Wednesday , June 28 2017
Home / ادبی ڈائری / تنقید سے بے زاری

تنقید سے بے زاری

سرورالہدیٰ
جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی
تنقید سے بیزاری کے مختلف اسباب ہوسکتے ہیں۔ وہ لوگ جو تنقید کے مخالف ہیں اپنے بہترین لمحات میں گفتگو کرتے ہوئے نقاد کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ جب ان سے یہ کہا جاتا ہے کہ آپ نے اپنی گفتگو میں ادب کے بنیادی مسائل کی طرف متوجہ کیا ہے اور ان مسائل سے کچھ نئے سوالات بھی قائم ہوتے ہیں تو ان کا جواب ہوتا ہے کہ یہ تو آپ کا اپنا مسئلہ ہے میں نے تو بس گفتگو کی ہے۔ یہ رویہ چاہے جتنا بھی اخلاقی ہو اس میں بچ نکلنے کی روش بھی پوشیدہ ہے۔ آپ گفتگو کے نام پر جو کچھ فرمائیں اسے تنقید نہ کہا جائے اور اگر کوئی اسے تنقید کہتا ہے تو شرما کر نرم لہجے میں یہ کہا جائے کہ میں تو تنقید لکھتا ہی نہیں۔ آخر وہ کون سی بات ہے جو دوسروں سے تعریف کرواتی ہے اور ہم اندر اندر خوش ہوتے ہیں۔ عجیب بات ہے کہ بطور نقادخود کو پیش  بھی نہ کیا جائے اور ادبی گفتگو کے نام پر تنقید کا سکھ بھی حاصل کیا جائے۔ گویا تنقید سے حاصل ہونے والی طمانیت بھی ہمیں چاہئے اور اس کی مخالفت کی لذت بھی۔ صدیق الرحمن قدوائی کی ایک کتاب’’ تاثر نہ کہ تنقید‘‘ ہے۔ کچھ جوشیلے نقاد نے کتاب سے ناراض ہوکر مضامین کی فہرست بھی دیکھنا مناسب نہیں سمجھا۔ یعنی صاحب کتاب جب اپنی تنقید کو تاثر کہتا ہے تو اسے کیوں پڑھا جائے۔ اس کتاب میں کئی ایسے مضامین ہیں جنہیں تنقید کے علاوہ کچھ اور نہیں کہا جاسکتا یہ اور بات ہے کہ مصنف نے اپنے اسلوب میں بات کہنے کی کوشش کی ہے۔ ادبی معاشرے میں ایسے لوگ ہمیشہ پائے جاتے ہیں جو لفظ تنقیدمیں سوچتے ہیں، جاگتے ہیں اور سوتے ہیں۔ لفظ تنقید کے بغیر کوئی دوسرا لفظ انہیں گوارا نہیں ہے۔ تنقید کی حمایت یا مخالفت اگر نفسیاتی مسئلہ بن جائے تو اس سے ڈرنا چاہئے۔ تنقید پر جو اعتراضات وارد کئے گئے ان سب کی ٹھوس بنیادیں ہیں اور ان بنیادوں کو اساس فراہم کرنے کی روایت بھی آگے بڑھتی رہی ہے۔ لہٰذا تنقید کی گرفت کرتے ہوئے یہ بھی سوچنا چاہے کہ تنقید کی وہ روایت بھی اسی ادبی معاشرے میں موجود ہے جس کے بغیر ہم تخلیقی معاشرے کا تصور بھی نہیں کرسکتے ۔ اگر تنقید وقت کے ساتھ علمی اعتبار سے خود کو ثروت مند بناتی ہے تو ہمیں خوش ہونا چاہے اور اس سیاق میں دنیاکے تنقیدی سرمایے پر بھی نگاہ ڈالنی چاہئے۔ لیکن بعض سنجیدہ حضرات بھی تنقید کے علمی سیاق کو علم نمائی، بقراطیت، آمریت وغیرہ سے وابستہ کرکے دیکھتے ہیں۔ گویا تنقید علمی لحاظ سے جتنی ترقی کرے گی اسی کے بقدر اس کی آمریت میں اضافہ ہوگا۔ یہ بات بار بار دہرائی جاتی ہے کہ تنقید کے نظریاتی مباحث کا فروغ پانا تخلیقی معاشرے کے خشک ہوتے ہوئے سوتے کا اشاریہ ہے۔ ایسا کم ہوتا ہے کہ کسی دور میں ادبی تنقید مجموعی طور پر ہر ایک کے یہاں بہت علمی ہوگئی ہو۔ پھر بھی یہ تنقید سے بے زاری ہے کہ ہم ایک ہی سانس میں کسی عہد کی تنقید کو نظری، علمی، بین العلومی کہہ کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے ہیں کہ ادبی معاشرے میں صرف تنقید باقی رہ گئی ہے۔ مشکل یہ ہے کہ رائے دیتے ہوئے ناقدین کے درمیان فرق بھی نہیں کیا جاتا اس طرح تنقید کا پورا معاصر منظر نامہ پر،  تنقید سے بے زار شخص کا ایک جملہ صادق آجاتا ہے۔ اردو تنقید کے چار بنیاد گزار محمد حسین آزاد، حالی، امداد امام اثر اور شبلی بیک وقت تخلیق کار بھی تھے اور نقاد بھی۔ کوئی ان حضرات کو آج کے معانی میں اگر نقاد نہیں کہتا ہے تو اس پر کسی کو کیا اعتراض ہوسکتا ہے۔ لیکن غور کرنا چاہیے کہ ان حضرات کے تعلق سے ہماری گفتگو کا سلسلہ اتنا دراز ہوتا اگر یہ ادب کے مسائل پر گفتگو نہ کرتے۔ ان کا تخلیقی سرمایہ بھی ہمارے لیے بہت اہم ہے مگر یہ محض اتفاق نہیں کہ ان حضرات کی اُن تحریروں میں بھی تنقیدی نقطہ نظر کو تلاش کرنے کی سعی کی گئی جن کا تعلق براہ راست ادبی تنقید سے نہیں ہے۔ اگر آج ان چار بنیاد گزاروں کی تنقید کو جدید اصطلاحوں کی روشنی میں دیکھا جارہا تو اسے بھی تنقید کا فیضان سمجھنا چاہیے۔ ان بنیاد گزاروں کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ دیکھئے ان کے یہاں علم نمائی نہیں ہے، کسی طرح کا پوز نہیں ہے، غرور نہیں ہے بلکہ انکسار ہے۔ بے شک ان شخصیات کے یہاں یہ تمام خوبیاں موجود ہیں مگر یہ بھی دیکھئے کہ اردو تنقید کا ان حضرات نے باضابطہ آغاز کیا تھا۔ ان کی اخلاقیات کا ایک اپنا تصور تھا۔ مغربی افکار سے استفادے کے باوجود ان کی مشرقیت بھی انہیں عزیز تھی۔ یہ حضرات اگر آج تنقید لکھ رہے ہوتے تو کیا ان کا تنقیدی اسلوب ویسا ہی ہوتا جس کی ہم بہت تعریف کرتے ہیں۔ وقت کے ساتھ تنقید کا اسلوب بدلتا ہے لہٰذا انیسوی صدی کے ان بنیاد گزاروں کو آج کی تنقیدی دنیا کے لئے رول ماڈل اس بنیاد پر نہیں بنایا جاسکتا کہ ان کے یہاں انکسار ہے اور وہ اپنی بات نہایت ہی نرم لہجے میں کہتے ہیں۔

بے شک یہ دونوں خوبیاں آفاقی نوعیت کی ہیں لیکن اردو تنقید کی دنیا میں کلیم الدین احمد اور حسن عسکری کو بھی آنا تھا۔ کہنے کو تو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آج بھی ہم مقدمہ اور کاشف الحقائق کو پڑھ رہے ہیں اور پڑھا رہے ہیں، یہ ایک طرح کی علمی جہالت نہیں تو اور کیا ہے۔ ایک طرف حسین آزاد، حالی، امداد امام اثر اور شبلی کے یہاں علمی انکسار اور نرم لہجہ ہے اور دوسری طرف جدید ادب کی تفہیم و تعبیر کے لئے ان کی کوئی ایسی اہمیت نہیں ہے تو یہ دونوں باتیں ایک ساتھ چل رہی ہیں۔ کیا یہ باتیں بغیر کسی تنقیدی نقطہ نظر کے پیدا ہوسکتی ہیں۔ سچ یہ ہے کہ مقدمے پر بہت کچھ لکھا گیا اور شاید اب اس کی کوئی ایسی تعبیرنہ ہوسکے جو ہمیں چونکائے لیکن پھر بھی مقدمے کی اہمیت برقرار رہے گی لیکن ابھی کاشف الحقائق میں کئی ایسے نکات موجود ہیں جن سے عصر حاضر کی تنقید کا ایک رشتہ قائم ہوسکتا ہے۔ حالی، امداد امام اثر اور شبلی کے بعد حسن عسکری، کلیم الدین احمد اور آل احمد سرور کی تثلیث نے اردو تنقید کو نئی منزلوں سے آشنا کیا۔ یہ تینوں ایک دوسرے سے بہت مختلف بھی ہیں لیکن ہر ایک نے اپنے اپنے طور پر اردو تنقید کو بہت کچھ دیا ہے۔ کیا یہ ضروری ہے کہ حسن عسکری کو پڑھتے ہوئے کلیم الدین احمد کو رد کیا جائے اور کلیم الدین احمد کو پڑھتے ہوئے حسن عسکری کا مذاق اڑایا جائے۔ اصل میں سارا مسئلہ ہماری ترجیحات کا ہے۔ یہ ایک بد دیانتی ہے کہ ادب کے کسی ایک پہلو سے کسی نقاد کی تمام خدمات پر خاک ڈال دی جائے۔ اگر شروع ہی میں تعصب گھر کرلے تو نتائج غلط ہی نکلیں گے۔اگر عصری تنقید کی تمام خرابیوں کو ہم تسلیم بھی کرلیں تو کیا اس سے تخلیق کا بھلا ہوجائے گا۔کیا کسی تنقید نے تخلیق کاروں کو منع کیا ہے کہ آپ اچھا ادب تخلیق نہ کریں۔ اگر تنقید تخلیق کاروں کو گمراہ کرتی ہے تو تخلیق کاروں کو اپنی گمراہی کا احساس کیوں نہیں ہوتا۔ تخلیق کاروں کو اپنے اوپر اتنا اعتماد کیوں نہیں ہے کہ وہ خاموشی کے ساتھ ادب تخلیق کریں اور نقادوں کی طرف للچائی ہوئی نظر سے نہ دیکھیں۔ اگر تخلیق کار چھپ چھپ کر نقاد سے ملتا ہے اور کچھ لکھنے کی گزارش کرتا ہے تو اس خرابی کا ذمہ دار نقاد کیسے ہوسکتا ہے۔ اس طرح بھی سوچنا چاہئے کہ تنقید تخلیقی ادب سے تعلق رکھتی ہے تو پھر اس سے تخلیق کاروں کو فکری سطح پر کچھ نہ کچھ فائدہ ہی ہوگا۔ رہا مسئلہ ان نقادوں کا جو پڑھنے، سوچنے اور محسوس کرنے سے زیادہ بیانات دینے پر یقین رکھتے ہیں ان کے غم میں بیمار ہونے کی ضرورت نہیں ہے انہیں اپنا کام کرنے دیجئے۔ تاریخ میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ تنقید نے تخلیق کارو ں کے سوتے خشک کردیے ہوں۔ ’’تنقید کا منصب موجودہ منظر نامے میں‘‘( 1864) میتھو آرنلڈ۔’’تنقید کا منصب موجودہ عہد میں‘‘ (1949 ) نارتھ روپ فرائی۔’’