Thursday , August 24 2017
Home / مضامین / تھینک یو مودی جی … ’’ منتشر ‘‘مسلمانوں کو’’متحد‘‘ کرنے کیلئے !

تھینک یو مودی جی … ’’ منتشر ‘‘مسلمانوں کو’’متحد‘‘ کرنے کیلئے !

محمد جسیم الدین نظامی
کہتے ہیں کہ ’’ہر شر میں خیرکا پہلو پوشید ہ ہوتاہے‘‘ یہ کس قد ر آفاقی اور چشم کشا جملہ ہے ،اس کا اندازہ موجودہ مرکزی حکومت کی شرانگیزی سے با آسانی لگایا جاسکتا ہے ،جو محض انتخابی فائدہ اوراپنے پوشیدہ ایجنڈے کی تکمیل کیلئے وقفے وقفے سے مسلم طبقے کی مذہبی اورسماجی تشخص پرراست یا باالراست حملے کرتی رہتی ہے۔مگراس بار داؤالٹا پڑتا ہوا نظرآرہا ہے۔شاید ایسے ہی موقع کیلئے کسی شاعرنے کہا تھا ۔
تیرے خلوص نے رکھا مجھے اندھیرے میں
تیرافریب مجھے روشنی میں لے آیا
بھلاہ ہولا ء کمیشن کا ،جس کے مکروفریب سے پُر سوالنامے نے عرصہ دراز سے خود کو مغلوب سمجھنے والی قوم کو خواب خرگو ش سے بیدار کردیا۔وہ قوم جس نے دادری اوربالوماتھ  جیسے وحشت ناک واقعات پر’’متحدہ مخالفت ‘‘درج نہ کراسکی ،وہ قوم جو لو جہاد ، گھرواپسی ،عدم برداشت جیسے مسائل پرکھل کرمحاذآرائی سے گریزا ں نظرآرہی تھی…آج یکساں سول کوڈ کے مسئلے پرمتحدہ طورپر سینہ سپرہوگئی۔وہ قوم جو مسلکی اختلافات کے سبب ایک دوسرے کی بات تک سننا گوار ا نہیں کرتی ہے ،آج وہ روح اسلام اورشریعت اسلامیہ کے تحفظ کیلئے ایک اسٹیج پرآکر ’’امت واحدہ‘‘ کا ثبوت دے رہی ہے۔یہ روح پرور منظر برسوں سے انتشارکے شکار امت مظلومہ کیلئے کسی آب حیات سے کم نہیں۔مسلم پرسنل لاء بورڈ کے زیراہتمام ہونے والی پریس کانفرنس میں تمام مسالک اور تنظیموں کے مسلمان ایک ساتھ نظر آئے۔ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی، جمعیت علمائے ہند کے دونوں گروپ سے مولانا ارشد مدنی اور محمود مدنی، جماعت اسلامی ہند کے محمد جعفرصاحب، جمعیت اہل حدیث کے مولانا اصغر امام مہدی سلفی ، بریلوی مکتب فکر اور اتحاد ملت کونسل کے توقیر رضا خان صاحب ، آل انڈیا ملی کونسل کے ڈاکٹر منظور عالم، دارالعلوم دیوبند کے مہتمم ابو قاسم نعمانی صاحب، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورات کے نوید حمید اور دہلی کے کشمیری گیٹ شیعہ مسجد کے امام محسن صاحب وغیرہ اس کانفرنس میں ایک ساتھ موجود تھے۔  یہ پریس کانفرنس میں یکساں سول کوڈ اور پرسنل مذہبی قوانین کے بارے میں نیشنل لاء کمیشن کی جانب سے پوچھے گئے سوالات کے بارے میںتھی۔ پھربھی جب کچھ صحافیوں نے تین طلاق کے بارے میں سوالات پوچھنے کی کوشش کی تو شائستگی کے ساتھ انکار کر دیا گیا اور انہیں بتایا گیا کہ یہ پریس کانفرنس یکساں سول کوڈ کے موضوع پر ہے نہ کہ سپریم کورٹ میں چل رہے تین طلاق کے مقدمے کو لے کر؟۔ دونوں مسائل ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اور انہیں نہیں ملانا چاہئے۔ لیکن شام میں جب پرائم ٹائم ٹی وی بحث شروع ہوئی تو ان کا سارازور اور ساری توجہ’’ ٹرپل طلاق‘‘ پر ہی مرکوز تھا، جو شاید وہ کسی ’’ہدایات ‘‘کی وجہ سے انجام دے رہے تھے۔ اس ٹی وی مباحثہ  یا ڈیبیٹ میںجو لوگ شامل ہوئے تھے،وہ شریعت اسلامیہ کے بارے میںمناسب معلومات کے بغیر ہی برا بھلا کہہ رہے تھے۔ ٹی وی نیوز چینل بھی اپنے ا سٹوڈیو میں ٹرپل طلاق کے نام نہاد متاثرین کو لے آئے تھے ۔جو رٹے رٹائے بچے کی طرح ایک ہی شکایت کرہے تھے کہ ان پراچانک ای میل ،وہاٹس اپ،ٹوئٹر اورفون کے ذریعہ دھڑادھڑ … طلاق طلاق طلاق کی گولی چلا دی جاتی ہے….  مگر ان معززخواتین نے یہ نہیں بتایا کہ شادی کے فوراً بعد طلاق دیدی گئی یا باہمی اختلافات کی اک ’’طویل ترین ‘‘مرحلے کے بعد یہ نوبت آئی؟۔میں یہاں تین طلاق کی حمایت نہیں کررہاہو ں،میں کیا کوئی بھی مسلمان شرعی طور پر ’’بیک وقت تین طلاق‘‘ کو مناسب نہیں سمجھتا،سوال یہ ہے کہ ٹی وی ڈبیٹ کرانے والے  یا کرنے والے ’’طلاق کے پس منظر ‘‘اوراسکے وجوہات پہ ڈبیٹ کیو ںنہیںکرتے؟۔ اصل میں مسئلہ یہ ہے کہ اس مسئلے کے ذریعہ زعفرانی زدہ میڈیا اور حکومت یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ مسلم خواتین  کے سارے سماجی ،معاشی مسائل کی جڑ ٹرپل طلاق ہی ہے جسکے خاتمے کے ساتھ ہی سارے مسائل حل ہوجائنگے۔سوال یہ ہے کہ اگریہ میڈ یا قوم کے مسائل پر اتنا ہی سنجیدہ ہے تو وہ اپنے اسٹوڈیو ںمیں ان بے بس ماؤں کو بلاکر ڈبیٹ کیوںنہیں کراتے ،جنکے لخت جگر کو صرف اسلئے اذیت دیکر درخت سے لٹکاکر پھانسی دیدی جاتی ہے ،کہ ان پر ’’گاؤ ماتا‘‘ کی اسمگلنگ کا صر ف الزام عائدکیاجاتاہے۔ ان بیواؤں کو ٹی وی اسٹوڈیوںمیں کیوںنہیں بلایاجاتا،جنکے شوہرو ںکو محض بیف رکھنے کے الزام میں سرعام زودکوب کرتے ہوئے ہلاک کردیا جاتاہے۔یہ نیوزچینل والے کیا مدھیہ پردیش کے ان مسلم خاندان کو اپنی ڈبیٹ کاحصہ بنائنگے ؟ جنکے ارکان خاندان کو نہ صرف ایک دوسرے کا پیشاب پینے پرمجبورکیا گیا ،بلکہ انہیں ایک دوسرے کے ساتھ جنسی عمل کیلئے بھی مجبور کردیا گیا۔ملک کی ترقی اور قوم کی فلاح وبہبود کیلئے اپنے اسٹوڈیوںمیں گلا پھاڑ پھاڑ کر بھاشن دینے والے یہ اینکرس گجرات میں ’’قانون ارتداد‘‘پر کب ڈبیٹ کرائںگے؟…

گجرات کے ’’ڈسٹرب ایریا ایکٹ ‘‘پرکب بات کرینگے؟…دلت مسلمانوں یا دلت عیسائیوں کو ریزرویشن کے موضوع پر کب ڈبیٹ ہوگا؟۔ہم پوچھتے ہیں ان کی بیویاں، ان کی مائیں، ان کی بیٹیاں اسٹوڈیو میں کب آئیں گی جو کشمیر میں پیلیٹ گنس کے شکار ہو گئے…؟ ان کی بیویاں،  بیٹیاں، بہنوںکو ان ٹی وی اسٹوڈیوںمیں کب بلایا جائگا؟ جو دہشت گردی کے جھوٹے الزامات میں ہندوستان کی مختلف جیلوں میں بند ہیں؟ کیا منہاج انصاری کی بہنوں کو یا انکی ماں کو اسٹوڈیوںمیں بلایا گیا جس کی جھارکھنڈ پولیس حراست میں موت ہو گئی؟… کیا کبھی ان کی بیویاں، مائیں، بیٹیاں، یا بہنوں کونیوز ا سٹوڈیو بلاکر ان کا درد جاننے کی کوشش کی گئی جو فرقہ وارانہ فسادات میں بے قصور ہلاک کردئے گئے ؟ …

برسوں سے انصاف کیلئے تڑپ رہی عشرت جہاں کی والدہ کے درد کو کسی نیوزاسٹوڈیوںمیں سمجھنے کی کوشش کی گئی؟… پونہ کے محسن شیخ کی ماں کو دیکھا ہے کبھی ٹی وی اسٹوڈیومیں ؟ یہ میڈیا کی دوغلی پالیسی اور بی جے پی حکومت کی منافقت نہیں تو کیا ہے کہ وہ لوگوں کو یقین دلانا چاہتی ہے کہ ہندوستانی مسلم خواتین کی ساری پریشانیوں کی جڑ ٹرپل طلاق کی وہ روایت ہے جسے بہت کم لوگ ہی تسلیم کرتے ہیں۔ آخر کب تک مسلمانوں کے اہم مسائل کو درکنار کر کے انہیں اس طرح کے مسائل میں الجھایا جائے گا؟ کب مسلمانوں کے لئے ترقی اور اہم مسائل پر مثبت رویہ اختیار کیا جائگا؟ اورسب سے اہم یہ کہ سچر کمیٹی کی سفارشات کو حکومت کب تک نظر انداز کرے گی؟کہتے ہیں نا کہ جب بات نکلتی ہے تو دور تلک جاتی ہے۔ تین طلاق کے مسئلے سے شروع ہوئی بات اب یکساں سول کوڈ تک پہنچ گئی ہے۔ تین طلاق کی مخالفت میں مودی حکومت کو چند نام نہاد مسلم خواتین کی جو حمایت حاصل ہوئی تھی ،اب وہ بھی آہستہ آہستہ کھسکنے لگی ہے۔ حدتو یہ ہے کہ مسٹرظفرسریش والا جو مودی کے راست سمجھے جاتے ہیں،یکساں سول کوڈ کے مسئلے پر الحمد للہ انہو ں نے بھی حمیت ایمانی کاثبوت دیتے ہوئے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف کے ساتھ ہونے کا اعلان کیا ہے۔ یہ یو ٹرن لاء کمیشن کے 16 سوالات پرمبنی’’ سوالنامے ‘‘جاری کرنے کے بعد ہوا ہے۔ اس سوالنامے میں یکساں سول کوڈ سمیت تین طلاق وغیرہ جیسے مسائل شامل ہیں۔ کمیشن نے اس پر لوگوں سے رائے طلب کی ہے، اگرچہ یہ سوالات جمہوری ہندوستان کے تمام شہریوںسے کئے گئے ہیں،لیکن جب آپ غورکریں تو ان میں ایسے سوالات ترتیب دئے گئے ہیں جس میں خصوصی طورپر مسلم اقلیت کو ٹارگٹ کیا گیاہے ۔ یہی وجہ ہے کہ بلالحاظ مسلک و مشرب تمام مسلم مذہبی رہنما ؤں اورتنظیمو ں نے اس سوالنامے کو مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔ وہ اسے مسلمانوں کی شناخت ختم کرنے کی منصوبہ سازی بتا رہے ہیں۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی کے مطابق مودی حکومت ہر معاملے پر ناکام ہو چکی ہے اور یہ عوام کی توجہ بھٹکانے کی ایک منصوبہ بند سازش ہے۔ مسلم پرسنل لاء کے حوالے سے مسلمانوں پر سوال اٹھانے پر جمعیت علما ئے ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے بجا فرمایا کہ ’’مسلمان ایک ہزار سال سے اس ملک میں رہتے چلے آ رہے ہیں اور پرسنل لاء پر عمل کر رہے ہیں مگرکبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی‘‘۔

مولانا مدنی صاحب مسلم پرسنل لاء کو مسلم خواتین کے استحصال کی وجہ بھی نہیں مانتے۔ ان کایہ استدلال بالکل صحیح ہے کہ طلاق کے معاملے ہندوؤں میں زیادہ پائے جاتے ہیں۔ چونکہ ہمیں یہ بھی یاد رکھناچاہئے کہ ہندوؤں میں طلاق سے زیادہ’’ چھوڑدینے ‘‘کا رواج ہے، جو مردم شماری 2012 کی اصل رپورٹ ہے، اس میں ہندو مطلقہ( بذریعہ عدالت )کی ’’تعداد‘‘دی گئی ہے، چھوڑی ہوئی کا شمار نہیں ہے، اگر ہندومطلقہ اور ’’چھوڑی ہوئی‘‘ دونوں کو شمار کرلیاجائے،تو یہ عددی تناسب بہت بڑھ جائے گا، لیکن مسلم عورتوں اورخصوصاً بیک وقت ’’ تین طلاق ‘‘کا اتنا شور مچا یا جاتا ہے گویا ہر مسلمان چار نکاح کرتا ہے، اور ان میں سے تین بیویوںکو طلاق د ید یتا ہے، جب کہ طلاق اور تعدد ازدواج میں مسلمانوں کا تناسب سب سے کم ہے۔بہرحال دیر آید درست آید کے تحت اتحاد امت کا جو سنہری موقع ملا ہے خدا کے واسطے اسے برقرار رکھنے کی ہر گوشے سے ہر ممکن کوشش کی جانی چاہئے،چونکہ  اتحادکمزوروں کوطاقت دیتاہے۔ جانور بھی جب تک غول کی شکل میں رہتے ہیں تواپنے سے خونخوارجانوروں کو بھی اپنے قریب نہیں آنے دیتے، مگر جونہی تنہا ہوتے ہیں اپنے سے طاقتورکا شکار بن جاتے ہیں۔ہم اشرف المخلوقات ہیں تنہا رہیں گے تو تقسم درتقسیم ہوتی رہے گی اور جانوروں سے بدترحالت ہوگی۔ ہمارے انتشار نے آج ہمیں اس حالت میں پہنچادیا ہے کہ ہمارے ایک دلت بھائی (پروفیسر کانچہ ایلیا)کو مسلمانوںکو اتحادکی نصیحت کرنے پرمجبور ہونا پڑا، انہیں یہ تلخ حقیقت بیان کرنی پڑی کہ جب ہمارے ساتھ کوئی مسائل پیدا ہوتے ہیں، تب ہی ہم اتحاد کا مظاہرہ کرتے ہیں ،اورطوفان سر سے گذرجاتاہے توہم سوجاتے ہیں۔ حالانکہ صدیوںپہلے قرآن پاک میں اللہ تعالی نے ارشادفرمادیا ہے’’ اوراللہ عزو جل ورسولﷺ کی اطاعت کیاکرواورآپس میں جھگڑانہ کیاکرو،ورنہ کم ہمت ہوجاؤگے اورتمہاری ہوااکھڑجائے گی اورقوت برداشت پیداکروبے شک اللہ صبرکرنیوالوں کے ساتھ ہے(سورہ انفال۔64)۔اسی طرح حدیث پاک کا مفہوم ہے کہ ’’مومن ایک دیوار کی طرح جس میں سے ایک اینٹ نکال دی جائے تو وہ بتدریج کمزور ہوجاتاہے‘‘۔ ملک کے موجودہ پرآشوب حالات کے پیش نظرمسلم پرسنل لابورڈ کی جانب سے جو موقف اختیار کیا گیا ہے وہ انتہائی بامعنی اوربروقت اقدام ہے۔متعدد مسلکوں کے علمائے دین کے ساتھ ساتھ متعدد معقولیت پسند افراد بھی ہمارے ساتھ ایک پلیٹ فارم پرنظرآرہے ہیںجو مظلوموں اورتباہ حال مسلمانوںکیلئے اک خوش آئند علامت ہے۔پروردگارعالم اس اتحاد میں استقامت عطافرمائے ،آمین۔

TOPPOPULARRECENT