Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / ’’تین طلاق سے مسلم خواتین کی زندگیوں کو برباد ہونے نہیں دیا جائیگا‘‘

’’تین طلاق سے مسلم خواتین کی زندگیوں کو برباد ہونے نہیں دیا جائیگا‘‘

ہندو سماج میں لڑکیوں کی ماقبل تولید ہلاکتوں کی بھی مذمت ، تین طلاق کو ہندومسلم مسئلہ نہ بنانے میڈیا پر زور ، یوپی میں جلسہ عام سے وزیراعظم کا خطاب
مہوبہ ۔ 24 اکتوبر ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم نریندر مودی نے تین طلاق کے مسئلہ پر جاری بحث میں شامل ہوتے ہوئے مسلمانوں میں اس عمل کی مخالفت کی اور اسی سانس میں انھوں نے ہندو معاشرہ میں لڑکیوں کی پیدائش کو روکنے کیلئے مادر رحم میں ہی لڑکیوں کو ہلاک کرنے کے طریقہ کار کی مذمت بھی کی۔ نریندر مودی نے اُترپردیش کے بندیل کھنڈ علاقہ میں ’مہا پریورتن‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’لڑکیوں کو ماقبل پیدائش ہلاک کرنا گناہ ہے۔ خواہ اس کا گنہگار ہندو ہی کیوں نہ ہو ۔ اس عمل کو روکنے کیلئے میری حکومت متعدد اقدامات کی ہے ۔ ماؤں ، بہنوں اور بیٹیوں کا تحفظ کیا جانا چاہئے ۔ کسی کو اس کے مذہب کی بنیاد پر نہیں دیکھا جانا چاہئے ۔ ماؤں اور بہنوں کا احترام کیا جانا چاہئے۔ ہم نے اس مسئلہ کو سختی کے ساتھ اُٹھایا ہے ۔ مودی نے مزید کہا کہ ’’اب طلاق کا مسئلہ اُٹھا ہے جس طرح کوئی ہندو کو کسی بیٹی کو ماقبل تولید ہلاک کرنے پر جیل جانا ہوگا ۔ اس طرح میری مسلم بہنوں نے آخر کیا جرم کیا ہے جنھیں کوئی فون پر بھی طلاق کہہ دیتا ہے تو اس کی ساری زندگی برباد ہوجاتی ہے ‘‘۔ وزیراعظم مودی نے ٹیلی ویژن چینلوں پر زور دیا وہ تین طلاق کے مسئلہ کو ہندو اور مسلمانوں کے درمیان یا پھر بی جے پی یا دیگر جماعتوں کے درمیان کوئی مسئلہ نہ بنائیں۔ مرکزی حکومت نے سپریم کورٹ میں داخل کردہ اپنے حلفنامہ میں واضح طورپر کہا ہے کہ خواتین پر بہرصورت کوئی ظلم نہیں ہونا چاہئے اور مذہب کی بنیاد پر ان کے ساتھ کوئی امتیازی سلوک نہیں ہونا چاہئے ۔ انھوں نے کہاکہ ’’جمہوریت میں کسی مسئلہ پر مذاکرات اور بحث ہونی چاہئے ۔ حکومت بھی اس مسئلہ پر اپنا موقف پیش کرچکی ہے ۔ جو لوگ تین طلاق کے حامی ہیں ملک میں عوام کو اُکسا رہے ہیں لیکن مسلم خواتین کو تین طلاق سے تباہ و برباد ہوجانے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ‘‘۔ وزیراعظم نے اپنی تقریر میں شرکائے جلسہ سے سوال کیا کہ آیا مسلم خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا جانا چاہئے یا نہیں ؟ اور آیا انھیں مساویانہ حقوق دیئے جائیں یا نہیں ؟ وزیراعظم مودی نے کہا کہ ’’مجھے حیرت ہے کہ چند سیاسی جماعتیں محض ووٹوں کی ہوس و لالچ کے سبب 21 ویں صدی میں بھی خواتین کے ساتھ ناانصافی پر بضد ہیں ۔ یہ کیسا انصاف ہے ؟ ‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’سیاست اور انتخابات اپنی جگہ لیکن مسلم خواتین کو دستور کے مطابق حقوق دلانا ملک کے عوام اور حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے‘‘ ۔ وزیراعظم نے میڈیا پر زور دیا کہ وہ تین طلاق کے مسئلہ کو حکومت اور اپوزیشن کے درمیان کوئی مسئہ نہ بنائیں ۔ ’’مسلم طبقہ کے اہل علم کے درمیان اس مسئلہ پر غور و بحث ہونی چاہئے ۔ مسلم طبقہ میں معلومات کے حامل ترقی پسند افراد موجود ہیں ۔ تعلیمیافتہ مسلم خواتین بھی ہیں جو اس مسئلہ پر اپنے نظریات پیش کرسکتی ہیں‘‘۔ انھوں نے کہا کہ ’’ٹی وی پر جب آپ مباحثہ کرتے ہیں تو اس کو ہندو اور مسلمانوں کے درمیان کوئی مسئلہ میں تبدیل نہ کیا جائے ‘‘۔ انھوں نے کہاکہ مباحثہ ان کے درمیان ہونا چاہئے جو مسلم معاشرہ میں تبدیلی چاہتے ہیں اور وہ جو نہیں چاہتے کہ 125 کروڑ ہندوستانیوں کو یہ پتہ چلے آخر تین طلاق کا مسئلہ کیا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT