Sunday , August 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / توازن اور اعتدال ایک کائناتی حقیقت

توازن اور اعتدال ایک کائناتی حقیقت

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ توازن و اعتدال ایک کائناتی حقیقت ہے ۔ کائنات میں ہم کو ہر جگہ ہرچیز میں توازن و اعتدال نظر آتا ہے جس سے ہر شئے کو قیام و استحکام نصیب ہوتا ہے ۔ اگر آدمی نقطۂ اعتدال سے ہٹ جائے ، وسطیت اور میانگی سے منہ موڑلے تو لازماً طرفین میں سے کسی انتہا کی طرف مائل ہوکر انتہاپسند ہوجائے گا اور انتہاپسندی ہی کا دوسرا نام ’شدت‘ ہے ۔ خوب یاد رکھیے شدت اور تشدد کا مادہ ایک ہی ہے اس لئے ان دونوں کے ڈانڈے بہت جلد ایک دوسرے سے مل جاتے ہیں۔ پھر جب ’تشدد‘ آجاتا ہے تو عمل اور ردعمل کا دروازہ کھل جاتا ہے اور Tug of War ( رسہ کشی ) شروع ہوجاتی ہے جو آدمی کو بالآخر دہشت گرد بناکر چھوڑتی ہے۔
آج دنیا جس دہشت گردی سے پریشان اور خوف زدہ ہے ، اس کی بنیادی وجہ راہ اعتدال سے انحراف ہے اور یہی سارے فساد کی جڑ ہے ۔ لوگ اپنے نظریات میں متشدد ہوکر برداشت اور تحمل کی قوت سے محروم ہوجاتے ہیں گر وہ ، فرقے اور مکاتب و مسالک ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہوتے اور بزور ایک دوسرے کو ختم کردینا چاہتے ہیں ۔ اسی ذہنیت کی وجہ سے امن و امان رخصت ہوچکا ہے ۔ ہر طرف بدامنی اور دہشت گردی کا دور دورہ ہے ۔
اگر دوسری قومیں راہ اعتدال چھوڑدیتی ہیں تو کچھ زیادہ حیرت کی بات نہیں کیوں کہ ان کو توازن و اعتدال کی تعلیم ملی ہی نہیں ، لیکن اُمت مسلمہ اگر راہ اعتدال چھوڑتی ہے تو یہ بڑے تعجب اور حیرانی کی بات ہے کیوں کہ اس اُمت کو توازن و اعتدال کی تعلیم واضح اور مفصل ملی ہے ۔ قرآن حکیم نے توازن واعتدال کو کائنات کی ایک زندہ اور جیتی جاگتی حقیقت کے طورپر پیش کیا ہے اور اسی بنیاد پر اُمت مسلمہ کو ’اُمت وسط‘ کے شیریں اور دل نواز لقب سے نوازا گیا ہے اور تلقین کی گئی ہے کہ اس زندہ حقیقت ( توازن و اعتدال ) کو دیکھو اور تم بھی اپنے اندر توازن و اعتدال پیدا کرو کیوں کہ اس حقیقت کا تقاضہ ہے کہ اس کو اپنایا جائے ۔
اﷲ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ترجمہ : اﷲ نے آسمان کو بلند کردیا ہے اور اس میں توازن قائم کردیا ہے ، اس آفاقی توازن کا تقاضہ ہے کہ تم بھی توازن و اعتدال میں تجاوز نہ کرو ۔
( سورہ رحمن ۵۵:۷،۸)

یعنی اﷲ نے آسمان جیسی ناپیدا کنار چھت بلند کردی ہے جس کی وسعتوں کا اندازہ تک نہیں کیا جاسکتا اور اس میں ایسا توازن رکھ دیا ہے کہ اس کے کسی گوشے تک میں کسی رخنے اور خلل کا وجود نہیں ، اس سے تمہیں خالق کی مرضی کا پتہ چلتا ہے ۔ چنانچہ اس کا تقاضا ہے کہ تم بھی اپنے دائرہ کار اور دائرہ اختیار میں توازن و اعتدال قائم کرو اور اس بارے میں تجاوز نہ کرو ۔
لیکن مقام افسوس ہی نہیں بلکہ مقام گریہ ہے کہ جس اُمت کو ایسی اعلیٰ تعلیم ملی تھی آج وہی اُمت دوسری قوموں سے کہیں زیادہ ہوش و خرد سے ناآشنا ، حواس باختہ ہوکر عدم توازن اور بے اعتدالی کی راہ پر تیزی سے دوڑ رہی ہے اور فرقہ بندی ، قتل و غارت اور دہشت گردی کی آگ میں آج سارا عالم اسلام بھسم ہوا جارہا ہے ۔ برصغیر میں ہمارا مشاہدہ ہے کہ نہایت سلیم الطبع اور معتدل فکر و نظر رکھنے والا گروہ اہل سنت جیسا سواداعظم بھی دو مکاتب فکر میں تقسیم ہوکر رہ گیا ہے ۔ ایک مکتب نے خواہشاتِ نفس کی پیروی میں اباحت کو اتنا وسیع کردیا ہے کہ مباحات بھی فرائض جیسے ہوگئے ہیں اور دوسرا مکتب بدعت کے بارے میں اتنا الرجک(Alergic) ہوگیا ہے کہ اس کو ہر نئی چیز بدعت نظر آتی ہے خواہ اس کا تعلق دین سے ہو یا نہ ہو ۔ یا پھر بدعت حسنہ اور سئیہ کا فرق ہی مٹ جاتا ہے ۔ غرض ان دونوں مکاتب فکر نے چھوٹے چھوٹے اختلافات میں اُلجھ کر اپنی مسجدیں تک الگ کرلی ہیں۔ استغفراﷲ۔ حالانکہ دونوں کا خدا ایک ، رسول ایک ، قرآن ایک ، سنت ایک ، فقہ ایک ، شریعت ایک ہے حتی یہ کہ دونوں کے اہل طریقت بھی اور دونوں کے آئمہ اور مشائخ بھی مشترک ہیں۔ پھر بھی یہ بعد المشرقین!!
لیکن مجھے خوشی ہے کہ الحمدﷲ اس اختلافی فضا میں بھی علمائے جامعہ نظامیہ ، بانیٔ جامعہ کے معتدل افکار کی روشنی میں مسلک اعتدال پر قائم ہیں ۔ آج دنیا امن و عافیت کے لئے ترس رہی ہے ۔ امن و عافیت صرف مسلک اعتدال میں پوشیدہ ہے ۔ رواداری اور تحمل اسی کی کوکھ سے جنم لیتے ہیں ۔ اگر آپ نے توازن و اعتدال کی کائناتی حقیقت کو سمجھ لیا ہے تو پھر اس پیغام کو عام کیجئے اور اس مسلک اعتدال کی اشاعت میں اپنی بہترین صلاحیتیں صرف کیجئے کیوں کہ آج راہ اعتدال کی بالعموم ساری دنیا کو اور بالخصوص مسلمانوں کو سخت ضرورت ہے ، اس سے اتحاد ملت کی راہ ہموار ہوگی اور آپ عنداﷲ ماجور ہوں گے ۔ اﷲ آپ کا حامی  و ناصر ہو ۔
کوئی سنے نہ سنے انقلاب کی آواز
پکارنے کی حدوں تک تو ہم پکار آئے

TOPPOPULARRECENT