Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / توہین مذہب کے مقدمے میں جکارتہ کے گورنر کو دو برس کی قید

توہین مذہب کے مقدمے میں جکارتہ کے گورنر کو دو برس کی قید

جکارتہ ۔ 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) انڈونیشیا کے دارالحکومت جکارتہ کے گورنر بسوکی تجھاجہ پرنام کو ایک متنازعہ مقدمے میں توہین مذہب کا الزام ثابت ہونے پر دو برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔’آہوک’ کے نام سے مشہور گورنر پرناما پر گورنر کے انتخابات کی مہم کے دوران قرآن کی توہین کرنے کا الزام تھا۔سپریم کورٹ میں مقدمے کی سماعت میں گورنر پرناما کو توہین مذہب اور تشدد کو ہوا دینے کے الزام میں دو برس قید کی سزا سنائی گئی ہے۔مقدمے کی سماعت کے موقع پر ان کی حمایت اور مخالفت میں بڑی تعداد میں لوگ عدالت کے باہر جمع تھے۔حکام نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کر رکھے تھے اور عدالت کے باہر فوج اور پولیس کے پندرہ ہزار اہلکاروں کو تعینات کیا گیا تھا۔بلوا پولیس اور بکتر بند گاڑیوں کے ذریعے گورنر کے حامیوں اور مخالفین کو ایک دوسرے سے دور رکھا گیا۔پرناما عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے ہیں اور گذشتہ 50 سالوں میں جکارتہ کے پہلے غیر مسلم گورنر ہیں اور وہ اصلاحاتی پالیسیوں اور بدعنوانی کے خلاف اپنے سخت موقف کے باعث کافی شہرت رکھتے ہیں۔سخت گیر مسلمانوں نے پرناما کے خلاف احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے ان پر مستعفی ہونے کا دباؤ ڈال رکھا تھا۔
میکسیکو میں دھماکہ، 14 ہلاک
پوہیلا 9 مئی (سیاست ڈاٹ کام) میکسیکومیں پٹاخوں کے ایک گودام میں دھماکے کے نتیجہ میںکم سے کم 14 افراد ہلاک اور دیگر 22 زخمی ہوگئے۔ یہ دھماکہ وسطی پوبیلا ریاست کے دیہی علاقہ ڈیوڈورو کاراسکو میں دوشنبہ کی شب ہوا۔

TOPPOPULARRECENT