تنقید بطور زبان‘‘ (1969) رولاں بارت۔ ان مضامین نے تنقید کو نظری طور پر بہت کچھ دیا ہے اب کوئی انہیں پڑھنا نہ چاہے تو کیا کیا جاسکتا ہے۔ کیا اب بھی اس کا وقت باقی ہے کہ ہم اس بحث میں الجھے رہیں کہ تخلیق پہلے ہے اور تنقید بعد میں۔ یہ سنتے سنتے ہم تھک چکے ہیں کہ تنقید کا کام تخلیقی ادب میں دلچسپی کو بڑھانا ہے۔ اس ایک جملے کو بنیاد بنا کر تنقیدکے علمی پہلو کو رد کرنا کس قدر زیادتی ہوگی۔ یہ محض اتفاق نہیں کہ اس عہد کے دو ذہین اور صاحب نظر ادیب خالد جاوید اور ناصر عباس نیر نے اپنی کتاب کے پیش لفظ میں تنقید کے تعلق سے جو موقف اختیار کیا ہے اس میں ایک مماثلت ہے۔ خالد جاوید نے اپنے ناول ’’نعمت خانہ‘‘ کے پیش لفظ میں تنقید کو بڑی اہمیت دی ہے اور خاموشی کے ساتھ یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ تخلیقی ادب لکھنے کے نام پر بے خبری ایک عذاب ہے۔ ناصر عباس نیر اپنی کتاب’’جدیدیت اور مابعد جدیدیت کے پیش لفظ میں لکھتے ہیں: ’’ تخلیق کو ایک ایسی سرگرمی کہا گیا ہے جو ہر چند تخیلی ہے مگر برابر دنیا سے متعلق رہتی ہے۔ دوسروں لفظوں میں تخلیق دنیا کی تخیلی ترجمانی کرتی ہے گویا یہ سمجھا جاتا ہے کہ کوئی حقیقت ایک آزاد وجود رکھتی ہے ۔ تخلیق اپنے مخصوص تخیلاتی عمل سے گزار کر پیش کرتی ہے۔ جب تنقید تخلیق کی صورت پر اپنا قیاس کرتی ہے تو وہ تخلیق سے وہی رشتہ قائم کرتی ہے جو تخلیق نے دنیا سے قائم کررکھا ہے۔ تنقیدی اور تخلیقی کتاب کے پیش لفظ کا اس طرح ایک دوسرے سے ہم آہنگ ہوجانا تنقیدی اور تخلیقی سرگرمی کا مشترک فیضان ہے۔ اس دیباچے میں ناصر عباس نیر نے اور بھی کئی اہم باتیں کہی ہیں جن سے پتہ چلتا ہے کہ تنقید تخلیق کی پابند نہیں ہے بلکہ وہ ساتھ بھی اور الگ بھی ۔ چند دنوں پہلے پروفیسر شمیم حنفی نے ایک ملاقات میں مجھ سے یہ بات کہی کہ مجھے اب محسوس ہوتا ہے کہ جب احتشام حسین اور آل احمد سرور نہیں پڑھے جائیں گے تو اس وقت بھی کلیم الدین احمد پڑھے جائیں گے۔ میں نے اس کی وضاحت چاہی تو انہوں نے فرمایا کہ دیکھو کلیم الدین احمد کے یہاں ایک فکری نظام ہے انہوں نے جس طرح مقدمات قائم کئے ان کی اہمیت ہمیشہ باقی رہے گی اس صورت میں بھی کہ آپ ان سے اختلاف کریں لیکن انہوں نے شروع سے آخر تک اپنے آپ کو رد نہیں کیا۔
عصر حاضر میں شمیم حنفی ایسے تنہا نقاد ہیں جنہوں نے تنقید کے نظریاتی مسائل میں دلچسپی کا اظہار نہیں کیا ان کے کئی مضامین بنیادی طور پر معاصر تنقید کے رد کے طور پر دیکھے جاسکتے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT