Monday , October 23 2017
Home / دنیا / تھائی لینڈ:نیا مسودہ دستور فوج کی حمایت یافتہ کونسل میں مسترد

تھائی لینڈ:نیا مسودہ دستور فوج کی حمایت یافتہ کونسل میں مسترد

247رکنی قومی اصلاحات کونسل کے نئے صدرنشین کا انتخاب ‘ ایک اور مسودہ دستور کی تیاری

بنکاک۔6ستمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) تھائی لینڈ کی فوج کی مقررکردہ اصلاحات کونسل نے آج نئے مسودہ دستور کو مسترد کردیا ۔ اس طرح فوجی بغاوت کے لحاظ سے مخدوش تھائی لینڈ میں جمہوریت کی واپسی تاخیر کا شکار ہوگئی ۔ گذشتہ سال فوج نے اقتدار پر قبضہ کرلیا اور عوام کے اندیشوں میں اضافہ ہوگیا کہ فوج اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرتی جارہی ہے ۔ 247رکنی قومی اصلاحات کونسل نے 135 ارکان کی تائید اور 105ارکان کی مخالفت کے بعد نئے صدرنشین مسودہ  دستور کمیٹی کا انتخاب کرلیا ‘ تاکہ ایک اور مسودہ دستور تیار کیا جاسکے ۔ رائے دہی کے دوران پانچ ارکان غیر حاضر رہے ۔ قومی اصلاحات کمیٹی کے آدھے سے کم تعداد میں ارکان کی نئے صدرنشین کے انتخاب کی تائید کا مطلب یہ ہے کہ قومی اصلاحات کمیٹی کے اجلاس میں دستور کے مسودہ کو مسترد کردیا گیا ہے ۔

نئے صدرنشین تینچائی کرانن نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جن افراد نے دستور کے مسودہ کو مسترد کردیا ہے اُن میں فوج ‘ پولیس کے عہدیدار اور سیاست داں شامل تھے ۔ اس فیصلہ کا یہ مطلب ہے کہ آئندہ سال جنوری میں مقرر استصواب عامہ منعقد نہیں کیا جائے گا اور قومی انتخابات میں تاخیر ہوگی۔ حکومت نے قبل ازیں کہا تھا کہ انتخابات 2016ء کے وسط میں ممکن ہے لیکن تجزیہ نگاروں کا اب یہ کہنا ہے کہ 2017ء تک انتخابات کا انعقاد ناممکن ہے ۔ دستور کے مسودہ کو مسترد کردینے کے بعد قومی اصلاحات کونسل کی میعاد ختم ہوجائے گی اور ایک نئی دستور ساز کمیٹی قائم کی جائے گی ‘ اُسے دستور کا نیا مسودہ تیار کرنے کیلئے 180دن کی مہلت دی جائے گی ۔ نئی دستور ساز کمیٹی اپنا کام مکمل کرلے گی اور دستور کا مسودہ چار ماہ میں عوام کی رائے حاصل کرنے کیلئے رکھا جائے گا ۔ فوج نے سابق دستور کو منسوخ کردیا ہے ۔ وزیراعظم انگلک شناوترا کو برطرف کردیا گیا ۔

TOPPOPULARRECENT