Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / تین طلاق شادی ختم کرنے کا بدترین طریقہ ، سپریم کورٹ کا تاثر

تین طلاق شادی ختم کرنے کا بدترین طریقہ ، سپریم کورٹ کا تاثر

بعض مکاتب فکر اِسے قانونی ٹھہراتے ہیں۔ طلاق ثلاثہ کا صرف شوہر کو حق بیوی کو نہیں: جیٹھ ملانی۔ سپریم کورٹ میں سماعت جاری

نئی دہلی 12 مئی (سیاست ڈاٹ کام) سپریم کورٹ نے آج کہاکہ مسلمانوں میں تین طلاق کا رواج شادیوں کو توڑنے کی ’’بدترین اور ناپسندیدہ شکل‘‘ ہے، حالانکہ ایسے مکاتب فکر ہیں جو اسے شرعی قرار دیتے ہیں۔ چیف جسٹس جے ایس کھیہر کی سربراہی والی پانچ رکنی دستوری بنچ نے اِس معاملے پر متواتر سماعت کے دوسرے روز کہاکہ ایسے مکاتب فکر ہیں جن کا کہنا ہے کہ طلاق ثلاثہ کی قانونی حیثیت ہے لیکن یہ یہ بدترین اور پسندیدہ شکل نہیں ہے جو مسلمانوں میں شادیوں کو ختم کرنے کے لئے رائج ہے۔ سپریم کورٹ کا یہ تاثر اُس وقت سامنے آیا جب سابق مرکزی وزیر اور سینئر ایڈوکیٹ سلمان خورشید جو اپنی شخصی حیثیت سے عدالت کی اعانت کررہے ہیں، اُنھوں نے بنچ کو بتایا کہ مسئلہ یہ نہیں ہے کہ عدالتی تنقیح کی کہاں ضرورت ہے اور اس کے علاوہ خواتین کو حق ہے کہ نکاح نامہ میں اِس ضمن میں ایک شرط طلاق ثلاثہ قبول نہیں کے الفاظ میں صراحت کرسکتی ہیں۔ عدالت نے خورشید سے کہاکہ اسلامی اور غیر اسلامی ممالک کی ایک فہرست تیار کریں جہاں طلاق ثلاثہ ممنوع ہے۔ اس پر بنچ کو مطلع کیا گیا کہ مختلف ممالک جیسے پاکستان، افغانستان، مراقش اور سعودی عرب شادیوں کو تحلیل کرنے کے طریقہ کی حیثیت سے تین طلاق کی اجازت نہیں دیتے ہیں۔ تین طلاق کی ایک متاثرہ کی پیروی کرتے ہوئے سینئر ایڈوکیٹ رام جیٹھ ملانی اپنے دلائل پیش کرنے میں کھرا کھرا طریقہ اختیار کیا۔ جیٹھ ملانی نے کہاکہ تین طلاق کا حق صرف شوہر کو دستیاب ہے اور بیوی کو نہیں اور یہ دستور کے آرٹیکل 14 (حق مساوات) کے مغائر ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ طلاق دینے کے اِس طریقہ میں بچنے کا کوئی راستہ نہیں۔ شادی کی یکطرفہ منسوخی بالکلیہ ٹھیک نہیں اِس لئے اس سے گریز کیا جانا چاہئے۔ اُنھوں نے مزید کہاکہ طلاق ثلاثہ جنس کی بنیاد پر امتیاز والا عمل ہے اور یہ طریقہ قرآن مقدس کے احکام کے منافی ہے اور اِس کی چاہے کتنی وکالت کرلی جائے، اِس کو حق بجانب نہیں قرار دیا جاسکتا۔ جیٹھ ملانی نے کہاکہ کوئی بھی قانون کسی بیوی کو شوہر کے رحم و کرم پر سابقہ بیوی بننے کی اجازت نہیں دے سکتا اور یہ اعلیٰ تعلیم نوعیت کا غیر دستوری عمل ہوگا۔

مسلم خواتین کی مخالف تحریک کا نتیجہ
بی جے پی کا کوئی رول نہیں: جاؤڈیکر
اس دوران  سپریم کورٹ کے پانچ ججوں کی آئینی بنچ کی طرف سے طلاق ثلاثہ کے حساس معاملے کی سماعت کے موڑ پر آج بی جے پی نے یہ واضح کرنا چاہا کہ تین طلاق کے مروجہ عمل کے خلاف جو مہم چل رہی ہے اس کا جنم متاثرہ کمیونٹی کے اندر ہوا ہے اور اس کا تعلق ایک انتہائی مطلوب معاشرتی اصلاح سے ہے ۔طلاق ثلاثہ کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ معاشرتی اصلاح کا معاملہ ہے ۔ ہم نے اس معاملے میں کچھ نہیں کیا۔ مسلم خواتین ازخود اس عمل کے خلاف سامنے آئی ہیں۔ مرکزی وزیر فروغ انسانی وسائل پرکاش جاؤڈیکر نے آج یہاں یواین آئی کے اردو، ہندی اور انگریزی کے صحافیوں سے ایجنسی کے ہیڈکوارٹرمیں بات چیت کے دوران ان خیالات کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ کی ایک پانچ رکنی آئینی بنچ نے طلاق ثلاثہ اور نکاح حلالہ کے قانونی اور آئینی جواز کو چیلنج کرنے والی عرضیوں کی سماعت شروع کی جس کا آج دوسرا دن تھا ۔ چیف جسٹس جگدیش سنگھ کھیہر کی سربراہی والی اس بنچ نے معاملہ کو بس اس حد تک محدود رکھا ہے کہ آیا طلاق ثلاثہ اور حلالہ کا مذہب سے بنیادی تعلق ہے ۔واضح رہے کہ مرکز نے جہاں طلاق ثلاثہ کے خلاف عدالت عظمیٰ میں ایک حلف نامہ داخل کررکھا ہے وہیں آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے سپریم کورٹ سے کہا ہے کہ طلاق ثلاثہ کے عمل کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہ عدلیہ کے دائرہ اختیار سے باہر ہے ۔

TOPPOPULARRECENT