Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / صفائی، سڑک اور ڈرنیج گٹہ اور یاقوت پورہ کے اہم دیرینہ مسائل

صفائی، سڑک اور ڈرنیج گٹہ اور یاقوت پورہ کے اہم دیرینہ مسائل

حیدرآباد۔ 7 جنوری (سیاست نیوز) حلقہ اسمبلی چندرائن گٹہ اور یاقوت پورہ کے علاقوں میں آنے والے بلدی حلقہ جات کے ترقیاتی کاموں کی صورتحال یا شہریوں کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے مسائل کا جائزہ لیا جائے تو ان علاقوں کی حالت بھی دیگر علاقوں سے بہتر نہیں ہے بلکہ یہ علاقہ مزید ابتری کا شکار بنتے جارہے ہیں۔ ان علاقوں میں دبیرپورہ، چھاؤنی، رین بازار، تالاب چنچلم، للیتا باغ اور سنتوش نگر بلدی حلقہ جات کی حالت زار کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ان علاقوں میں بھی صرف عارضی روایتی ترقیاتی سرگرمیاں نظر آتی ہیں جبکہ ٹھوس اقدامات کے سلسلے میں توجہ دہانی کے باوجود کوئی عملی کارروائی نہیں ہوتی۔ بلدی حلقہ دبیر پورہ کو درپیش مسائل میں تمام بنیادی مسائل شامل ہیں جیسے آبی سربراہی معمول کے مطابق نہ ہونا، صفائی کا ناقص انتظام، برقی سربراہی میں غیرمعلنہ کٹوتی، سڑکوں کی خستہ حالی، ناقص ڈرینج نظام جیسے مسائل کا اس بلدی حلقہ میں سامنا رہا ہے۔ 2002ء میں اس حلقہ سے کامیاب ہونے والے امیدوار نے کچھ حد تک ترقیاتی سرگرمیوں کو تیز کیا تھا لیکن 2010ء میں ہوئے انتخابات سے یہ بلدی حلقہ مسائل کے حل کے بجائے سیاسی الجھنوں میں گرفتار رہا جس کے سبب ترقیاتی سرگرمیاں بڑی حد تک ٹھپ ہوچکی ہیں۔ موجودہ فہرست رائے دہندگان کے مطابق بلدی حلقہ دبیرپورہ میں 45,238 رائے دہندے موجود ہیں جس میں 23,448 مرد اور 21,783 خاتون رائے دہندے شامل ہیں۔ بلدی حلقہ چھاؤنی میں نالوں کے مسائل عرصہ دراز سے جوں کے توں ہیں اور سالانہ موسم باراں سے قبل کچھ حد تک نالوں کی صفائی ہوتی ہے لیکن صفائی سے جو گندگی نکالی جاتی ہے وہ سال بھر نالوں کے پاس پڑی ہوتی ہے جس سے علاقہ کے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چھاؤنی بلدی حلقہ میں رائے دہندوں کی تعداد 41,776 ہے جس میں 21,265 مرد اور 20,504 خاتون رائے دہندے شامل ہیں۔ ان رائے دہندوں کے مسائل شہر کے دیگر رائے دہندوں سے کچھ مختلف نہیں ہیں۔ علاقہ میں اعلیٰ و پیشہ ورانہ تعلیم کیلئے سہولتوں کی فراہمی بالخصوص آئی ٹی آئی وغیرہ کے لئے متعدد نمائندگیاں منتخب نمائندوں سے کی جاچکی ہیں جس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہوئے۔ بلدی حلقہ چھاؤنی بھی سیاسی رسہ کشی کا شکار رہا جس کے سبب ترقیاتی کام ماند پڑ چکے ہیں۔ عوام میں سابق نمائندوں کے متعلق شدید برہمی پائی جاتی ہے جنہوں نے عوامی مسائل کے حل پر توجہ نہیں دی۔ بلدی حلقہ رین بازار میں ترقیاتی کاموں کے وعدے تو کئے گئے تھے لیکن اس علاقہ کے عوام بھی سڑکوں پر گندے پانی کے بہنے، کچرے کی عدم نکاسی، بلاوقفہ برقی سربراہی ، روزانہ پانی کے مسائل جیسے بنیادی ضروری اُمور کے متعلق آج بھی پریشان ہیں۔ اس بلدی حلقہ میں کئی لوگ روزمرہ کی زندگی کیلئے چھوٹے موٹے کاروبار پر انحصار کرتے ہیں۔ انہیں اپنے مسائل کیلئے سیاسی قائدین یا سرکاری دفاتر کے چکر کاٹنے کا وقت نہیں ملتا جس کی وجہ سے وہ اسی حالت میں گذار رہے ہیں۔ رین بازار میں جملہ رائے دہندوں کی تعداد 37,214 ہے جن میں 19,378 مرد اور 17,834 خاتون رائے دہندے شامل ہیں۔ تالاب چنچلم بلدی حلقہ شہر کے پسماندہ علاقوں میں سرفہرست علاقوں میں شامل ہے۔ اس بلدی حلقہ میں عوام اپنے طور پر تعلیمی و معاشی ترقی حاصل کررہے ہیں لیکن انہیں کوئی سرکاری یا سیاسی مدد نہیں ملتی بلکہ اسی علاقہ میں سب سے زیادہ سود خوروں کے مظالم منظر عام پر آرہے ہیں۔ کئی برسوں سے اس بلدی حلقہ کو جرائم سے پاک بنانے کیلئے نمائندگی کی جاتی رہی ہیں اور گزشتہ عام انتخابات میں یہ وعدہ بھی کیا گیا تھا کہ اس علاقہ کو محفوظ علاقہ بنانے اور سود خوروں کے علاوہ اوباش نوجوانوں کی گھناؤنی سرگرمیوں سے پاک کرنے کیلئے علاقہ میں سی سی ٹی وی کیمرے نصب کئے جائیں گے لیکن ایسا نہیں ہو پایا ہے، جس کی وجہ سے عوام میں ناراضگی پائی جاتی ہے۔ علاقہ کی ترقیاتی سرگرمیوں کو بہتر بنانے کیلئے توقع کی جارہی ہے کہ اس علاقہ کی باگ ڈور اب تبدیل کی جائے گی۔ تالاب چنچلم میں جملہ 39,099 رائے دہندے ہیں جن میں 21,098 مرد اور 17,999 خاتون رائے دہندے شامل ہیں۔ للیتا باغ بلدی حلقہ میں بھی نالوں کے علاوہ سڑکوں کی ابتر صورتحال کے مسائل کا عوام کو سامنا ہے جوکہ طویل عرصہ سے سڑکوں کی حالت کو بہتر بنانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ منتخب عوامی نمائندہ بلدی مسائل کے حل کیلئے ہوتا ہے جبکہ پرانے شہر کے کئی علاقوں میں بلدیہ کیلئے منتخب ہوئے نمائندوں کو مذہب کی حفاظت کیلئے منتخب کئے گئے قائدین کی طرح پیش کیا جاتا ہے اور منتخبہ نمائندہ بھی خود کو رائے دہندوں سے برتر تصور کرتے ہوئے مسائل کے حل کے بجائے دیگر سرگرمیوں میں مصروف رکھتے ہیں۔ للیتا باغ بلدی حلقہ کی بعض سڑکوں پر کی گئی توسیع کے بعد سڑک کی تعمیر نہ کئے جانے سے عوام مشکلات کا شکار ہیں۔ اس حلقہ میں بھی باگ ڈور کی تبدیلی کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں جہاں جملہ 38,763 رائے دہندے ہیں جن میں 20,199 مرد اور 18,557 خاتون رائے دہندے شامل ہیں۔ للیتا باغ کے عوام مسائل کے حل کیلئے حرکیاتی قیادت کے انتخاب پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔ سنتوش نگر بلدی حلقہ میں گزشتہ 6 برسوں کے دوران ترقیاتی سرگرمیوں کے نام پر سڑکوں کی تعمیر کے علاوہ کوئی ایسا ٹھوس کام انجام نہیں دیا گیا جس سے علاقہ کے عوام کو درپیش سیوریج اور آبرسانی کے مسائل کو حل کیا جاسکے۔ سنتوش نگر بلدی حلقہ میں کئی کالونیز موجود ہیں جہاں شہر کے معززین کی بڑی تعداد رہتی ہے۔ ان کالونیز کو شہری اپنے طور پر پاک و صاف رکھنے کے علاوہ بنیادی سہولتوں سے آراستہ کررہے ہیں جبکہ اس حلقہ میں موجود کئی علاقے جو اب بھی پسماندہ ہیں، ان علاقہ کے مکینوں کو ہنوز  بنیادی سہولتوں کیلئے در بہ در کی ٹھوکریں کھانی پڑتی ہیں۔ منتخب اراکین بلدیہ کی ذمہ داری محلہ جات میں صفائی کے انتظام کو بہتر بنانے کے علاوہ ہر علاقہ میں بنیادی سہولتوں کی فراہمی کو یقینی ہے لیکن عمومی طور پر ان ذمہ داروں کو نبھانے میں اراکین بلدیہ ناکام ہی نظر آتے ہیں جبکہ انتخابات سے قبل ان کی سرگرمیاں تیز ہوجاتی ہیں اور وہ بڑے بڑے ترقیاتی و تعمیراتی کاموں کے آغاز کی دہائی دیتے ہوئے عوام سے ووٹ مانگتے ہیں۔ حقیقت میں اگر سرگرمیوں کا جائزہ لیا جائے تو کئی علاقوں میں آج بھی بنیادی سہولتیں موجود نہیں ہیں جس کی ذمہ داری ان ہی افراد پر عائد ہوتی ہے جن لوگوں نے عوامی تائید کے ساتھ ان کے مسائل حل کرنے کا بیڑہ اٹھایا تھا۔

TOPPOPULARRECENT