Friday , October 20 2017
Home / اضلاع کی خبریں / توبہ و استغفار‘ خشک سالی سے نجات کا واحد حل

توبہ و استغفار‘ خشک سالی سے نجات کا واحد حل

محبوب نگر ۔20اپریل ( ذریعہ فیاکس) ضلع محبوب نگر کے دو روزہ دینی و دعوتی اجتماع کی افتتاحی نشست سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اعجاز رشادی نے کہا کہ اللہ پاک نے اپنے حبیب حضرت محمد محمدﷺ کو پورے عالم کا نبی بناکر بھیجا ۔آپؐ پر نبوت کا سلسلہ ختم فرما دیا ‘ نہ کوئی نبی آئے گا نہ کسی پر وحی اور کتاب آئے گی ۔ آپؐ آحری پیغمبر ہیں اور یہ امت محمدیہ بھی آخری امت ہے ۔ اس کے بعد قیامت قائم ہوگی ۔ حضورؐ نے اس امت کو دین کا امین بنایاہے ‘ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنوں کے ساتھ اور غیر مسلم بھائیوں کے ساتھ بھی اخلاق اور رواداری کا معاملہ کریں تاکہ دعوت موثر ہو ۔ مولانا محمد عبدالقوی حسامی مکتھل نے بنجر بستیوں میں آباد مسلمانوں کی دین سے دوری اور اسلام دشمن طاقتوں کی سرگرمیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اہل علم و اہل ثروت کو اس طرف بطور خاص توجہ دینے کی گذارش کی ۔ مولانا محمد خالد رشادی نے کہا کہ عصر حاضر کی مادی ترقی نے جسمانی آرام کے حصول کو آسان بنادیا جب کہ وہ روحانی سکون سے محروم ہے جب کہ اطمینان قلب والینعمت کو حاصل کرنے کیلئے اللہ تعالیٰ کا ذکر لازمی ہے ۔ مولانا نے تفصیل سے قرآن و حدیث کی روشنی میں دلائل بیان کئے ۔ پہلے دن بعد نماز مغرب مفتی عبداللہ خامد رشادی ناظم جامعہ تعلیم البنات محبوب نگر نے موجودہ ملکی اور ریاستی خشک سالی کی انتہائی ابتر صورتحال پر کہا کہ اس کا واحد حل رجوع الی اللہ اور کثرت سے توبہ و استغفار ہے کیونکہ بندوں کے گناہوں کی کثرت سے اللہ بارش روک لیتے ہیں ۔ مولانا نے مزید کہاکہ یہ اُمت سب سے بہتر اُمت ہے ۔ ختم نبوت کے طفیل اس اُمت کو دعوت دین پہنچانے کی ذمہ داری دی گئی جس قدر نبی اکرمؐ کا کام زیادہ سے زیادہ دنیا میں پھیلے گا اس قدر اللہ کی رحمتیں زیادہ ہوں گی اور جس قدر اس کام میں کمی ہوگی تو حق تعالیٰ کا غضب نازل ہوگا ۔مولانا نے قرآن و حدیث کے حوالوں سے دعوت و تبلیغ کی اہمیت موثر انداز میں بیان کی ۔ جناب محمد وزیر امیر جماعت نے اجتماع کے دوسرے دن بعد نماز فجر ضلع کے کارکنوں اور شہر کے خواص سے تبلیغ کا مقصد اور اُس کے طریقے کار اور داعیدینکی صفات پر خطاب کیا ۔ نماز ظہر سے قبل ضلع محبوب نگر کے علماء حفاظ و ائمہ دین کی خصوصی نشست سے دعوت دین میں علما کے کردار پر مولانا جابر بن خالد رشادی اور مولانا احمد اللہ نثار نے تفصیلی روشنی ڈالی ۔ بعد نمازعصر اجتماعی نکاح کی محفل سے مولانا محمد امیراللہ خان قاسمی ناظم مدرسہ سراج العلوم نے نکاح میں سادگی و دینداری کی اہمیت پر فکر انگیز بیان کیا ۔ اس موقع پر تین نوجوانوں کا نکاح ہوا‘ بعدازاں مولانا نے خطبہ نکاح پڑھا ۔ اجتماع کی آخری نشست سے مولانا غلام محمد رشیدی مکتھل نے کہا کہ اللہ تک پہنچنے کا راستہ رسول اللہﷺ کی غلامی و اتباع میں ہے ۔ ہندوستان میں دین اسلام کے فروغ کیلئے اولیائے کرام کا بڑا حصہ رہا ہے ۔مولانا نے ایمانیات کے علاوہ عبادات ‘ معاشرت ‘ معاملات اور اخلاقیات کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالی ۔ بعدازاں مولانا کی رقت انگیز دعاء پر یہ دو روزہ اجتماع اختتام پذیر ہوا ۔ راہ خدا میں جانے والی جماعتوں نے شہر کے قدیم بزرگ داعی مولوی محمد خواجہ معین الدین سے مصافحہ کا شرف حاصل کیا ۔ چلچلاتی دھوپ کے باوجود ضلع بھر سے ہزاروں افراد نے شرکت کی ۔ اجتماع میں مفتی عبداللہ حامد رشادی اورحافظ رضوان احمد نے امامت کے فرائض بحسن و خوبی انجام دیئے ۔ آخر میں محمد وزیر کارگذار امیر جماعت نے المدینہ کالج آف ایجوکیشن کی سوسائٹی کے تمام ذمہ داران کا حکومتی سطح پر ایم پی‘ ایم ایل اے صاحبان کیعلاوہ محکمہ بلدیہ ‘ برقی اور محکمہ پولیس کا شکریہ ادا کیا ۔ بطور خاص ان نوجوانوں اور کارکنوں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اپنی مخلصانہ تعاون سے دامے ‘ درمے قدمے تعاون کیا ۔

TOPPOPULARRECENT