Thursday , June 29 2017
Home / کھیل کی خبریں / تیسرے ٹسٹ میں ہندوستان کو مہارت سے شکست دینے کا عزم

تیسرے ٹسٹ میں ہندوستان کو مہارت سے شکست دینے کا عزم

میزبان ٹیم کو سنبھلنے کا موقع دینا غلط ہوگا ۔ آسٹریلیا کے وکٹ کیپر میتھیو ویڈ کا اظہار خیال
رانچی 12 مارچ ( سیاست ڈاٹ کام ) آسٹریلیائی وکٹ کیپر میتھیو ویڈ نے آج کہا کہ ان کی ٹیم تیسرے کرکٹ ٹسٹ میں جارحانہ تیور والی ہندوستانی ٹیم کو صلاحیتوں کے اعتبار سے شکست دے سکے ۔ میتھیو ویڈ نے کہا کہ ہندوستانی ٹیمیں اکثر بہت مشکل ہوتی ہیں ۔ اگر آپ انہیں کوئی بھی موقع دیتے ہیں تو وہ اس کا بھرپور فائدہ اٹھالیتے ہیں۔ ہمارا کام یہ ہوگا کہ انہیں میچ کے دوران سنبھلنے کا موقع نہ ملنے پائے تاکہ وہ جارحانہ تیور اختیار نہ کرسکیں۔ اس کے بعد ہم کوشش کرینگے کہ میچ پر اپنی گرفت پوری طرح سے بنائے رکھیں۔ لیکن یہ کوئی صرف ہمارا اپنا مسئلہ نہیںہے ۔ ہم کواس کیلئے اچھی اور بہتر کرکٹ کھیلنے کی ضرورت ہوگی اور ہمیں انہیں صلاحیتوں کے اعتبار سے شکست دینا ہوگا ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے اور دوسرے ٹسٹ کے مابین ہندوستان کے رویہ میں جو تبدیلی آئی تھی وہ بہت واضح تھی اور یہ آسٹریلیائی ٹیم کیلئے حیران کن بھی رہی تھی ۔ انہوں نے کہا کہ پہلے ٹسٹ میں شکست کے بعد دوسرے ٹسٹ تک ہندوستان نے جو رویہ بدلا ہے وہ ہوسکتا ہے کہ ابتدائی صفمہ کا اثر ہو ۔ یقینی طور پر بنگلورو میں دوسرے ٹسٹ کے تیسرے دن یہ لوگ بہت سخت جذبہ کے ساتھ میدان پر آئے تھے ۔ لیکن ہمیں پہلے سے امید تھی کہ وہ بہت زیادہ جدوجہد کرینگے ۔ انہو ںنے کہا کہ اگر آپ کسی شیر کو پنجرہ میں بند کرتے ہوں تو پھر آپ کو اس کے سخت حملے کیلئے بھی تیار رہنا ہوتا ہے ۔ ہندوستانی ٹیمیں اکثر بہت جارحیت والی رہی ہیں۔ دھونی ‘ ویراٹ کوہلی سے مختلف کپتان تھے لیکن وہ صرف شخصیت کی بات تھی ۔ کھیل کے تعلق سے خود اپنے انداز کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کھیل رہے ہیں جب وہ میدان پر اترتے ہیں۔ آپ کے سامنے اگر مشکل صورتحال رہتی ہے تو آپ کو اس سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ اختیار کرنا پڑتا ہے ۔ ایسے میں وہ سمجھتے ہیں کہ وہ بھی اپنے کھیل میں ایسا ہی کر رہے ہیں۔ ویڈ نے کہا کہ بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ آپ قدرے پرسکون ہوجاتے ہیں وہ سمجھتے ہیں کہ انہیں یہ محسوس ہوجاتا ہے کہ کس وقت اپنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ اس ضرورت کے مطابق کوشش کرتے ہیں۔ ان کے خیال میں وہ ہر موقع پر اپنی 100 فیصد صلاحیتیں نہیں جھونک دیتے بلکہ صورتحال کے مطابق کھیلتے ہیں۔ تاہم جب کبھی پوری صلاحیتوں اور عزم کے ساتھ مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے وہ اس میں کوئی کسر بھی باقی نہیں رکھتے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT