Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / تنازعات کی یکسوئی کیلئے علاقائی سکیورٹی فریم ورک پر زور

تنازعات کی یکسوئی کیلئے علاقائی سکیورٹی فریم ورک پر زور

SINGAPORE, JUNE 4 :- U.S. Secretary of Defence Ash Carter meets India's Defence Minister Manohar Parrikar (R) for a bilateral at the IISS Shangri-La Dialogue in Singapore June 4, 2016. REUTERS-10R

دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششیں اورتعاون ضروری : وزیر دفاع پاریکر
سنگاپور ۔ 4 جون ۔(سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے انڈوپیسفک علاقہ میںتنازعات کی پرامن یکسوئی ، خطرات اور طاقت کے استعمال سے نمٹنے کیلئے سکیورٹی مینجمنٹ پر مبنی علاقائی ضابطہ کار کی ضرورت پر زور دیا ۔ ایسے حالات میں جبکہ چین نے علاقہ میں اپنی سرگرمیوں کو وسعت دینا شروع کردیا اور ایشیان پڑوسی علاقوں کے آبی حدود میں پیشرفت کررہا ہے ،وزیردفاع منوہر پاریکر نے سکیورٹی انتظام و انصرام کے لئے علاقائی ضابطہ کار کی اہمیت واضح کی ۔ انھوں نے 15 ویں شنگریلا مذاکرات سے خطاب کرتے ہوئے دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششوں پر زور دیا جوکہ علاقہ کے لئے ایک اہم چیلنج بن چکی ہے ۔ منوہر پاریکر نے کہاکہ ہمارے علاقہ میں سکیورٹی فریم ورک میں دہشت گردی پر زیادہ توجہ نہیں دی گئی لہذا اسے تبدیل کرنا ضروری ہے ۔ انھوں نے کہا کہ آبی خطرات جیسے دہشت گردی ، قزاقی اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے معاملہ میں اجتماعی کوششیں اور تعاون ضروری ہے ۔ زیادہ سے زیادہ تعاون کے ذریعہ ہی اعتماد اور بھروسہ بڑھ سکتا ہے۔ ہمیں دہشت گردی کہیں بھی ہو اسکی مخالفت کرنی ہوگی ۔ دہشت گردی کو ختم کرنے کیلئے اجتماعی کوششوں کی ضرورت ہے ۔ منوہر پاریکر نے کہاکہ دہشت گردی اس علاقہ میں سب سے زیاہ اہم چیلنج بن چکی ہے ۔ انتہاپسندی اور دہشت گردی کی نیٹ ورک اور علاقہ میں ان کے وجود نے تمام امن پسند سماج کیلئے خطرات پیدا کردیئے ہیں۔ مختلف تنازعات کی حساس نوعیت اور بڑھتی کشیدگی کے حوالے سے پاریکر نے علاقہ میں خوشحالی کیلئے ہندوستان کی بہتر معیشت کیلئے پہل کو اُجاگر کیا۔ انھوں نے کہاکہ ہم اپنے سمندری پڑوسی ممالک کے ساتھ معاشی تعاون کو فروغ دے رہے ہیں تاکہ بہتر معیشت کے فوائد حاصل کئے جاسکیں۔ پاریکر نے کہاکہ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ انڈوپیسفک علاقہ مشرقی سوئز سے لیکر ایشیا پیسفک کے ساحل تک آئندہ دہوں میں عالمی خوشحالی میں اہم رول ادا کریں گے ۔ ہندوستان ایک تیز رفتار اُبھرتی معیشت کے طورپر اس میں یقینی طورپر اہم رول ادا کرے گا ۔ انھوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ ا س علاقہ کے دیگر ممالک بھی چیلنج کو قبول کرتے ہوئے سکیورٹی خطرات سے موثر طورپر نمٹیں گے ۔

TOPPOPULARRECENT