ اکبر اعظم کو ان کے کارناموں کے سبب دنیا اس لقب سے پکارتی ہے۔ ہندوستان میں مغل اعظم فلم اب تک کی سب سے کامیاب فلم ثابت ہوئی ہے جس میں اکبر اعظم کی تمثیل پیش کی گئی تھی۔ اورنگ زیب 50 برس تک اکھنڈ بھارت پر حکمرانی کرنے والے آخری بادشاہ تھے اور اس مدت کے دوران کسی بھی مذہب کی دل شکنی یا دل آزاری کی ایک بھی مثال پیش نہیں کی جاسکتی۔ سماج میں نفرت کا زہر گھولنے والے یہ نہ بھولیں کہ مسلمان کسی کی مہربانی یا رحم و کرم پر نہیں ہے بلکہ ملک پر ان کا احسان رہا ہے۔ منور رانا نے کیا خوب کہا ہے   ؎
تمہیں اہل سیاست نے کہیں کا بھی نہیں رکھا
ہمارے ساتھ رہتے تو سخنور ہوگئے ہوتے

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT