Saturday , June 24 2017
Home / ہندوستان / تین طلاق دینے والے شوہر پر دو لاکھ روپئے جرمانہ

تین طلاق دینے والے شوہر پر دو لاکھ روپئے جرمانہ

سنبھل۔12 جون (سیاست ڈاٹ کام) طلاق ثلاثہ میں صنفی مساوات پر جاری بحث کو ایک زبردست دھکہ پہنچاتے ہوئے ایک مقامی پنچایت نے اپنی بیوی کو بیک وقت تین مرتبہ طلاق کہتے ہوئے رشتہ ازدواج سے خارج کرنے والے ایک شخص کو نہ صرف اپنی بیوی کو مہر کی رقم کے طور پر 60,000 روپئے ادا کرنے کی ہدایت کی بلکہ اس پر دو لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔ اترپردیش میں ضلع سنبھل کے رائے ستی علاقہ میں واقع مدرسہ خلیل العلوم میں ترک برادری کی ایک پنچایت نے جس میں 52 گائوں کے ارکان نے شرکت کی تھی، گزشتہ روز یہ فیصلہ کیا گیا۔ اس پچنایت نے دلہن کے خاندان کو دلہے کے گھر سے جہیز واپس دلانے میں بھی مدد کی۔ بیان کیا جاتا ہے کہ 45 سالہ شخص کی 22 سالہ عورت سے شادی ہوئی تھی اور یہ جوڑا بمشکل 10 دن شادی کے بندھن میں بندھا رہا۔ کیوں کہ عورت اور مرد کے درمیان جھگڑا ہوگیا جس میں مرد نے شدید غصہ کی حالت میں اپنی بیوی کو تین مرتبہ طلاق دے دیا اور بعد میں اس کو اپنے میکے کے گائوں چلے جانے کے لیے کہا تھا۔ ترک برادری کی پنچایت کے کوآرڈینیٹر شاہد حسین نے کہا کہ ’’اس واقعہ کے بعد دلہن کا خاندان ترک پنچایت سے رجوع ہوا تھا۔ دونوں فریقوں کے ادعاء جات کی سماعت کے بعد گزشتہ روز فیصلہ کیا گیا۔ بیک وقت تین طلاق دینے کا سخت نوٹ لیتے ہوئے دلہے پر دو لاکھ روپئے کا جرمانہ بھی عائد کیا گیا اور دلہے نے فوری طور پر یہ رقم ادا کردیا۔‘‘ شاہد حسین نے مزید کہا کہ ’’پچنایت دلہن کو دیا گیا جہیز بھی واپس لانے میں مدد کی ہے اور دلہے سے کہا گیا ہے کہ وہ مہر کی رقم کے طور پر دلہن کو 60,000 روپئے ادا کرے۔‘‘ شاہد حسین نے کہا کہ ترک برادری کے ارکان نے فیصلہ کیا ہے کہ کسی بھی صورت میں کسی شخص کو بیک وقت تین مرتبہ طلاق کہنے کی اجازت نہ دی جائے۔ اترپردیش کے ترانی علاقہ میں ترک برادری کی قابل لحاظ آبادی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT