Saturday , May 27 2017
Home / شہر کی خبریں / تیس سال قبل کا موٹر وہیکل ایکٹ عنقریب قصہ پارینہ

تیس سال قبل کا موٹر وہیکل ایکٹ عنقریب قصہ پارینہ

نئے قانون کو حکومت سے منظوری ، سخت اقدامات ، بھاری جرمانوں کی گنجائش
حیدرآباد۔12اپریل (سیاست نیوز) ہندستان میں موجود تین دہائیوں پرانا موٹر وہیکل ایکٹ بہت جلد قصہ پارینہ بننے جا رہا ہے اورحکومت کی جانب سے منظور کئے جانے والے نئے موٹر وہیکل ایکٹ کے بعد حادثات سے محفوظ سفر کی توقع کی جا رہی ہے اور کہا جا رہا ہے کہ سڑکوں کو محفوظ بنانے کیلئے کئے جانے والے اقدامات میں ہر کسی کو اپنا حصہ ادا کرنے کیلئے پابند بنائے جانے کی ضرورت ہے اسی لئے حکومت ہند نے موٹر وہیکل ایکٹ میں بڑی تبدیلیاں لاتے ہوئے نہ صرف بھاری جرمانے عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے بلکہ ان جرمانوں کی ادائیگی اور لائسنس کی تنسیخ کی گنجائش کی فراہمی کو بھی ممکن بنایا ہے۔ حکومت ہند کے نئے موٹر وہیکل ایکٹ کے متعلق کہا جا رہا ہے اس کے ذریعہ نہ صرف حادثات پر کنٹرول ممکن ہوگا بلکہ اس نئے قانون کے ذریعہ ایک نمبر پر دو گاڑیوں کو چلانے کے علاوہ مسروقہ گاڑیوں کے استعمال جیسے جرائم میں بھی نمایاں کمی ریکارڈ کی جائے گی۔ برسراقتدار جماعت نے نئے موٹر وہیکل ایکٹ کو لوک سبھا میں پاس کرواتے ہوئے اسے راجیہ سبھا میں پیش کردیا ہے ااور راجیہ سبھا کی منظوری کے بعد موٹر وہیکل ایکٹ کے مسودہ کو صدر جمہوریہ ہند کے پاس روانہ کیا جائے گاتاکہ اس پر ان کے دستخط حاصل کئے جائیں اور قانون سازی کا عمل مکمل ہو۔ مجوزہ موٹر وہیکل ایکٹ کے مطابق اب لرننگ لائسنس کیلئے ٹرانسپورٹ اتھاریٹی کے دفتر کو جانے کی ضرورت باقی نہیں رہے گی بلکہ آن لائن لرننگ لائسنس حاصل کیا جاسکے گا اور لائسنس کے علاوہ گاڑیوں کے رجسٹریشن کے لئے آدھار کارڈ لازمی ہوجائے گا اس لزوم کے بعد ضبط کردہ لائسنس کی جگہ دوسرا لائسنس بنایا جانا یا پھر مسروقہ گاڑیوں کی منتقلی اور فروخت بھی ممکن نہیں رہے گی۔ نئے قانون میں حالت نشہ میں گاڑی چلانے والو ں کے علاوہ بغیر ہیلمٹ گاڑی چلانے والوں کے خلاف بھاری چالانات کی گنجائش فراہم کی گئی ہے اوراس کے ساتھ ساتھ سڑکوں کی خستہ حالت کی صورت میں غیر محفوظ سفر کیلئے کنٹراکٹر کے خلاف کاروائی اور اسے بھاری جرمانہ عائد کرنے کی گنجائش فراہم کی جا رہی ہے ۔مرکزی وزیر ٹرانسپورٹ مسٹر نتن گڈکری کے بموجب ملک کی سڑکوں پر محفوظ سفر اور حمل و نقل کو یقینی بنانے کیلئے یہ ضروری ہے کہ سڑکوں سے تعلق رکھنے والو ں کو ان کی ذمہ داری کا پابند بنایا جائے۔ اس طرح سڑکوں پر سفر کے دوران حفاظتی تدابیر کے لئے سخت گیر اقدامات کو ممکن بنایا جائے اسی لئے حکومت ہند نے تین دہائیوں قدیم موٹر وہیکل ایکٹ میں بڑی تبدیلیاں لانے کا فیصلہ کیا ہے اور اس فیصلہ کو مختلف گوشوں سے حمایت حاصل ہونے لگی ہے۔نئے موٹر وہیکل ایکٹ کے نفاذ کے بعد سیٹ بیلٹ کے بغیر گاڑی چلانا ‘ حالت نشہ میں گاڑی چلانا ‘ بغیر ہیلمٹ گاڑی چلانا شہریوں پر بھاری مالی بوجھ کا سبب بن جائیگا اورحکومت نے ملک بھر میں ایک سیریز کے لائسنس جاری کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ جعلی لائسنس یا پھر ایک ریاست میں لائسنس کی تنسیخ کے بعد دوسری ریاست سے لائسنس کے حصول کی کوششوں کو ناکام بنایا جاسکے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT