Wednesday , October 18 2017
Home / Top Stories / تیل کی قیمت میں کمی سے عالمی معیشت متزلزل

تیل کی قیمت میں کمی سے عالمی معیشت متزلزل

مزید گراوٹ کا اندیشہ ،روس بری طرح متاثر، کئی ممالک کیلئے پریشان کن صورتحال

چینائی ۔ 12۔ جنوری (سیاست ڈاٹ کام) عالمی معیشت کروڈ تیل کی قیمتوں میں مسلسل گراوٹ کے باعث پھر ایک بار تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی ہے۔ فینانشیل سرویسز فرمس مورگن اسٹینلی کے مطابق تیل کی قیمت 20 ڈالر فی بیارل تک پہنچ گئی ہے اور صورتحال یہ بتاتی ہے کہ قیمت میں مزید گراوٹ آئے گی۔ ایک بیارل تیل 159 لیٹرس کے مساوی ہوتا ہے۔ ایشیاء کی سب سے بڑی معیشت چین نے تیل کی قیمت میں مزید کمی لائی ہے اور یہ صورتحال تیل کی پیداوار والے ممالک جیسے روس، ونیزولا ، نائجیریا اور عراق کیلئے پریشان کن ہوتی جارہی ہے کیونکہ ان ممالک کے غیر ملکی زر مبادلہ ذخائر انتہائی کم ہے ۔ ونیزولا میں دنیا کے سب سے زیادہ تیل کے ذخائر ہے ، لیکن اسے افراط زر کی سنگین صورتحال کا سامنا ہے ۔ روس میں بھی یہی حالات ہیں اور تیل کی قیمت میں جو 2014 ء میں 130 ڈالر فی بیارل تھی، غیر معمولی گراوٹ کے باعث افراط زر کی شرح بڑھتی جارہی ہے۔ یہاں تک کہ حکومت اور سنٹرل بینک کو شرح سود میں کمی کرنی پڑی۔ برازیل کو 2015 ء میں معاشی بحران کا سامنا کرنا پڑا ۔ یہ لاطینی امریکہ میں سب سے بڑی معیشت اور دنیا بھر میں 8 واں مستحکم ملک تھا۔ برازیل میں افراط زر کی شرح 10 فیصد تک چلی گئی تھی ۔ اسی طرح چین میں معاشی کساد بازاری کئی ممالک متاثر کرسکتی ہے، ان میں سے بعض ممالک پہلے ہی معاشی بحران کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں۔ حکومت چین غیر یقینی مارکٹ کو  مستحکم بنانے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے لیکن اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔ امریکی معیشت بھی فی الحال اطمینان بخش نہیں ہے جہاں امریکی حصص اور اسٹاکس میں عالمی  معاشی صورتحال کا واضح اثر دکھائی دیا۔ آسٹریلیا جہاں قدرتی وسائل بہت زیادہ ہیں، اس کے باوجود سرمایہ کاری میں کمی کی وجہ سے بیروزگاری بڑھ رہی ہے۔ تجزیہ نگاروں نے خبردار کیا ہے کہ آسٹریلیا کی معیشت بھی سنگین بحران کا شکار ہوسکتی ہیں۔ اسی طرح اپنے ہی پراڈکٹس پر انحصار کرنے والے ممالک جیسے انڈونیشیا کو بھی مسائل کا سامنا ہے ۔ شمالی کوریا ، لیبیا ، سعودی عرب اور ایران میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی میں اضافہ نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو متزلزل کردیا ہے ۔

معاشی ابتری اور امکانی اثرات
کروڈ تیل کی قیمت میں مسلسل کمی سے جہاں کئی ممالک بحران کا شکار ہوسکتے ہیں ، وہیں چند ایسے ممالک بھی ہیں جو اس صورتحال سے موثر طور پر نمٹنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
امریکہ: موجودہ صورتحال کے امریکہ پر اثرات زیادہ مرتب نہیں ہوں گے کیونکہ وہ شیل آئیل پر انحصار کئے ہوئے ہے۔
سعودی عرب: دنیا کا سب سے بڑا تیل برآمد کنندہ ملک قیمتوں میں جاری کمی کے رجحان سے زیادہ متاثر نہیںہوگا کیونکہ اس کے پاس 700 بلین ڈالر سے زائدغیر ملکی کرنسی ذخائر موجود ہیں۔
خلیجی ممالک: دیگر خلیجی ممالک جیسے یو اے ای اور کویت کے پاس بھی غیر ملکی کرنسی کے ذخائر اس قدر ہے کہ وہ موجودہ خسارہ سے نمٹ سکتے ہیں۔
روس : موجودہ صورتحال سے روس زیادہ متاثر ہے جہاں بجٹ کی نصف آمدنی توانائی کے شعبہ سے حاصل ہوتی ہے اور تقریباً 40 فیصد برآمدات پر اس کا انحصار ہے۔
ہندوستان : قیمتوں میں کمی سے جاری مالیتی خسارہ کم ہوگا اور ایندھن پر سبسیڈی میں بھی 2.5 بلین ڈالرس تک کمی ہوگی۔
ایشیاء : تیل کی قیمت میں کمی سے چین اور جاپان کو جو سب سے زیادہ درآمد کرنے والے ہیں، فائدہ ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT