Thursday , August 24 2017
Home / شہر کی خبریں / تین دن تعطیلات کے بعد بینکس پر طویل قطاریں ‘ اکثریت کو مایوسی کا سامنا

تین دن تعطیلات کے بعد بینکس پر طویل قطاریں ‘ اکثریت کو مایوسی کا سامنا

کئی بینکوں پر اندرون دو گھنٹے No Cash کے بورڈزآویزاں۔ عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے لگا ہے
حیدرآباد۔13ڈسمبر (سیاست نیوز) عوام کی طویل قطاریں تین یوم کی تعطیل کے فوری بعد دوبارہ بینکوں کے سامنے پہنچ گئی لیکن انہیں آج بھی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ بینکوں میں نقد رقومات نہیں پہنچ پائی اور تین یوم کی تعطیل کے بعد بھی بینکرس نے کوئی خاطر خواہ سہولت عوام کو پہنچا نہیں پائے جس کے سبب عوام میں شدید برہمی پائی جاتی ہے۔ دونوں شہرو ںکے کئی بینکوں کے باہر آج اندرون دو گھنٹے ہی ’No Cash‘ کے پوسٹر چسپاں کردیئے گئے جس کی وجہ سے رقومات نکالنے پہنچنے والوں کو کافی مایوسی کا سامنا کرنا پڑا۔حیدرآباد اور سکندرآباد کے علاوہ ریاست کے دیگر مقامات پر بھی یہی صورتحال دیکھی گئی جس کے سبب حالات کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ کرنسی کی تنسیخ کا فیصلہ ہوئے 35یوم گذر جانے کے باوجود عوام کو راحت نہ ملنے اور حوالہ کاروباریوں و دیگر دولتمندوں کے پاس کروڑہا روپئے ضبط کئے جانے کی اطلاعات سے عوام کی برہمی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے کیونکہ کئی گھنٹوں تک قطار میں کھڑے رہنے کے باوجود لوگوں کو دو تا چار ہزار روپئے نہیں مل پا رہے ہیں اور ان لوگوں کو کروڑہا روپئے کس طرح ملنے لگے ہیں۔ قومی ٹیلی ویژن چیانلس پر بنیک ملازمین کے ان دھاندلیوں میں ملوث ہونے کی اطلاعات نے عوام میں جو بے چینی کی کیفیت پیدا کررکھی ہے وہ کسی بھی وقت ناقابل برداشت ہو سکتی ہے کیونکہ ان حالات میں عوام اپنے غصہ کو قابو میں رکھنے کے موقف میں نہیں ہیں۔ تین یوم کی تعطیل کے بعد آج جب بینک کھلے تو بینکوں کے باہر طویل قطاریں دیکھی گئیں لیکن ان قطاروں میں کھڑے لوگوں کے تیور بدلنے لگے ہیں ۔ ان کی برداشت کا مادہ ختم ہو رہا ہے ۔ بینکرس جو سیکیوریٹی حاصل کرکے خدمات انجام دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ عوامی برہمی بے وجہ نہیں ہے لیکن جب انکے پاس بھی نقد رقومات نہیں ہیں تو وہ کیسے رقومات جاری کر پائیں گے۔ دونوں شہرو ںکے علاوہ ریاست کے مختلف مقامات پر بینک قطاروں میں کھڑے عوام کی برہمی انہیں احتجاج کی سمت مائل کرتی جا رہی ہے گذشتہ دنوں اسٹیٹ بینک آف انڈیا ٹولی چوکی شاخ کے قریب کھاتہ داروں نے زبردست ہنگامہ آرائی کرکے بینک کے رویہ کے خلاف احتجاج کیا جس کے نتیجہ میں اس بینک کے کھاتہ داروں کو کچھ راحت حاصل ہوئی ۔ ان اطلاعات کے بعد اب شہر کے دیگر بینکوں کے گاہک اور کھاتہ دار اپنے بینکوں کے قریب پر امن احتجاج کے متعلق چہ میئگوئیاں کرنے لگے ہیں اور بینک کی قطاروں میںکھڑے عوام برہمی کے عالم میں کسی بھی وقت شہر میں راستہ روکو احتجاج کر سکتے ہیں اورریاست کے ہر مقام پر اس طرح کے حالات پیدا ہونے کی صورت میں عوام کو کنٹرول کر پانا مشکل ہی نہیں ناممکن ہو جائے گا کیونکہ عوام کی برہمی اور احتجاج کو غیر درست قرار نہیں دیا جا سکتا اور قطاروں میں ٹھہرے عوام کی صورتحال سے منتخبہ عوامی نمائندوں کی بے اعتنائی انہیں مزید برہم کرتی جا رہی ہے کیونکہ ان کی اس تکلیف میں ان کی رہنمائی کیلئے کوئی آگے آنے تیار نہیں ہے۔ نظم و ضبط کی برقراری پر توجہ دینے والے اداروں کا کہنا ہے کہ عوام جو تکالیف برداشت کررہے ہیں ان تکالیف کے دوران اگر وہ سڑک پر اتر کر احتجاج کرنے لگتے ہیں تو ایسی صورت میں انہیں کوئی قصوروار نہیں ٹھہرایا جا سکتا اور جب بغیر کسی قیادت کے عوامی تحریک یا احتجاج کا آغاز ہوتا ہے تو اس پر کنٹرول کرنا انتہائی دشوار ہوتا ہے اسی لئے حالات پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔ 10تا12ڈسمبر بینک بند رہنے کے بعد جب دوبارہ کھلے اور ان میں عوام کو پیسے نہیں ملے تو عوام نے بینک ملازمین و عہدیداروں پر شدید برہمی کا اظہار کیا اور یہ الزامات عائد کئے جانے لگے ہیں کہ بینک عہدیدار و ملازمین با اثر افراد کو رقم نکالنے کا موقع دے رہے ہیں اور عوام قطاروں میں کھڑے اپنے کھاتہ سے اپنی رقومات نکالنے میں ناکام ہورہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT