Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / تنخواہوں کی ادائیگی میںتاخیر کا جائزہ اور جلد اجرائی کا تیقن

تنخواہوں کی ادائیگی میںتاخیر کا جائزہ اور جلد اجرائی کا تیقن

حیدرآباد۔/19ڈسمبر، ( سیاست نیوز) سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے حیدرآباد کے اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین کی تنخواہوں کی اجرائی کا تیقن دیا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے تحت چلنے والے شہر کے 12کمپیوٹر سنٹر اور 9 لائبریریز کے 53ملازمین ماہ نومبر کی تنخواہ سے محروم ہیں۔ ہر ماہ حیدرآباد سمیت ہر ضلع میں 5تاریخ سے قبل تنخواہ جاری کردی جاتی ہے لیکن حیدرآباد میں تنخواہ ابھی تک جاری نہیں کی گئی۔ اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین نے تنخواہوں کی اجرائی کے سلسلہ میں اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں سے نمائندگی کی۔ انہوں نے شکایت کی کہ ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر نے حکومت کو ان کے خلاف رپورٹ پیش کرتے ہوئے تنخواہوں کی اجرائی کو روک دیا ہے۔ ملازمین نے کہا کہ وہ باقاعدگی سے خدمات انجام دے رہے ہیں اور ان کی خدمات گزشتہ دس تا 14 برسوں سے جاری ہے اس کے باوجود جاریہ ماہ اچانک معائنہ کے نام پر ان کی تنخواہوں کو روک دیا گیا۔ ملازمین نے میڈیا کے نمائندوں سے شکایت کی کہ حیدرآباد کے ضلع اقلیتی عہدیدار کی جانب سے ان کی خدمات ختم کرنے کا انتباہ دیا جارہا ہے۔ اس سلسلہ میں یہ معاملہ سکریٹری اقلیتی بہبود کے پاس پہنچا تو انہوں نے تفصیلات حاصل کیں۔ بتایا جاتا ہے کہ اردو کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز دراصل ڈائرکٹر اقلیتی بہبود کے تحت ہیں اور ہر ضلع کے ڈسٹرکٹ میناریٹی ویلفیر آفیسر کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اداروں کے ملازمین کی تنخواہوں کی تفصیل اردو اکیڈیمی کو روانہ کریں جہاں سے تنخواہیں جاری کی جاتی ہیں۔ اردو اکیڈیمی کا ان اداروں پر راست کنٹرول نہیں ہے صرف تنخواہوں کا بجٹ جاری کرنا اس کی ذمہ داری ہے۔ سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل نے ملازمین کو تیقن دیا کہ وہ جلد ہی تنخواہوں کی اجرائی کیلئے عہدیداروں کو ہدایات جاری کریں گے۔ انہوں نے تیقن دیا کہ ملازمین کی خدمات کو برخواست نہیں کیا جائے گا بلکہ ان کی خدمات اقلیتی طلبہ کے ٹریننگ سنٹرس میں حاصل کی جائیں گی۔ اس کے علاوہ انہیں کمپیوٹر کی ٹریننگ فراہم کرتے ہوئے موجودہ سنٹرس کو عصری بنایا جائے گا۔ تنخواہوں کے محروم کمپیوٹر سنٹرس اور لائبریریز کے ملازمین نے ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے بھی نمائندگی کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ تنخواہوں کی عدم اجرائی کے سبب وہ معاشی بحران کا شکار ہوچکے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT