Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تیز رفتار ترقی کے دور میں انسانی زندگی کی رفتار میں کمی

تیز رفتار ترقی کے دور میں انسانی زندگی کی رفتار میں کمی

حیدرآباد کو عالمی شہر میں تبدیلی کی مساعی لیکن شہریوں کی رفتار محدود
حیدرآباد ۔ 8 ۔ جنوری : ( سیاست نیوز ) : ملک کی تمام ریاستوں میں شہر حیدرآباد کو اب ایک نیا اعزاز حاصل ہورہا ہے چونکہ ترقی کی رفتار میں تیزی کا دعویٰ ہے لیکن انسانی زندگی کی رفتار کم ہوتی جارہی ہے ۔ جب کہ شہر کو عالمی معیار کا شہر بنانے کی کوششوں میں بھی کوئی کمی نہیں رہے باوجود اس کے شہری جان بوجھ کر بھی اپنی رفتار کو تیز نہیں کرسکتے ۔ شہریوں کی رفتار زندگی میں کمی کے لیے جہاں ایک طرف بلدی نظام کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے تو اس سارے معاملہ میں عوامی نمائندوں اور دیگر سرکاری مشنری کا رول بھی کوئی کم نہیں چونکہ شہر میں ٹرافک کی رفتار فی گھنٹہ 16 کیلومیٹر ہوگئی ہے جب کہ اس کی بہ نسبت دیگر شہریوں میں ٹرافک کی رفتار 19 کیلو میٹر فی گھنٹہ بتائی جاتی ہے ۔ شہر میں ٹرافک رفتار میں کمی میٹرو ریل کے تعمیراتی کاموں کے سبب تصور کی جاتی ہے ۔ اور اس کے علاوہ سڑکوں کی من مانی کھدوائی بھی اس رفتار میں کمی کی قصوار ثابت ہورہی ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ بلدی عہدیدار ٹیکس کی شکل میں معقول رقم وصول کرنے کے باوجود بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں اکثر طور پر ناکام ہیں ۔ جب کہ بلدی عہدیداروں کا کہنا ہے کہ ہر ماہ 50 تا 60 ہزار موٹر گاڑیاں ٹو وہیلر 4 وہیلرس و دیگر سڑکوں پر آرہی ہیں جس کے سبب ٹریفک کا مسئلہ سنگین صورتحال اختیار کرتا جارہا ہے ۔ اس کے برخلاف شہریوں کا کہنا ہے کہ ہر گاڑی رجسٹریشن کے وقت ٹیکس ادا کرتی ہے اور جب وہ ٹیکس ادا کرتے ہیں تو پھر انہیں بہتر سہولیات کی توقعات کو وابستہ کرنا غلط تو نہیں آخر کب تک بلدی حکام اپنی لاپرواہیوں کے لیے دیگر محکموں کو ذمہ دار ٹھہرائیں گے ۔ شہر حیدرآباد میں 4 تا 5 کیلو میٹر کا سفر طئے کرنے کے لیے آدھے گھنٹے سے زیادہ کا وقت درکار ہے اور مصروف ترین اوقات کو کسی ضرورت کے لیے شہر میں ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل ہونا مشکل ہوگیا ہے ۔ شہری ایسے حالات سے پریشان ہیں اور ارباب مجاز بے فکر ہے ۔ شہر میں ان دنوں ایک ہفتہ سڑک کی تعمیر ہوتی ہے تو دوسری جانب اسی سڑک پر دوسرے ہفتہ کھدوائی کا کام کیا جاتا ہے ۔ سڑکوں پر کھدوائی اور کام کے بعد اس طرح کی لاپرواہی برتی جاتی ہے کہ آیا پھر اس سڑک سے بلدی حکام کو کوئی پرواہ ہی نہیں نتیجہ شہری نہ چاہتے ہوئے بھی راستہ کی تکالیف برداشت کررہے ہیں ۔ بلکہ ٹیکس کی شکل میں رقم ادا کرتے ہوئے بے انتہاء تکالیف کو برداشت کرنا پڑرہا ہے ۔ اس رپورٹ میں شہر کے مصروف ترین علاقہ کا تذکرہ کیا جارہا ہے جو ہر لحاظ سے اہمیت کا حامل علاقہ نامپلی ہے ۔ اس علاقے کی سڑکوں کا برا حال ہے ۔ جاریہ دنوں نمائش کے سبب شام کے اوقات ٹریفک جام عام بات ہے لیکن دن کے ہر لمحہ اس سڑک پر ٹریفک جام کا مسئلہ بن گیا ہے ۔ درگاہ حضرات یوسفینؒ کے احاطہ سے ٹریفک جام کا مسئلہ تاج سرکل چوراہے تک لگا رہا ہے ۔ اس سڑک پر بازار گھاٹ چوراہے کے بعد سے کھدوائی کی گئی اور سفر کو مزید مشکل کردیا گیا اور سڑکوں پر کیبل تاروں کی بھرمار اورایک درخت سے سمٹے ہوئے کیبل کے تار ایسا نظارا پیش کررہا ہے جیسا کہ کسی نمائش یا پھر تقریب کے وقت درختوں کو سجایا جاتا ہے ۔ اس سڑک سے گذرنے والے شہریوں نے بلدی حکام اور ارباب مجاز کے خلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کیا ہے اور ارباب مجاز سے توجہ دینے کی دردمندانہ درخواست کی ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT